Muwatta Imam Malik #1589
[1589] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنِ ابْنِ وَعْلَۃَ الْمِصْرِیِّ : أَ نَّہُ سَأَلَ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَبَّاسٍ عَمَّا یُعْصَرُ مِنَ الْعِنَبِ ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : أَہْدَی رَجُلٌ لِرَسُولِ اللّٰہِ ﷺ رَاوِیَۃَ خَمْرٍ، فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ اللّٰہَ حَرَّمَہَا؟ قَالَ : لَا۔ فَسَارَّہُ رَجُلٌ إِلَی جَنْبِہِ۔ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : بِمَ سَارَرْتَہُ ؟فَقَالَ : أَمَرْتُہُ أَنْ یَبِیعَہَا۔ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : إِنَّ الَّذِی حَرَّمَ شُرْبَہَا حَرَّمَ بَیْعَہَا فَفَتَحَ الرَّجُلُ الْمَزَادَتَیْنِ حَتَّی ذَہَبَ مَا فِیہِمَا۔
اردو ترجمہ · Urdu
( عبدالرحمن ) ابن و علہ مصری رحمہ اللہ سے روایت ہے ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے اس شیرے ( رس ) کے متعلق پوچھا ، جو انگور سے نچوڑا گیا ہو تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ کو شراب کی ایک مشک ہدیے میں دی تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تمھیں علم نہیں کہ یقیناً اللہ نے اسے حرام قرار دیا ہے ؟‘‘ اس نے کہا کہ نہیں ، تو اس کے پہلو میں ( موجود ) ایک شخص نے ( اس کے کان میں ) چپکے سے اس سے کوئی بات کہی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم نے اس سے کیا خفیہ بات کہی ہے ؟‘‘ وہ ( سرگوشی کرنے والا ) کہنے لگا کہ میں نے اسے حکم دیا تھا کہ اسے بیچ ڈالے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یقیناً وہ ذات جس نے اس کے پینے کو حرام قرار دیا ہے اس نے اس کی خرید و فروخت کو بھی حرام فرما دیا ہے ۔‘‘ چنانچہ اس آدمی نے دونوں مشکیزوں کے منہ کھول دیے یہاں تک کہ ان میں جو کچھ تھا وہ سب بہہ گیا ۔