Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 46 · Chapter 518

متفرق مسائل کی کتاب

مدینہ منورہ کے متعلق متفرق روایات کا بیان

2 hadiths in this chapter

1611

Muwatta Imam Malik #1611

Sahih

[1611] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ أَبِیہِ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ طَلَعَ لَہُ أُحُدٌ فَقَالَ : ہَذَا جَبَلٌ یُحِبُّنَا وَنُحِبُّہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد ( عروہ بن زبیر رحمہ اللہ ) سے روایت کرتے ہیں : بے شک رسول اللہ ﷺ کے سامنے احد پہاڑ ظاہر ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ وہ پہاڑ ہے جو ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں ۔‘‘

1612

Muwatta Imam Malik #1612

Sahih

[1612] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ : أَنَّ أَسْلَمَ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَخْبَرَہُ، أَ نَّہُ زَارَ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَیَّاشٍ الْمَخْزُومِیَّ, فَرَأَی عِنْدَہُ نَبِیذاً وَہُوَ بِطَرِیقِ مَکَّۃَ، فَقَالَ لَہُ أَسْلَمُ إِنَّ ہَذَا الشَّرَابَ یُحِبُّہُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَحَمَلَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَیَّاشٍ قَدَحاً عَظِیماً، فَجَائَ بِہِ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَوَضَعَہُ فِی یَدَیْہِ، فَقَرَّبَہُ عُمَرُ إِلَی فِیہِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَقَالَ عُمَرُ : إِنَّ ہَذَا لَشَرَابٌ طَیِّبٌ، فَشَرِبَ مِنْہُ، ثُمَّ نَاوَلَہُ رَجُلاً عَنْ یَمِینِہِ۔ فَلَمَّا أَدْبَرَ عَبْدُ اللّٰہِ نَادَاہُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ : أَأَنْتَ الْقَائِلُ لَمَکَّۃُ خَیْرٌ مِنَ الْمَدِینَۃِ ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: فَقُلْتُ : ہِیَ حَرَمُ اللّٰہِ وَأَمْنُہُ، وَفِیہَا بَیْتُہُ۔ فَقَالَ عُمَرُ : لَا أَقُولُ فِی بَیْتِ اللّٰہِ وَلَا فِی حَرَمِہِ شَیْئاً۔، ثُمَّ قَالَ : عُمَرُ أَأَنْتَ الْقَائِلُ لَمَکَّۃُ خَیْرٌ مِنَ الْمَدِینَۃِ ؟ قَالَ : فَقُلْتُ ہِیَ حَرَمُ اللّٰہِ وَأَمْنُہُ، وَفِیہَا بَیْتُہُ۔ فَقَالَ عُمَرُ : لَا أَقُولُ فِی حَرَمِ اللّٰہِ وَلَا فِی بَیْتِہِ شَیْئاً، ثُمَّ انْصَرَفَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

اسلم رحمہ اللہ جو کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں ، سے روایت ہے کہ وہ حضرت عبداللہ بن عیاش مخزومی رضی اللہ عنہ سے ملاقات کے لیے گئے ، انھوں نے ان کے پاس نبیذ ( پانی میں بھگوئی ہوئی کھجوروں یا انگوروں ) کو دیکھا ۔ اس وقت وہ مکہ مکرمہ کے راستے میں تھے تو اسلم رحمہ اللہ نے ان سے کہا : یقیناً یہ وہ مشروب ہے جس سے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ محبت کرتے ہیں ، چنانچہ حضرت عبداللہ بن عیاش رضی اللہ عنہ نے ایک بڑا پیالہ اٹھایا اور اسے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس لا کر ان کے ہاتھ میں رکھ دیا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے منہ کے قریب کیا ، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنا سر بلند کیا اور فرمایا : یہ مشروب ایک پاکیزہ ( و لذیذ ) چیز ہے ، پھر اس میں سے کچھ نوش فرمایا ، پھر اسے اپنی دائیں جانب موجود ایک آدمی کو پکڑا دیا ، پھر جب حضرت عبداللہ ( بن عیاش رضی اللہ عنہ ) واپس مڑے تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انھیں آواز دی اور فرمایا : کیا تم ہی وہ شخص ہو جو کہتے ہو کہ یقیناً مکہ مکرمہ ، مدینہ منورہ سے بہتر ہے ۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا : وہ ( مکہ واقعی افضل ہے کیونکہ وہ ) اللہ کا حرم ہے ، اللہ کی امن والی جگہ ہے اور اس میں اللہ کا گھر ( بیت اللہ ) ہے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں بیت اللہ کے متعلق اور اللہ کے حرم کے متعلق کچھ بھی نہیں کہہ رہا ، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : کیا تم ہی ہو جو یہ کہتے ہو کہ یقیناً مکہ ، مدینہ سے بہتر ہے ۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ( بھی وہی جواب دیتے ہوئے ) کہا کہ وہ اللہ کا حرم ہے ، اس کی امن کی جگہ ہے اور اس میں اس کا گھر ہے ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں حرم اور بیت اللہ کے متعلق کوئی بات نہیں کر رہا ، پھر وہ ( حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ ) چلے گئے ۔