Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 44 · Chapter 507

چوری کے متعلق مسائل کی کتاب

ان صورتوں کا بیان جن میں ہاتھ کاٹنے کی سزا نہیں ہے

4 hadiths in this chapter

1574

Muwatta Imam Malik #1574

Sahih

[1574] وَحَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ : أَنَّ عَبْداً سَرَقَ وَدِیًّا مِنْ حَائِطِ رَجُلٍ، فَغَرَسَہُ فِی حَائِطِ سَیِّدِہِ، فَخَرَجَ صَاحِبُ الْوَدِیِّ یَلْتَمِسُ وَدِیَّہُ، فَوَجَدَہُ فَاسْتَعْدَی عَلَی الْعَبْدِ مَرْوَانَ بْنَ الْحَکَمِ، فَسَجَنَ مَرْوَانُ الْعَبْدَ وَأَرَادَ قَطْعَ یَدِہِ، فَانْطَلَقَ سَیِّدُ الْعَبْدِ إِلَی رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ فَسَأَلَہُ عَنْ ذَلِکَ، فَأَخْبَرَہُ أَ نَّہُ سَمِعَ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ یَقُولُ: لَا قَطْعَ فِی ثَمَرٍ وَلَا کَثَرٍ۔ وَالْکَثَرُ : الْجُمَّارُ۔ فَقَالَ الرَّجُلُ : فَإِنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَکَمِ أَخَذَ غُلَامًا لِی وَہُوَ یُرِیدُ قَطْعَہُ، وَأَنَا أُحِبُّ أَنْ تَمْشِیَ مَعِی إِلَیْہِ فَتُخْبِرَہُ بِالَّذِی سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ ۔ فَمَشَی مَعَہُ رَافِعٌ إِلَی مَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ, فَقَالَ : أَخَذْتَ غُلَاماً لِہَذَا؟ فَقَالَ : نَعَمْ۔ فَقَالَ: فَمَا أَنْتَ صَانِعٌ بِہِ ؟ قَالَ : أَرَدْتُ قَطْعَ یَدِہِ۔ فَقَالَ لَہُ رَافِعٌ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ یَقُولُ : لَا قَطْعَ فِی ثَمَرٍ وَلَا کَثَرٍ ۔ فَأَمَرَ مَرْوَانُ بِالْعَبْدِ فَأُرْسِلَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

محمد بن یحیی بن حبان رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک ایک غلام نے کسی آدمی کے باغ سے کھجور کا چھوٹا سا پودا چرا لیا اور اسے اپنے آقا کے باغ میں لگا دیا ۔ اس پودے والا شخص اسے تلاش کرتا ہوا نکلا تو اس نے اسے پا لیا ۔ چنانچہ اس نے غلام کے خلاف مروان بن حکم ( جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے مدینہ کے امیر تھے ) سے مدد چاہی ، مروان بن حکم رحمہ اللہ نے غلام کو قید میں ڈال دیا اور چاہا کہ اس کا ہاتھ کاٹ ڈالے ، تو اس غلام کا آقا حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی طرف گیا اور اس نے ان سے اس بارے میں پوچھا تو انھوں نے اسے خبر دی کہ یقیناً انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا :’’ نہ تو ’’ ثَمَر ‘‘ ( کھجور پر موجود پھل ) میں ہاتھ کاٹنے کی سزا ہے اور نہ ’’ کَثَر ‘‘ میں ۔‘‘ اور کثر سے مراد کھجور کی چربی ( اور گودا ) ہے ۔ وہ آدمی کہنے لگا : یقیناً مروان بن حکم نے میرا غلام پکڑ رکھا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹنے کا ارادہ رکھتا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے ہمراہ اس کے پاس چلیں اور اسے اس ( حدیث ) کی خبر دیں جو کہ آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے ، چنانچہ حضرت رافع رضی اللہ عنہ اس کے ہمراہ مروان بن حکم کی طرف چل پڑے اور ( جا کر مروان بن حکم سے ) پوچھا : کیا تم نے اس آدمی کا غلام پکڑا ہوا ہے ؟ انھوں نے کہا کہ : جی ہاں ۔ پھر انھوں نے کہا کہ : تم اس کے ساتھ کیا سلوک کرنے والے ہو ؟ انھوں نے کہا کہ میں اس کا ہاتھ کاٹ دینے کا ارادہ رکھتا ہوں ، تو حضرت رافع رضی اللہ عنہ اس سے کہنے لگے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا تھا کہ آپ ﷺ فرما رہے تھے :’’ نہ پھل میں ہاتھ کاٹنے کی سزا ہے اور نہ کھجور کی چربی میں ۔‘‘ چنانچہ مروان نے اس غلام کے متعلق حکم دیا ، تو اسے چھوڑ دیا گیا ۔

