Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 46 · Chapter 514

متفرق مسائل کی کتاب

مدینہ منورہ میں رہائش رکھنے اور وہاں سے نکل جانے کا بیان

7 hadiths in this chapter

1595

Muwatta Imam Malik #1595

Sahih

[1595] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ قَطَنِ بْنِ وَہْبِ بْنِ عُمَیْرِ بْنِ الأَجْدَعِ، أَنَّ یُحَنَّسَ مَوْلَی الزُّبَیْرِ بْنِ الْعَوَّامِ أَخْبَرَہُ : أَ نَّہُ کَانَ جَالِساً عِنْدَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ فِی الْفِتْنَۃِ، فَأَتَتْہُ مَوْلَاۃٌ لَہُ تُسَلِّمُ عَلَیْہِ فَقَالَتْ : إنِّی أَرَدْتُ الْخُرُوجَ یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، اشْتَدَّ عَلَیْنَا الزَّمَانُ۔ فَقَالَ لَہَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ : اقْعُدِی لِکَاعُ، فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ یَقُولُ : لَا یَصْبِرُ عَلَی لَأْوَائِہَا وَشِدَّتِہَا أَحَدٌ، إِلاَّ کُنْتُ لَہُ شَفِیعاً أَوْ شَہِیداً یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

یُحَنَّس رحمہ اللہ جو حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام تھے ، سے روایت ہے کہ وہ ( یزید بن معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور والے ) فتنے کے وقت حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ۔ ( اتنے میں ) ان کی آزاد کردہ لونڈی ان کے پاس آئی اور اس نے انھیں سلام عرض کیا ، پھر وہ ( حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ) کہنے لگی کہ : اے ابوعبدالرحمن ! یقیناً میں نے ( مدینہ منورہ سے ) نکل جانے کا ارادہ کر لیا ہے ، ہم پر زمانہ بہت سخت ہو گیا ہے ( سختیاں ، بھوک اور افلاس نے مدینے میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں ) ، تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : اے نالائق عورت ! ( یہیں مدینہ میں ) بیٹھی رہ کیونکہ بلاشبہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا تھا ، آپ ﷺ فرما رہے تھے :’’ اس ( مدینہ ) کی تنگدستی ( مفلسی ) اور شدت پر جو کوئی بھی صبر کرے گا ، میں قیامت کے دن ضرور ضرور اس کا گواہ یا سفارشی بنوں گا ۔‘‘

1596

Muwatta Imam Malik #1596

Sahih

[1596] وَحَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ : أَنَّ أَعْرَابِیًّا بَایَعَ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ عَلَی الإِسْلَامِ، فَأَصَابَ الأَعْرَأبِیَّ وَعْکٌ بِالْمَدِینَۃِ، فَأَتَی رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ أَقِلْنِی بَیْعَتِی۔ فَأَبَی رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ ، ثُمَّ جَائَ ہُ فَقَالَ : أَقِلْنِی بَیْعَتِی۔ فَأَبَی، ثُمَّ جَائَ ہُ فَقَالَ : أَقِلْنِی بَیْعَتِی۔ فَأَبَی فَخَرَجَ الأَعْرَأبِیَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : إِنَّمَا الْمَدِینَۃُ کَالْکِیرِ، تَنْفِی خَبَثَہَا، وَیَنْصَعُ طَیِّبَہَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک ایک اعرابی نے رسول اللہ ﷺ سے اسلام پر بیعت کی ، اعرابی کو مدینہ میں بخار چڑھ گیا تو وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا : اے اللہ کے رسول ! مجھ سے میری بیعت واپس لے لیجیے تو نبی کریم ﷺ نے انکار کر دیا ۔ وہ پھر آپ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میری بیعت فسخ کر دیجیے تو آپ ﷺ نے انکار کر دیا ۔ وہ پھر آپ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میری بیعت توڑ دیجیے تو آپ ﷺ نے انکار ہی فرمایا ۔ چنانچہ وہ اعرابی ( خود ہی مدینہ منورہ سے ) نکل گیا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا :’’ یقیناً مدینہ تو ہے ہی ایک بھٹی کی طرح ، جو اپنی میل کچیل کو نکال دیتا ہے اور اپنی پاکیزہ چیز کو خالص کر دیتا ہے ، ( اور اس کی پاک چیز مزید خالص اور کندن ہو جاتی ہے ) ۔

