Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 46 · Chapter 520

متفرق مسائل کی کتاب

تقدیر کے متعلق کلام ( کرنے اور بحث ) کرنے سے ممانعت کا بیان

6 hadiths in this chapter

1618

Muwatta Imam Malik #1618

Sahih

[1618] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ أبِی الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أبِی ہُرَیْرَۃَ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : تَحَاجَّ آدَمُ وَمُوسَی، فَحَجَّ آدَمُ مُوسَی، قَالَ لَہُ مُوسَی : أَنْتَ آدَمُ الَّذِی أَغْوَیْتَ النَّاسَ وَأَخْرَجْتَہُمْ مِنَ الْجَنَّۃِ، فَقَالَ لَہُ آدَمُ : أَنْتَ مُوسَی الَّذِی أَعْطَاہُ اللّٰہُ عِلْمَ کُلِّ شَیْئٍ، وَاصْطَفَاہُ عَلَی النَّاسِ بِرِسَالَتِہِ ؟ قَالَ نَعَمْ۔ قَالَ : أَفَتَلُومُنِی عَلَی أَمْرٍ قَدْ قُدِّرَ عَلَیَّ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ حضرت آدم اور حضرت موسیٰ علیہم السلام نے آپس میں ( حجت و دلیل کے ساتھ ) بحث کی تو حضرت آدم علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام پر غالب آ گئے ۔ چنانچہ ( ہوا یوں کہ ) حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا : آپ وہی ( ہمارے والد محترم ) آدم علیہ السلام ہیں ، جنھوں نے لوگوں کو بہکایا اور انھیں جنت سے نکال دیا ( یعنی آپ ہی جنت سے نکلنے کا سبب بنے جس کے نتیجے میں شیطان انسانوں کو گمراہ کرنے لگا ۔ اگر آپ سبب نہ بنتے تو لوگ نہ بہکائے جاتے ) تو حضرت آدم علیہ السلام نے ان سے فرمایا : تم وہی موسیٰ ہو جسے اللہ نے ہر ( مطلوب ) چیز کا علم عطا کیا اور اپنے پیغام ( رسالت ) کے ساتھ تجھے منتخب کیا ؟ انھوں نے کہا کہ جی ہاں تو ( آدم علیہ السلام نے ) فرمایا : تو پھر کیا تم مجھے اس کام پر ملامت کرتے ہو جو میرے پیدا کیے جانے سے پہلے ہی مجھ پر مقدر کر دیا گیا تھا ۔‘‘

1619

Muwatta Imam Malik #1619

Zaeef

[1619] وَحَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أبِی أُنَیْسَۃَ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِیدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَیْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، أَ نَّہُ أَخْبَرَہُ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ یَسَارٍ الْجُہَنِیِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ سُئِلَ عَنْ ہَذِہِ الآیَۃِ : {وَإِذْ أَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِی آدَمَ مِنْ ظُہُورِہِمْ ذُرِّیَّتَہُمْ وَأَشْہَدَہُمْ عَلَی أَنْفُسِہِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوا بَلَی شَہِدْنَا أَنْ تَقُولُوا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ إِنَّا کُنَّا عَنْ ہَذَا غَافِلِینَ} [الأعراف : 172]۔ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ یُسْأَلُ عَنْہَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : إِنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی خَلَقَ آدَمَ، ثُمَّ مَسَحَ ظَہْرَہُ بِیَمِینِہِ، فَاسْتَخْرَجَ مِنْہُ ذُرِّیَّۃً فَقَالَ: خَلَقْتُ ہَؤُلَائِ لِلْجَنَّۃِ، وَبِعَمَلِ أَہْلِ الْجَنَّۃِ یَعْمَلُونَ، ثُمَّ مَسَحَ ظَہْرَہُ فَاسْتَخْرَجَ مِنْہُ ذُرِّیَّۃً فَقَالَ : خَلَقْتُ ہَؤُلَائِ لِلنَّارِ وَبِعَمَلِ أَہْلِ النَّارِ یَعْمَلُونَ فَقَالَ رَجُلٌ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ فَفِیمَ الْعَمَلُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : إِنَّ اللّٰہَ إِذَا خَلَقَ الْعَبْدَ لِلْجَنَّۃِ، اسْتَعْمَلَہُ بِعَمَلِ أَہْلِ الْجَنَّۃِ، حَتَّی یَمُوتَ عَلَی عَمَلٍ مِنْ أَعْمَالِ أَہْلِ الْجَنَّۃِ، فَیُدْخِلَہُ بِہِ الْجَنَّۃَ، وَإِذَا خَلَقَ الْعَبْدَ لِلنَّارِ، اسْتَعْمَلَہُ بِعَمَلِ أَہْلِ النَّارِ، حَتَّی یَمُوتَ عَلَی عَمَلٍ مِنْ أَعْمَالِ أَہْلِ النَّارِ، فَیُدْخِلَہُ بِہِ النَّارَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