1575

Muwatta Imam Malik #1575

Sahih

[1575] حَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیدَ : أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْحَضْرَمِیِّ جَائَ بِغُلَامٍ لَہُ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ لَہُ: اقْطَعْ یَدَ غُلَامِی ہَذَا، فَإِنَّہُ سَرَقَ۔ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ : مَاذَا سَرَقَ ؟ فَقَالَ : سَرَقَ مِرْآۃً لاِمْرَأَتِی ثَمَنُہَا سِتُّونَ دِرْہَماً۔ فَقَالَ عُمَرُ : أَرْسِلْہُ، فَلَیْسَ عَلَیْہِ قَطْعٌ، خَادِمُکُمْ سَرَقَ مَتَاعَکُمْ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ ( جو مدینہ میں فوت ہونے والے آخری صحابی تھے ) سے روایت ہے کہ بے شک حضرت عبداللہ بن عمرو بن ( عبداللہ ) حضرمی رضی اللہ عنہ اپنے غلام کو لے کر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے کہا : میرے اس غلام کا ہاتھ کاٹ دیجیے کیونکہ یقیناً اس نے چوری کی ہے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ اس نے کیا چرایا ہے ؟ وہ کہنے لگے : اس نے میری بیوی کا وہ آئینہ چرایا ہے جس کی قیمت ساٹھ درہم ہے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اسے چھوڑ دو ، اس پر ہاتھ کاٹنے کی سزا نہیں ہے ۔ ( یہ ) تمھارا خادم ( ہی ہے جس ) نے تمھارا سامان چرایا ہے ۔

1576

Muwatta Imam Malik #1576

Zaeef

[1576] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ : أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَکَمِ أُتِیَ بِإِنْسَانٍ قَدِ اخْتَلَسَ مَتَاعاً، فَأَرَادَ قَطْعَ یَدِہِ، فَأَرْسَلَ إِلَی زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ یَسْأَلُہُ عَنْ ذَلِکَ, فَقَالَ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ : لَیْسَ فِی الْخُلْسَۃِ قَطْعٌ۔

اردو ترجمہ · Urdu

ابن شہاب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک مروان بن حکم کے پاس ایک شخص لایا گیا جس نے کوئی سامان اُچک لیا ( جھپٹ کر چھینا اور بھاگ گیا ) ، چنانچہ انھوں نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا ارادہ کیا تو حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا ، وہ ان سے اس کے متعلق سوال کر رہے تھے تو حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اچانک اچک لی جانے والی چیز میں ہاتھ کاٹنے کی سزا نہیں ہے ۔

1577

Muwatta Imam Malik #1577

Sahih

[1577] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، أَ نَّہُ قَالَ : أَخْبَرَنِی أَبُو بَکْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ : أَ نَّہُ أَخَذَ نَبَطِیًّا قَدْ سَرَقَ خَوَاتِمَ مِنْ حَدِیدٍ فَحَبَسَہُ لِیَقْطَعَ یَدَہُ، فَأَرْسَلَتْ إِلَیْہِ عَمْرَۃُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَاۃً لَہَا یَقُالُ لَہَا أُمَیَّۃُ، قَالَ أَبُو بَکْرٍ, فَجَائَ تْنِی وَأَنَا بَیْنَ ظَہْرَانَی النَّاسِ فَقَالَتْ : تَقُولُ لَکَ خَالَتُکَ عَمْرَۃُ : یَا ابْنَ أُخْتِی أَخَذْتَ نَبَطِیًّا فِی شَیْئٍ یَسِیرٍ ذُکِرَ لِی، فَأَرَدْتَ قَطْعَ یَدِہِ ؟ قُلْتُ: نَعَمْ۔ قَالَتْ : فَإِنَّ عَمْرَۃَ تَقُولُ لَکَ : لَا قَطْعَ إِلاَّ فِی رُبُعِ دِینَارٍ فَصَاعِداً۔ قَالَ أَبُو بَکْرٍ : فَأَرْسَلْتُ النَّبَطِیَّ۔

اردو ترجمہ · Urdu

( مدینہ منورہ کے قاضی ) ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انھوں نے ایک نبطی کو پکڑ لیا ، جس نے لوہے کی کچھ انگوٹھیاں چوری کی تھیں ۔ انھوں نے اسے قید میں ڈال دیا تاکہ اس کا ہاتھ کاٹ دیں تو عمرہ بنت عبدالرحمن نے اپنی آزاد کردہ لونڈی جسے اُمیہ کہا جاتا تھا ، کو ان کی طرف بھیجا ۔ ابوبکر بن محمد رحمہ اللہ کہتے ہیں : وہ میرے پاس آئی اس حال میں کہ میں لوگوں کے درمیان بیٹھا ہوا تھا ، وہ کہنے لگی کہ آپ کی خالہ عمرہ آپ سے کہتی ہیں کہ اے میرے بھانجے ! تم نے ایک نبطی کو پکڑ رکھا ہے ( اور وہ بھی ) ایک تھوڑی سی چیز ( کی چوری ) میں جو کہ میرے سامنے ذکر کی گئی ہے ، پھر ( کیا ) تم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا ارادہ بھی کر لیا ہے ؟ ( ابوبکر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ) میں نے جواب دیا کہ جی ہاں ، تو وہ کہنے لگی : بے شک عمرہ آپ سے کہتی ہیں کہ ہاتھ کاٹنے کی سزا ( لاگوہی ) نہیں ہوتی مگر چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ ( کی چوری ) میں ، ابوبکر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ( یہ سنا تو ) میں نے نبطی کو چھوڑ دیا ۔