1597

Muwatta Imam Malik #1597

Sahih

[1597] وَحَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، أَ نَّہُ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْحُبَابِ سَعِیدَ بْنَ یَسَارٍ یَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ یَقُولُ : أُمِرْتُ بِقَرْیَۃٍ تَأْکُلُ الْقُرَی، یَقُولُونَ یَثْرِبُ، وَہِیَ الْمَدِینَۃُ، تَنْفِی النَّاسَ کَمَا یَنْفِی الْکِیرُ خَبَثَ الْحَدِیدِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مجھے ایک ایسی بستی ( کی طرف ہجرت کرنے ) کا حکم دیا گیا جو ( اردگرد کے علاقوں اور ) بستیوں کو کھا جائے گی ( اور ان پر غالب آ جائے گی ) ، لوگ اسے یثرب کہتے ہیں حالانکہ وہ ’’ المدینہ ‘‘ ہے ، وہ ( غیر مخلص ) لوگوں کو یوں نکال دے گی جس طرح کہ بھٹی لوہے کی میل کچیل کو نکال دیتی ہے ۔‘‘

1598

Muwatta Imam Malik #1598

Sahih

[1598] وَحَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : لَا یَخْرُجُ أَحَدٌ مِنَ الْمَدِینَۃِ رَغْبَۃً عَنْہَا إِلاَّ أَبْدَلَہَا اللّٰہُ خَیْراً مِنْہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

ہشام بن عُروہ رحمہ اللہ اپنے والد ( عروہ بن زبیر رحمہ اللہ ) سے روایت کرتے ہیں کہ بلاشبہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو کوئی بھی شخص مدینہ منورہ سے بے رغبتی کرتے ہوئے نکل جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ ضرور اس سے بہتر شخص مدینہ منورہ کو بدلے میں عطا فرما دیتے ہیں ۔

1599

Muwatta Imam Malik #1599

Sahih

[1599] وَحَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ، عَنْ سُفْیَانَ بْنِ أبِی زُہَیْرٍ، أَ نَّہُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ یَقُولُ : تُفْتَحُ الْیَمَنُ فَیَأْتِی قَوْمٌ یَبِسُّونَ فَیَتَحَمَّلُونَ بِأَہْلِیہِمْ وَمَنْ أَطَاعَہُمْ، وَالْمَدِینَۃُ خَیْرٌ لَہُمْ لَوْ کَانُوا یَعْلَمُونَ، وَتُفْتَحُ الشَّامُ فَیَأْتِی قَوْمٌ یَبِسُّونَ فَیَتَحَمَّلُونَ بِأَہْلِیہِمْ وَمَنْ أَطَاعَہُمْ، وَالْمَدِینَۃُ خَیْرٌ لَہُمْ لَوْ کَانُوا یَعْلَمُونَ، وَتُفْتَحُ الْعِرَاقُ فَیَأْتِی قَوْمٌ یَبِسُّونَ فَیَتَحَمَّلُونَ بِأَہْلِیہِمْ وَمَنْ أَطَاعَہُمْ، وَالْمَدِینَۃُ خَیْرٌ لَہُمْ لَوْ کَانُوا یَعْلَمُونَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت سفیان بن ابی زُبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا :’’ یمن فتح ہو جائے گا تو ( اہل مدینہ میں سے کچھ لوگ جو مختلف جگہوں پر مصروف عمل ہوں گے ) وہ اونٹوں کو ہنکاتے ہوئے آئیں گے اور اپنے اہل و عیال اور جو کوئی ان کی بات مانے گا ، کو لے کر ( مدینہ سے یمن کی طرف ) کوچ کر جائیں گے ، حالانکہ مدینہ ان کے لیے بہتر ہو گا ، کاش ! وہ جانتے ہوتے ۔ اور ملک شام فتح ہو گا تو کچھ لوگ جانور ہٹکاتے ہوئے آئیں گے اور اپنے گھر والوں اور جو کوئی ان کی اطاعت کریں گے ، کو لے کر ( مدینہ سے شام کی طرف ) کوچ کر جائیں گے ، حالانکہ مدینہ ان کے لیے بہتر ہو گا ، کاش ! وہ جانتے ہوتے ، اور عراق فتح ہو گا تو کچھ لوگ اونٹوں کو ہٹکاتے ہوئے آئیں گے اور اہل خانہ اور جو کوئی ان کا کہا مانے گا ، کو لے کر ( مدینہ سے عراق ) کوچ کر جائیں گے ، حالانکہ مدینہ ان کے لیے بہتر ہو گا ، کاش ! وہ جانتے ہوتے ۔