مسلم بن یسار جُہنی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اس آیت مبارکہ کے متعلق سوال کیا گیا : {وَاِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِیْٓ اٰدَمَ مِنْ ظُہُوْرِہِمْ ذُرِّیَّــتَہُمْ وَاَشْہَدَہُمْ عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوْا بَلٰی شَہِدْنَا اَنْ تَقُوْلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اِنَّا کُنَّا عَنْ ہٰذَا غٰفِلِیْنَ} ( الاعراف 7 : 172 ) ’’ اور ( اے نبی اس وقت کو یاد کیجیے ) جب آپ کے رب نے بنو آدم کی پشتوں سے ان کی اولاد کو نکالا اور انھیں ان کی جانوں پر گواہ بنایا ( اور پوچھا : ) کیا میں تمھارا رب نہیں ہوں ؟ انھوں نے کہا کہ کیوں نہیں ، ہم ( تیرے رب ہونے کی ) گواہی دیتے ہیں ، ( تو اللہ نے فرمایا کہ یہ گواہی اس لیے لی گئی ہے ) کہ تم قیامت کے دن یہ ( نہ ) کہو کہ بے شک ہم تو اس سے بے خبر تھے ۔‘‘ … تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا تھا ، آپ ﷺ سے اس کے متعلق سوال کیا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یقیناً اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا ، پھر ان کی پشت پر اپنا ہاتھ پھیرا اور اس سے ( ان کی ) کچھ اولاد کو نکالا اور فرمایا : میں نے ان لوگوں کو جنت کے لیے پیدا فرمایا ہے اور وہ اہل جنت ہی کے عمل کریں گے ۔ پھر ( دوبارہ ) اُن کی پشت پر ہاتھ پھیرا اور ان سے کچھ اور اولاد نکالی اور فرمایا کہ میں نے انھیں آگ کے لیے پیدا کیا ہے اور وہ اہل جہنم ہی کے عمل کریں گے ۔‘‘ ایک آدمی کہنے لگا : اے اللہ کے رسول ! ( تو پھر ) عمل کس ( کھاتے اور فائدے ) میں ہیں ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ یقیناً اللہ تعالیٰ جب بندے کو جنت کے لیے پیدا کرتا ہے تو اسے اہل جنت کے عمل کی توفیق دے دیتا ہے ، یہاں تک کہ وہ اہل جنت کے عملوں میں سے کسی عمل پر فوت ہوتا ہے ، پھر اسے اس کی وجہ سے جنت میں داخل فرما دیتا ہے ، اور جب وہ کسی بندے کو آگ کے لیے پیدا کرتا ہے تو اسے آگ والوں کے کام میں لگا دیتا ہے ، یہاں تک کہ وہ اہل جہنم کے عملوں میں سے کسی عمل پر مرتا ہے ، پھر وہ اسے اس کی وجہ سے آگ میں داخل کر دیتا ہے ۔‘‘

