Muwatta Imam Malik #1613
[1613] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِیدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَیْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَرَجَ إِلَی الشَّامِ، حَتَّی إِذَا کَانَ بِسَرْغَ لَقِیَہُ أُمَرَائُ الأَجْنَادِ، أَبُو عُبَیْدَۃَ بْنُ الْجَرَّاحِ وَأَصْحَابُہُ، فَأَخْبَرُوہُ أَنَّ الْوَبَأَ قَدْ وَقَعَ بِأَرْضِ الشَّامِ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ادْعُ لِی الْمُہَاجِرِینَ الْأَوَّلِینَ۔ فَدَعَاہُمْ فَاسْتَشَارَہُمْ، وَأَخْبَرَہُمْ أَنَّ الْوَبَأَ قَدْ وَقَعَ بِالشَّامِ، فَاخْتَلَفُوا فَقَالَ بَعْضُہُمْ : قَدْ خَرَجْتَ لأَمْرٍ، وَلَا نَرَی أَنْ تَرْجِعَ عَنْہُ۔ وَقَالَ بَعْضُہُمْ : مَعَکَ بَقِیَّۃُ النَّاسِ وَأَصْحَابُ رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ ، وَلَا نَرَی أَنْ تُقْدِمَہُمْ عَلَی ہَذَا الْوَبَإِ۔ فَقَالَ عُمَرُ : ارْتَفِعُوا عَنِّی۔ ثُمَّ قَالَ : ادْعُ لِی الْأَنْصَارَ۔ فَدَعَوْتُہُمْ فَاسْتَشَارَہُمْ، فَسَلَکُوا سَبِیلَ الْمُہَاجِرِینَ وَاخْتَلَفُوا کَاخْتِلَافِہِمْ، فَقَالَ : ارْتَفِعُوا عَنِّی۔ ثُمَّ قَالَ : ادْعُ لِی مَنْ کَانَ ہَا ہُنَا مِنْ مَشْیَخَۃِ قُرَیْشٍ مِنْ مُہَاجِرَۃِ الْفَتْحِ۔ فَدَعَوْتُہُمْ، فَلَمْ یَخْتَلِفْ عَلَیْہِ مِنْہُمُ اثْنَانِ فَقَالُوا : نَرَی أَنْ تَرْجِعَ بِالنَّاسِ وَلَا تُقْدِمَہُمْ عَلَی ہَذَا الْوَبَإِ، فَنَادَی عُمَرُ فِی النَّاسِ : إنِّی مُصْبِحٌ عَلَی ظَہْرٍ فَأَصْبِحُوا عَلَیْہِ۔ فَقَالَ أَبُو عُبَیْدَۃَ : أَفِرَاراً مِنْ قَدَرِ اللّٰہِ ؟ فَقَالَ عُمَرُ : لَوْ غَیْرُکَ قَالَہَا یَا أَبَا عُبَیْدَۃَ، نَعَمْ نَفِرُّ مِنْ قَدَرِ اللّٰہِ إِلَی قَدَرِ اللّٰہِ، أَرَأَیْتَ لَوْ کَانَ لَکَ إِبِلٌ، فَہَبَطَتْ وَادِیاً لَہُ عُدْوَتَانِ، إِحْدَاہُمَا مُخْصِبَۃٌ وَالأُخْرَی جَدْبَۃٌ، أَلَیْسَ إِنْ رَعَیْتَ الْخَصِبَۃَ رَعَیْتَہَا بِقَدَرِ اللّٰہِ، وَإِنْ رَعَیْتَ الْجَدْبَۃَ رَعَیْتَہَا بِقَدَرِ اللّٰہِ، فَجَائَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ - وَکَانَ غَائِباً فِی بَعْضِ حَاجَتِہِ فَقَالَ : إِنَّ عِنْدِی مِنْ ہَذَا عِلْماً, سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ یَقُولُ : إِذَا سَمِعْتُمْ بِہِ بِأَرْضٍ فَلَا تَقْدَمُوا عَلَیْہِ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِہَا، فَلَا تَخْرُجُوا فِرَاراً مِنْہُ قَالَ : فَحَمِدَ اللّٰہَ عُمَرُ، ثُمَّ انْصَرَفَ۔
اردو ترجمہ · Urdu
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ( 17 یا 18ھ میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ میں اپنا نائب مقرر کر کے ) ملک شام کی طرف نکلے ، یہاں تک کہ جب وہ سرغ مقام پر ( پڑاؤ کیے ہوئے ) تھے ( جو کہ وادیٔ تبوک کی ایک بستی یا یرموک کے ساتھ ایک شہر کا نام ہے ) تو ان سے ( اسلامی ) لشکروں کے اُمراء یعنی حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں ( حضرت خالد بن ولید ، حضرت عمرو بن عاص ، حضرت شرحبیل بن حسنہ اور حضرت یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہم ) نے ملاقات کی اور انھیں خبر دی کہ یقیناً ملک شام کی سرزمین پر ( طاعون کی ) وبا واقع ہو چکی ہے ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ( مجھ سے ) فرمایا کہ اولین مہاجرین ( صحابہ رضی اللہ عنہم ) کو میرے پاس بلا لاؤ ۔ چنانچہ انھوں نے ان کو بلایا پھر حضرت عمر نے ان سے مشورہ طلب کیا اور انھیں خبر دی کہ ملک شام میں وباء واقع ہو چکی ہے ۔ ان کا آپس میں اختلاف ہو گیا ، بعض نے ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ) کہا کہ آپ ایک ( اہم اور خاص ) کام کے لیے نکلے ہیں اور ہم یہ ( درست ) خیال نہیں کرتے کہ آپ اس ( کو بیچ ہی میں چھوڑ کر اس ) سے واپس لوٹ جائیں ، اور بعض نے کہا کہ آپ کے ہمراہ باقی ماندہ لوگ ( یعنی نیک پرہیزگار لوگ ) اور رسول اللہ ﷺ کے صحابہ بھی ہیں اور ہم ( یہ مناسب ) نہیں سمجھتے کہ آپ انھیں اس وبا پر لے جائیں ( اور انھیں موت کے منہ میں داخل کر دیں ) … حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آپ سب میرے پاس سے ( فی الحال واپس جانے کے لیے ) اٹھ جائیں ۔ ( حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ) پھر انھوں نے ( مجھ سے ) فرمایا کہ میرے پاس انصار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بلاؤ ۔ چنانچہ میں نے انھیں بلایا تو انھوں نے ان سے بھی مشورہ طلب کیا ، انھوں نے بھی مہاجرین جیسی روش اختیار کی اور انھیں کے اختلاف کی طرح ( رائے کا ) اختلاف کیا ، تو انھوں نے ( اُن سے بھی ) فرمایا : آپ میرے پاس سے اٹھ جائیں ، پھر انھوں نے ( مجھ سے ) فرمایا کہ فتح مکہ کے سال ( فتح ہونے سے پہلے پہلے ) ہجرت کرنے والوں میں سے قریش کے جو بوڑھے لوگ یہاں موجود ہیں ، انھیں میرے پاس بلا لاؤ ، چنانچہ میں نے انھیں بلایا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ان میں سے کوئی سے دو شخصوں کا بھی اختلاف نہ ہوا ۔ ان سب نے ( متفقہ رائے دیتے ہوئے ) کہا کہ ہمارا خیال یہ ہے کہ آپ لوگوں کو واپس لے جائیں اور آپ انھیں اس وبا پر نہ لے جائیں ۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں میں منادی کرا دی کہ بے شک میں سواری پر صبح کرنے والا ہوں ( میں علی الصبح واپسی کا سفر شروع کر دوں گا ) اور تم بھی صبح سفر شروع کرو اور حضرت ابوعبیدہ کہنے لگے کہ کیا آپ اللہ کی تقدیر سے بھاگ رہے ہیں ؟ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے ابوعبیدہ ! اگر تمھارے سوا کوئی اور شخص یہ بات کہتا ( تو بات بنتی ، تمھیں ایسا کہنا زیب نہیں دیتا ) ہاں ، ہم اللہ کی تقدیر سے اللہ ہی کی تقدیر کی طرف بھاگ رہے ہیں ، بھلا یہ تو بتلاؤ کہ اگر تمھارے پاس اونٹ ہوں ، پھر تم ( ان کو لے کر ) ایسی وادی میں اُترو جس کے دو کنارے ہیں ، ان میں سے ایک چارے والا ( سرسبز و شاداب ) ہو اور دوسرا خشک ( اور قحط زدہ ) ہو تو کیا یہ ایسا نہیں ہے کہ اگر تم ( اپنے اونٹوں کو ) سرسبز کنارے میں چراؤ گے تو اللہ ہی کی تقدیر سے چراؤ گے اور اگر تم ( انھیں ) خشک کنارے پر چراؤ گے تو بھی تقدیر الٰہی کے موافق چراؤ گے ( یعنی نفع و نقصان میں سے جس صورت کو بھی ہم اپنے اختیار اور عقل و شعور سے منتخب کریں گے وہ تقدیر الٰہی کے موافق ہو گا کیونکہ اللہ نے وہی کچھ لکھ رکھا ہے جو ہم نے کرنا ہے ۔ اللہ نے اپنے کامل علم غیب کی بنا پر اسے لکھوا لیا تھا ، لہٰذا اب ہم جو کچھ بھی کریں گے وہ تقدیر کے بھی موافق ہو گا ) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : ( اتنے میں ) حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور وہ ( اس سے قبل ) اپنے کسی کام کے سلسلے میں غائب تھے ۔ ( اور مشورے میں موجود نہ تھے ) انھوں نے کہا کہ یقیناً اس مسئلے کے متعلق میرے پاس علم موجود ہے ۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا :’’ جب تم کسی زمین میں اس طاعون ( کے پھیلنے ) کے متعلق سنو تو اس ( جگہ میں اس طاعون ) پر نہ جاؤ اور جب وہ ( طاعون ) کسی زمین میں واقع ہو ، اس حال میں کہ تم وہاں موجود ہو تو پھر اس سے بھاگتے ہوئے نہ نکلو ۔‘‘ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ( یہ سن کر اور اپنے اجتہادی فیصلے کو حدیث مبارکہ کے موافق پا کر ) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ کی حمد بیان کی پھر واپس ( مدینہ کی طرف ) لوٹ گئے ۔