1600

Muwatta Imam Malik #1600

Sahih

[1600] وَحَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ حِمَاسٍ، عَنْ عَمِّہِ، عَنْ أبِی ہُرَیْرَۃَ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : لَتُتْرَکَنَّ الْمَدِینَۃُ عَلَی أَحْسَنِ مَا کَانَتْ، حَتَّی یَدْخُلَ الْکَلْبُ أَوِ الذِّئْبُ، فَیُغَذِّی عَلَی بَعْضِ سَوَارِی الْمَسْجِدِ، أَوْ عَلَی الْمِنْبَرِ فَقَالُوا : یَا رَسُولَ اللّٰہِ فَلِمَنْ تَکُونُ الثِّمَارُ ذَلِکَ الزَّمَانَ ؟ قَالَ : لِلْعَوَافِی، الطَّیْرِ وَالسِّبَاعِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ضرور ضرور ( ایسا وقت آئے گا کہ ) مدینہ کو سب سے اچھی حالت جو مدینہ کی کبھی ہوئی ہو گی ، کے باوجود ( اسے ) چھوڑ دیا جائے گا یہاں تک کہ کتا اور بھیڑیا اس میں داخل ہو جائیں گے ، پھر وہ مسجد نبوی کے بعض ستونوں پر یا منبر پر پیشاب کریں گے ۔‘‘ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! اس زمانے کے پھل کس کے لیے ہوں گے ؟ فرمایا :’’ رزق تلاش کرنے والوں یعنی پرندوں اور درندوں کے لیے ۔‘‘

1601

Muwatta Imam Malik #1601

Zaeef

[1601] وَحَدَّثَنِی مَالِکٌ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ حِینَ خَرَجَ مِنَ الْمَدِینَۃِ الْتَفَتَ إِلَیْہَا فَبَکَی، ثُمَّ قَالَ : یَا مُزَاحِمُ أَتَخْشَی أَنْ نَکُونَ مِمَّنْ نَفَتِ الْمَدِینَۃُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ بے شک حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ جب ( ملک شام میں جا کر عہدۂ خلافت سنبھالنے کے لیے ) مدینہ منورہ سے نکلے تو انھوں نے مدینہ منورہ کی طرف مڑ کر دیکھا اور رو پڑے پھر ( اپنے آزاد کردہ غلام مُزاحمِ بن ابی مُزاحم مکی سے کہنے لگے کہ ) اے مُزاحمِ ! کیا تم بھی اس بات سے ڈر رہے ہو کہ کہیں ہم بھی ان لوگوں میں سے ( شمار نہ ) ہوں جنھیں مدینہ منورہ نے نکال دیا ۔