Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 45 · Chapter 512

مشروبات کے مسائل کی کتاب

حرمتِ شراب کے متعلق متفرق احادیث کا بیان

4 hadiths in this chapter

1589

Muwatta Imam Malik #1589

Sahih

[1589] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنِ ابْنِ وَعْلَۃَ الْمِصْرِیِّ : أَ نَّہُ سَأَلَ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَبَّاسٍ عَمَّا یُعْصَرُ مِنَ الْعِنَبِ ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : أَہْدَی رَجُلٌ لِرَسُولِ اللّٰہِ ﷺ رَاوِیَۃَ خَمْرٍ، فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ اللّٰہَ حَرَّمَہَا؟ قَالَ : لَا۔ فَسَارَّہُ رَجُلٌ إِلَی جَنْبِہِ۔ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : بِمَ سَارَرْتَہُ ؟فَقَالَ : أَمَرْتُہُ أَنْ یَبِیعَہَا۔ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : إِنَّ الَّذِی حَرَّمَ شُرْبَہَا حَرَّمَ بَیْعَہَا فَفَتَحَ الرَّجُلُ الْمَزَادَتَیْنِ حَتَّی ذَہَبَ مَا فِیہِمَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

( عبدالرحمن ) ابن و علہ مصری رحمہ اللہ سے روایت ہے ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے اس شیرے ( رس ) کے متعلق پوچھا ، جو انگور سے نچوڑا گیا ہو تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ کو شراب کی ایک مشک ہدیے میں دی تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تمھیں علم نہیں کہ یقیناً اللہ نے اسے حرام قرار دیا ہے ؟‘‘ اس نے کہا کہ نہیں ، تو اس کے پہلو میں ( موجود ) ایک شخص نے ( اس کے کان میں ) چپکے سے اس سے کوئی بات کہی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم نے اس سے کیا خفیہ بات کہی ہے ؟‘‘ وہ ( سرگوشی کرنے والا ) کہنے لگا کہ میں نے اسے حکم دیا تھا کہ اسے بیچ ڈالے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یقیناً وہ ذات جس نے اس کے پینے کو حرام قرار دیا ہے اس نے اس کی خرید و فروخت کو بھی حرام فرما دیا ہے ۔‘‘ چنانچہ اس آدمی نے دونوں مشکیزوں کے منہ کھول دیے یہاں تک کہ ان میں جو کچھ تھا وہ سب بہہ گیا ۔

1590

Muwatta Imam Malik #1590

Sahih

[1590] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أبِی طَلْحَۃَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَ نَّہُ قَالَ : کُنْتُ أَسْقِی أَ بَا عُبَیْدَۃَ بْنَ الْجَرَّاحِ، وَأَ بَا طَلْحَۃَ الْأَنْصَارِیَّ، وَأُ بَیَّ بْنَ کَعْبٍ شَرَاباً مِنْ فَضِیخٍ وَتَمْرٍ، قَالَ : فَجَائَ ہُمْ آتٍ فَقَالَ : إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ۔ فَقَالَ أَبُو طَلْحَۃَ : یَا أَنَسُ قُمْ إِلَی ہَذِہِ الْجِرَارِ فَاکْسِرْہَا۔ قَالَ : فَقُمْتُ إِلَی مِہْرَاسٍ لَنَا فَضَرَبْتُہَا بِأَسْفَلِہِ حَتَّی تَکَسَّرَتْ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوعبیدہ بن جراح ، ( اپنے سوتیلے والد ) حضرت ابوطلحہ انصاری اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو گدّر ( نیم پختہ کھجور ) اور خشک کھجور کی شراب پلا رہا تھا ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ( اتنے میں ) ان کے پاس ایک آنے والا آیا اور کہنے لگا کہ بلاشبہ شراب حرام کی جا چکی ہے تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : انس ! ( شراب کے ) ان مٹکوں کی طرف اٹھو اور انھیں توڑ ڈالو ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے ایک ( وضو کے لیے ) کریدے ہوئے پتھر ( کے برتن ) کی طرف اٹھا اور اُس کے نچلے حصے کے ساتھ مٹکوں کو ضرب لگائی یہاں تک کہ وہ ( سب ) ٹوٹ گئے ۔

