Muwatta Imam Malik #1606
[1606] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ عَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ، أَنَّہَا قَالَتْ : لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ الْمَدِینَۃَ وُعِکَ أَبُو بَکْرٍ وَبِلَالٌ، قَالَتْ: فَدَخَلْتُ عَلَیْہِمَا فَقُلْتُ : یَا أَبَتِ کَیْفَ تَجِدُکَ ؟ وَیَا بِلَالُ کَیْفَ تَجِدُکَ ؟ قَالَتْ : فَکَانَ أَبُو بَکْرٍ إِذَا أَخَذَتْہُ الْحُمَّی یَقُولُ : کُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِیْ أَہْلِہِ وَالْمَوْتُ أَدْنَی مِنْ شِرَاکِ نَعْلِہِ وَکَانَ بِلَالٌ إِذَا أُقْلِعَ عَنْہُ یَرْفَعُ عَقِیرَتَہُ فَیَقُولُ : أَلَا لَیْتَ شِعْرِی ہَلْ أَبْیتَنَّ لَیْلَۃً بِوَادٍ وَحَـوْلِی إِذْخِرٌ وَجَلِیلُ وَہَلْ أَرِدَنْ یَوْمـاً مِیَاہَ مَجِنَّۃٍ وَہَلْ یَبْدُوَنْ لِی شَامَۃٌ وَطَفِیْلُ قَالَتْ عَائِشَۃُ : فَجِئْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ فَأَخْبَرْتُہُ، فَقَالَ : اللَّہُمَّ حَبِّبْ إِلَیْنَا الْمَدِینَۃَ کَحُبِّنَا مَکَّۃَ أَوْ أَشَدَّ، وَصَحِّحْہَا وَبَارِکْ لَنَا فِی صَاعِہَا وَمُدِّہَا، وَانْقُلْ حُمَّاہَا فَاجْعَلْہَا بِالْجُحْفَۃِ۔
اردو ترجمہ · Urdu
سیدہ عائشہ اُم المومنین رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ ( ہجرت کر کے ) مدینہ منورہ تشریف لائے تو حضرت ابوبکر اور حضرت بلال رضی اللہ عنہما بخار میں مبتلا ہو گئے ۔ وہ کہتی ہیں کہ میں ان دونوں کے پاس ( تیمارداری کے لیے ) گئی ، میں نے کہا کہ پیارے ابا جان ! آپ اپنے آپ کو کیسا محسوس کر رہے ہیں ؟ اور اے بلال ! آپ خود کو کیسا پاتے ہیں ؟ فرماتی ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو جب بخار آ لیتا تو وہ کہتے : «کُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِی أَہْلِہِ وَالْمَوْتُ أَدْنَی مِنْ شِرَاکِ نَعْلِہِ» ’’ ہر آدمی کو اپنے گھر والوں میں صبح بخیر کہا جاتا ہے اور ( حالانکہ ) موت اس کے جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ ( اس کے ) قریب ہوتی ہے ۔‘‘ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے جب بخار اُترتا ( اور انھیں افاقہ ہوتا ) تو وہ اپنی آواز بلند کرتے اور ( مکہ مکرمہ کی یاد میں یہ شعر ) کہتے : «أَلاَ لَیْتَ شِعْرِی ہَلْ أَبِیتَنَّ لَیْلَۃً بِوَادٍ وَحَـوْلِی إِذْخِرٌ وَجَلِیلُ وَہَلْ أَرِدَنْ یَوْمـاً مِیَاہَ مَجِنَّۃٍ وَہَلْ یَبْدُوَنْ لِی شَامَۃٌ وَطَفِیلُ» ’’ سنو ، کاش ! مجھے یہ معلوم ہو جاتا کہ کیا میں ( مکہ کی اس ) وادی میں کوئی رات گزار سکوں گا درحالیکہ میرے اردگرد اذخر اور جلیل ( نامی مکہ مکرمہ کی دو قسم کی گھاس ) ہو ، اور کیا میں کسی دن ( مکہ کے قریب ایک جگہ ) مجنَّہ کے چشموں پر وارد ہو سکوں گا اور کیا میرے لیے ( مکہ کے قریب دو پہاڑ یا دو چشمے ) شامہ اور طفیل ظاہر ہو سکیں گے ۔‘‘ ( الغرض وہ مدینہ کی نسبت مکہ کی خوشگوار آب و ہوا اور پرسکون ماحول کو یاد کرتے ۔ ) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : پھر میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ کو اس ( تمام صورتحال ) کی خبر دی تو آپ ﷺ نے ( دعا کرتے ہوئے ) فرمایا :’’ اے اللہ ! مدینہ کو ہمارے لیے اسی طرح محبوب بنا دے جس طرح کہ ہمیں مکہ مکرمہ سے محبت ہے بلکہ اس سے بھی شدید ( محبت عطا فرما ) اور اسے تندرستی والا ( صحت افزا مقام ) بنا ، اور ہمارے لیے اس ( پیارے شہر مدینہ ) کے صاع اور مد ( جیسے ماپنے کے آلوں ) میں برکت نازل فرما ، اور اس کا بخار ( یہاں سے ) منتقل فرما اور اسے جحفہ مقام میں لے جا ۔‘‘