Muwatta Imam Malik #1574
[1574] وَحَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ : أَنَّ عَبْداً سَرَقَ وَدِیًّا مِنْ حَائِطِ رَجُلٍ، فَغَرَسَہُ فِی حَائِطِ سَیِّدِہِ، فَخَرَجَ صَاحِبُ الْوَدِیِّ یَلْتَمِسُ وَدِیَّہُ، فَوَجَدَہُ فَاسْتَعْدَی عَلَی الْعَبْدِ مَرْوَانَ بْنَ الْحَکَمِ، فَسَجَنَ مَرْوَانُ الْعَبْدَ وَأَرَادَ قَطْعَ یَدِہِ، فَانْطَلَقَ سَیِّدُ الْعَبْدِ إِلَی رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ فَسَأَلَہُ عَنْ ذَلِکَ، فَأَخْبَرَہُ أَ نَّہُ سَمِعَ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ یَقُولُ: لَا قَطْعَ فِی ثَمَرٍ وَلَا کَثَرٍ۔ وَالْکَثَرُ : الْجُمَّارُ۔ فَقَالَ الرَّجُلُ : فَإِنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَکَمِ أَخَذَ غُلَامًا لِی وَہُوَ یُرِیدُ قَطْعَہُ، وَأَنَا أُحِبُّ أَنْ تَمْشِیَ مَعِی إِلَیْہِ فَتُخْبِرَہُ بِالَّذِی سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ ۔ فَمَشَی مَعَہُ رَافِعٌ إِلَی مَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ, فَقَالَ : أَخَذْتَ غُلَاماً لِہَذَا؟ فَقَالَ : نَعَمْ۔ فَقَالَ: فَمَا أَنْتَ صَانِعٌ بِہِ ؟ قَالَ : أَرَدْتُ قَطْعَ یَدِہِ۔ فَقَالَ لَہُ رَافِعٌ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ یَقُولُ : لَا قَطْعَ فِی ثَمَرٍ وَلَا کَثَرٍ ۔ فَأَمَرَ مَرْوَانُ بِالْعَبْدِ فَأُرْسِلَ۔
اردو ترجمہ · Urdu
محمد بن یحیی بن حبان رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک ایک غلام نے کسی آدمی کے باغ سے کھجور کا چھوٹا سا پودا چرا لیا اور اسے اپنے آقا کے باغ میں لگا دیا ۔ اس پودے والا شخص اسے تلاش کرتا ہوا نکلا تو اس نے اسے پا لیا ۔ چنانچہ اس نے غلام کے خلاف مروان بن حکم ( جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے مدینہ کے امیر تھے ) سے مدد چاہی ، مروان بن حکم رحمہ اللہ نے غلام کو قید میں ڈال دیا اور چاہا کہ اس کا ہاتھ کاٹ ڈالے ، تو اس غلام کا آقا حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی طرف گیا اور اس نے ان سے اس بارے میں پوچھا تو انھوں نے اسے خبر دی کہ یقیناً انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا :’’ نہ تو ’’ ثَمَر ‘‘ ( کھجور پر موجود پھل ) میں ہاتھ کاٹنے کی سزا ہے اور نہ ’’ کَثَر ‘‘ میں ۔‘‘ اور کثر سے مراد کھجور کی چربی ( اور گودا ) ہے ۔ وہ آدمی کہنے لگا : یقیناً مروان بن حکم نے میرا غلام پکڑ رکھا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹنے کا ارادہ رکھتا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے ہمراہ اس کے پاس چلیں اور اسے اس ( حدیث ) کی خبر دیں جو کہ آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے ، چنانچہ حضرت رافع رضی اللہ عنہ اس کے ہمراہ مروان بن حکم کی طرف چل پڑے اور ( جا کر مروان بن حکم سے ) پوچھا : کیا تم نے اس آدمی کا غلام پکڑا ہوا ہے ؟ انھوں نے کہا کہ : جی ہاں ۔ پھر انھوں نے کہا کہ : تم اس کے ساتھ کیا سلوک کرنے والے ہو ؟ انھوں نے کہا کہ میں اس کا ہاتھ کاٹ دینے کا ارادہ رکھتا ہوں ، تو حضرت رافع رضی اللہ عنہ اس سے کہنے لگے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا تھا کہ آپ ﷺ فرما رہے تھے :’’ نہ پھل میں ہاتھ کاٹنے کی سزا ہے اور نہ کھجور کی چربی میں ۔‘‘ چنانچہ مروان نے اس غلام کے متعلق حکم دیا ، تو اسے چھوڑ دیا گیا ۔