1591

Muwatta Imam Malik #1591

Sahih

[1591] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَیْنِ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، أَ نَّہُ أَخْبَرَہُ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِیدٍ الأَنْصَاری : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ حِینَ قَدِمَ الشَّامَ شَکَا إِلَیْہِ أَہْلُ الشَّامِ وَبَائَ الأَرْضِ وَثِقَلَہَا، وَقَالُوا : لَا یُصْلِحُنَا إِلاَّ ہَذَا الشَّرَابُ۔ فَقَالَ : عُمَرُ اشْرَبُوا ہَذَا الْعَسَلَ۔ قَالُوا : لَا یُصْلِحُنَا الْعَسَلُ۔ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الأَرْضِ : ہَلْ لَکَ أَنْ نَجْعَلَ لَکَ مِنْ ہَذَا الشَّرَابِ شَیْئاً لَا یُسْکِرُ ؟ قَالَ : نَعَمْ۔ فَطَبَخُوہُ حَتَّی ذَہَبَ مِنْہُ الثُّلُثَانِ وَبَقِیَ الثُّلُثُ، فَأَتَوْا بِہِ عُمَرَ فَأَدْخَلَ فِیہِ عُمَرُ إِصْبَعَہُ، ثُمَّ رَفَعَ یَدَہُ فَتَبِعَہَا یَتَمَطَّطُ، فَقَالَ : ہَذَا الطِّلَائُ، ہَذَا مِثْلُ طِلَائِ الإِبِلِ۔ فَأَمَرَہُمْ عُمَرُ أَنْ یَشْرَبُوہُ، فَقَالَ لَہُ عُبَادَۃُ بْنُ الصَّامِتِ : أَحْلَلْتَہَا وَاللَّہِ۔ فَقَالَ عُمَرُ : کَلاَّ وَاللّٰہِ، اللَّہُمَّ إنِّی لَا أُحِلُّ لَہُمْ شَیْئاً حَرَّمْتَہُ عَلَیْہِمْ، وَلَا أُحَرِّمُ عَلَیْہِمْ شَیْئاً أَحْلَلْتَہُ لَہُمْ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت محمود بن ولید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جب ملک شام تشریف لائے تو اہل شام نے ان کے سامنے اس زمین کی وبا اور اس ( کی آب و ہوا ) کے ثقیل ہونے کا شکوہ کیا اور انھوں نے بتایا کہ ( اس وبائی علاقے اور ثقیل آب و ہوا کی وجہ سے ) ہمیں اس شراب کے سوا کوئی چیز موافق نہیں آتی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم شہد پیا کرو ۔ وہ کہنے لگے کہ شہد بھی ہمیں موافق نہیں ہے ۔ اہل علاقہ میں سے ایک شخص کہنے لگا کہ آپ اس بات میں رغبت رکھتے ہیں کہ ہم آپ کے لیے اس شراب میں سے کچھ تیار کریں جو نشہ آور نہ ہو ؟ انھوں نے فرمایا : ہاں ۔ چنانچہ انھوں نے اسے پکایا یہاں تک کہ اس کا دو تہائی حصہ ( جل کر ) ختم ہو گیا اور ایک تہائی بچ گیا ۔ پھر وہ اسے لے کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس میں اپنی انگلی داخل کی ، پھر اسے اوپر اٹھایا تو وہ ( طلاء اور شیرہ ) انگلی کے پیچھے لمبا ہوتا چلا گیا ، ( گاڑھا ہونے کی وجہ سے انگلی کی ساتھ اس کی تار اور دھار سی بن گئی ) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ تو طلاء ہے ، یہ تو اونٹوں کے طلاء ( اونٹوں کو ملے جانے والے گندھک کے سیال مادے ) کی طرح ہے ، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انھیں حکم دیا کہ وہ اسے پی لیا کریں تو حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ ان سے کہنے لگے : کیا آپ نے اللہ کی قسم ! ان کے لیے اس ( حرام چیز ) کو حلال قرار دے دیا ؟ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہرگز نہیں ، اللہ کی قسم ! ( پھر دعائیہ انداز میں عرض کرنے لگے کہ ) اے اللہ ! یقیناً میں نے ان کے لیے کوئی ایسی چیز حلال نہیں کی ، جسے تو نے ان پر حرام قرار دیا ہے اور نہ ہی میں نے ان پر کسی ایسی چیز کو حرام کیا ہے جسے تو نے ان کے لیے حلال کیا ہے ۔

1592

Muwatta Imam Malik #1592

Sahih

[1592] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ : أَنَّ رِجَالاً مِنْ أَہْلِ الْعِرَاقِ قَالُوا لَہُ : یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّا نَبْتَاعُ مِنْ ثَمَرِ النَّخْلِ وَالْعِنَبِ فَنَعْصِرُہُ خَمْراً فَنَبِیعُہَا۔ فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ : إنِّی أُشْہِدُ اللّٰہَ عَلَیْکُمْ وَمَلَائِکَتَہُ وَمَنْ سَمِعَ مِنَ الْجِنِّ وَالإِنْسِ، إنِّی لَا آمُرُکُمْ أَنْ تَبِیعُوہَا، وَلَا تَبْتَاعُوہَا، وَلَا تَعْصِرُوہَا، وَلَا تَشْرَبُوہَا، وَلَا تَسْقُوہَا، فَإِنَّہَا رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّیْطَانِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اہل عراق میں سے کچھ لوگوں نے ان سے کہا : اے ابوعبدالرحمن ! بے شک ہم کھجوروں اور انگوروں کے پھل خریدتے ہیں ، پھر ہم ان سے شراب کشید کر کے اسے بیچ دیتے ہیں ، تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یقیناً میں اللہ کو ، اس کے فرشتوں اور ان تمام جنوں اور انسانوں کو جو ( میری بات ) سن رہے ہیں ، گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ بلاشبہ میں نے تمھیں یہ حکم نہیں دیا کہ اسے بیچو اور اسے خریدو اور اسے کشید کرو اور اسے پیو اور اسے پلاؤ ۔ یقیناً یہ شراب گند ہے ( اوراس کا استعمال ) شیطان کے کام میں سے ہے ۔