Muwatta Imam Malik #1618
[1618] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ أبِی الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أبِی ہُرَیْرَۃَ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : تَحَاجَّ آدَمُ وَمُوسَی، فَحَجَّ آدَمُ مُوسَی، قَالَ لَہُ مُوسَی : أَنْتَ آدَمُ الَّذِی أَغْوَیْتَ النَّاسَ وَأَخْرَجْتَہُمْ مِنَ الْجَنَّۃِ، فَقَالَ لَہُ آدَمُ : أَنْتَ مُوسَی الَّذِی أَعْطَاہُ اللّٰہُ عِلْمَ کُلِّ شَیْئٍ، وَاصْطَفَاہُ عَلَی النَّاسِ بِرِسَالَتِہِ ؟ قَالَ نَعَمْ۔ قَالَ : أَفَتَلُومُنِی عَلَی أَمْرٍ قَدْ قُدِّرَ عَلَیَّ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ۔
اردو ترجمہ · Urdu
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ حضرت آدم اور حضرت موسیٰ علیہم السلام نے آپس میں ( حجت و دلیل کے ساتھ ) بحث کی تو حضرت آدم علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام پر غالب آ گئے ۔ چنانچہ ( ہوا یوں کہ ) حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا : آپ وہی ( ہمارے والد محترم ) آدم علیہ السلام ہیں ، جنھوں نے لوگوں کو بہکایا اور انھیں جنت سے نکال دیا ( یعنی آپ ہی جنت سے نکلنے کا سبب بنے جس کے نتیجے میں شیطان انسانوں کو گمراہ کرنے لگا ۔ اگر آپ سبب نہ بنتے تو لوگ نہ بہکائے جاتے ) تو حضرت آدم علیہ السلام نے ان سے فرمایا : تم وہی موسیٰ ہو جسے اللہ نے ہر ( مطلوب ) چیز کا علم عطا کیا اور اپنے پیغام ( رسالت ) کے ساتھ تجھے منتخب کیا ؟ انھوں نے کہا کہ جی ہاں تو ( آدم علیہ السلام نے ) فرمایا : تو پھر کیا تم مجھے اس کام پر ملامت کرتے ہو جو میرے پیدا کیے جانے سے پہلے ہی مجھ پر مقدر کر دیا گیا تھا ۔‘‘