1620

Muwatta Imam Malik #1620

Sahih

[1620] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : تَرَکْتُ فِیکُمْ أَمْرَیْنِ، لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَکْتُمْ بِہِمَا : کِتَابَ اللّٰہِ، وَسُنَّۃَ نَبِیِّہِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ بے شک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں نے تم میں دو چیزیں چھوڑ دیں ہیں ، تم جب تک انھیں تھامے رکھو گے ہرگز گمراہ نہ ہو گے ، اللہ کی کتاب اور اس کے نبی ﷺ کی سنت ۔‘‘

1621

Muwatta Imam Malik #1621

Sahih

[1621] وَحَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ زِیَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُوسٍ الْیَمَانِیِّ، أَ نَّہُ قَالَ : أَدْرَکْتُ نَاساً مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ یَقُولُونَ : کُلُّ شَیْئٍ بِقَدَرٍ۔ قَالَ طَاوُوسٌ : وَسَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ یَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : کُلُّ شَیْئٍ بِقَدَرٍ، حَتَّی الْعَجْزِ وَالْکَیْسِ، أَوِ الْکَیْسِ وَالْعَجْزِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

طاؤس یمانی رحمہ اللہ ( جن کا اصل نام ذکوان بن کیسان تھا ) سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کچھ لوگوں کو پایا تھا ، وہ فرمایا کرتے تھے کہ ہر چیز ہی تقدیر کے مطابق ہوتی ہے ۔ طاؤس رحمہ اللہ کہتے ہیں : اور ( بالآخر ) میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو سنا ( جو اس بات کو نبی کریم کی طرف منسوب کرتے ہوئے ) کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہر چیز تقدیر کے ساتھ ( واقع ہو رہی ) ہے یہاں تک کہ عاجزی ( بے بسی ولا چارگی ) بھی اور عقلمندی بھی ۔

1622

Muwatta Imam Malik #1622

Sahih

[1622] وَحَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ زِیَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ، أَ نَّہُ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ الزُّبَیْرِ یَقُولُ فِی خُطْبَتِہِ : إِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الْہَادِی وَالْفَاتِنُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

عمرو بن دینار رحمہ اللہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو سنا وہ اپنے خطبے میں فرما رہے تھے : یقیناً اللہ تعالیٰ ہی ہدایت دینے والا اور فتنے ( اور آزمائش ) میں ڈالنے والا ہے ۔

1623

Muwatta Imam Malik #1623

Sahih

[1623] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَمِّہِ أبِی سُہَیْلِ بْنِ مَالِکٍ، أَ نَّہُ قَالَ : کُنْتُ أَسِیرُ مَعَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ فَقَالَ : مَا رَأْیُکَ فِی ہَؤُلَائِ الْقَدَرِیَّۃِ ؟ فَقُلْتُ : رَأْیِی أَنْ تَسْتَتِیبَہُمْ، فَإِنْ تَابُوا، وَإِلاَّ عَرَضْتَہُمْ عَلَی السَّیْفِ۔ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ : وَذَلِکَ رَأْیِی۔

اردو ترجمہ · Urdu

ابوسہیل بن مالک رحمہ اللہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ وہ ( امیرالمؤمنین ) حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے ساتھ چلے جا رہے تھے کہ انھوں نے ( مجھ سے ) پوچھا : اس قدریہ فرقے کے لوگوں کے متعلق تمھاری کیا رائے ہے ؟ وہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : میری رائے یہ ہے کہ آپ ان سے ( ان کے اس عقیدے سے ) توبہ طلب کریں ، چنانچہ اگر وہ اس ( توبہ و رجوع ) کو قبول کر لیں تو ٹھیک ہے ورنہ آپ انھیں تلوار پر پیش کر دیں ( اور مار ڈالیں ) ۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے فرمایا : اور میری بھی ان کے متعلق یہی رائے ہے ۔