Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 44 · Chapter 506

چوری کے متعلق مسائل کی کتاب

ہاتھ کاٹنے کے متعلق مختلف مسائل کا بیان

2 hadiths in this chapter

1572

Muwatta Imam Malik #1572

Zaeef

[1572] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِیہِ: أَنَّ رَجُلاً مِنْ أَہْلِ الْیَمَنِ أَقْطَعَ الْیَدِ وَالرِّجْلِ قَدِمَ، فَنَزَلَ عَلَی أبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ، فَشَکَا إِلَیْہِ أَنَّ عَامِلَ الْیَمَنِ قَدْ ظَلَمَہُ، فَکَانَ یُصَلِّی مِنَ اللَّیْلِ، فَیَقُولُ أَبُو بَکْرٍ : وَأَبِیکَ, مَا لَیْلُکَ بِلَیْلِ سَارِقٍ۔ ثُمَّ إِنَّہُمْ فَقَدُوا عِقْداً لأَسْمَائَ بِنْتِ عُمَیْسٍ امْرَأَۃِ أبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ, فَجَعَلَ الرَّجُلُ یَطُوفُ مَعَہُمْ وَیَقُولُ : اللَّہُمَّ عَلَیْکَ بِمَنْ بَیَّتَ أَہْلَ ہَذَا الْبَیْتِ الصَّالِحِ۔ فَوَجَدُوا الْحُلِیَّ عِنْدَ صَائِغٍ، زَعَمَ أَنَّ الأَقْطَعَ جَائَ ہُ بِہِ، فَاعْتَرَفَ بِہِ الأَقْطَعُ, أَوْ شُہِدَ عَلَیْہِ بِہِ، فَأَمَرَ بِہِ أَبُو بَکْرٍ الصِّدِّیقُ فَقُطِعَتْ یَدُہُ الْیُسْرَی، وَقَالَ أَبُو بَکْرٍ : وَاللّٰہِ لَدُعَاؤُہُ عَلَی نَفْسِہِ أَشَدُّ عِنْدِی عَلَیْہِ مِنْ سَرِقَتِہِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

عبدالرحمن بن قاسم رحمہ اللہ اپنے والد ( قاسم بن محمد بن ابی بکر رحمہ اللہ ) سے روایت کرتے ہیں کہ بے شک اہل یمن میں سے ایک آدمی جس کا ( دایاں ) ہاتھ اور ( بایاں ) پاؤں ( چوری کے جرم میں ) کٹے ہوئے تھے ، ( مدینہ منورہ میں ) آیا ۔ اس نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس پڑاؤ کیا اور ان سے شکایت کی کہ یمن کے عامل ( گورنر ) نے اس پر ظلم کیا ہے ۔ وہ آدمی رات میں ( تہجد کی ) نماز ادا کیا کرتا تھا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ فرماتے : تیرے باپ کی قسم ! تیری رات کسی چور کی رات نہیں ہو سکتی ( چور تو ایسا نہیں کرتے ) ، پھر بلاشبہ لوگوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اہلیہ محترمہ سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کا ہار گم پایا ۔ وہ آدمی بھی لوگوں کے ساتھ ( ہار کی تلاش میں ) چلنے لگا اور کہنے لگا : اے اللہ ! اس شخص کو پکڑ لے ( اور تباہ کر دے ) جس نے اس نیک گھر والوں پر شب خون مارا ہے ( اور ان کا ہار چرایا ہے ) ۔ پھر لوگوں نے اس ( گم شدہ ) زیور کو ایک سنار کے پاس پا لیا ، اس ( سنار ) نے کہا کہ ایک ہاتھ پاؤں کٹا شخص اسے اس کے پاس لایا تھا ۔ چنانچہ اس لنجے ( ہاتھ پاؤں کٹے ) شخص نے اس کا اعتراف کر لیا ، یا اس کی گواہی قائم ہو گئی تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس کے متعلق حکم دیا ، سو اس کا بایاں ہاتھ بھی کاٹ دیا گیا ، اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میرے نزدیک اس کی اپنے خلاف بددعا اس کی چوری سے بھی زیادہ سخت ہے ۔

1573

Muwatta Imam Malik #1573

Sahih

[1573] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، أَنَّ أَبَا الزِّنَادِ أَخْبَرَہُ : أَنَّ عَامِلاً لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ أَخَذَ نَاساً فِی حِرَابَۃٍ وَلَمْ یَقْتُلُوا أَحَداً، فَأَرَادَ أَنْ یَقْطَعَ أَیْدِیَہُمْ، أَوْ یَقْتُلَ، فَکَتَبَ إِلَی عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ فِی ذَلِکَ، فَکَتَبَ إِلَیْہِ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ لَوْ أَخَذْتَ بِأَیْسَرِ ذَلِکَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

ابوالزناد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بلاشبہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے ایک عامل نے کچھ لوگوں کو محاربہ ( ڈکیتی یا فساد کے جرم ) میں گرفتار کر لیا ، انھوں نے کسی کو قتل نہ کیا تھا ۔ اس ( عامل ) نے چاہا کہ ان کے ہاتھ کاٹ ڈالے یا انھیں مار ڈالے ، پھر اس نے حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی طرف اس بارے میں لکھا تو حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اس کی طرف ( جواب میں ) لکھا : اگر تم اس سے ہلکی سزا کے ساتھ مؤاخذہ کر لو ( تو یہ زیادہ بہتر ہے ) ۔