Muwatta Imam Malik #1595
[1595] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ قَطَنِ بْنِ وَہْبِ بْنِ عُمَیْرِ بْنِ الأَجْدَعِ، أَنَّ یُحَنَّسَ مَوْلَی الزُّبَیْرِ بْنِ الْعَوَّامِ أَخْبَرَہُ : أَ نَّہُ کَانَ جَالِساً عِنْدَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ فِی الْفِتْنَۃِ، فَأَتَتْہُ مَوْلَاۃٌ لَہُ تُسَلِّمُ عَلَیْہِ فَقَالَتْ : إنِّی أَرَدْتُ الْخُرُوجَ یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، اشْتَدَّ عَلَیْنَا الزَّمَانُ۔ فَقَالَ لَہَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ : اقْعُدِی لِکَاعُ، فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ یَقُولُ : لَا یَصْبِرُ عَلَی لَأْوَائِہَا وَشِدَّتِہَا أَحَدٌ، إِلاَّ کُنْتُ لَہُ شَفِیعاً أَوْ شَہِیداً یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔
اردو ترجمہ · Urdu
یُحَنَّس رحمہ اللہ جو حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام تھے ، سے روایت ہے کہ وہ ( یزید بن معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور والے ) فتنے کے وقت حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ۔ ( اتنے میں ) ان کی آزاد کردہ لونڈی ان کے پاس آئی اور اس نے انھیں سلام عرض کیا ، پھر وہ ( حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ) کہنے لگی کہ : اے ابوعبدالرحمن ! یقیناً میں نے ( مدینہ منورہ سے ) نکل جانے کا ارادہ کر لیا ہے ، ہم پر زمانہ بہت سخت ہو گیا ہے ( سختیاں ، بھوک اور افلاس نے مدینے میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں ) ، تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : اے نالائق عورت ! ( یہیں مدینہ میں ) بیٹھی رہ کیونکہ بلاشبہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا تھا ، آپ ﷺ فرما رہے تھے :’’ اس ( مدینہ ) کی تنگدستی ( مفلسی ) اور شدت پر جو کوئی بھی صبر کرے گا ، میں قیامت کے دن ضرور ضرور اس کا گواہ یا سفارشی بنوں گا ۔‘‘