Muwatta Imam Malik #1572
[1572] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِیہِ: أَنَّ رَجُلاً مِنْ أَہْلِ الْیَمَنِ أَقْطَعَ الْیَدِ وَالرِّجْلِ قَدِمَ، فَنَزَلَ عَلَی أبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ، فَشَکَا إِلَیْہِ أَنَّ عَامِلَ الْیَمَنِ قَدْ ظَلَمَہُ، فَکَانَ یُصَلِّی مِنَ اللَّیْلِ، فَیَقُولُ أَبُو بَکْرٍ : وَأَبِیکَ, مَا لَیْلُکَ بِلَیْلِ سَارِقٍ۔ ثُمَّ إِنَّہُمْ فَقَدُوا عِقْداً لأَسْمَائَ بِنْتِ عُمَیْسٍ امْرَأَۃِ أبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ, فَجَعَلَ الرَّجُلُ یَطُوفُ مَعَہُمْ وَیَقُولُ : اللَّہُمَّ عَلَیْکَ بِمَنْ بَیَّتَ أَہْلَ ہَذَا الْبَیْتِ الصَّالِحِ۔ فَوَجَدُوا الْحُلِیَّ عِنْدَ صَائِغٍ، زَعَمَ أَنَّ الأَقْطَعَ جَائَ ہُ بِہِ، فَاعْتَرَفَ بِہِ الأَقْطَعُ, أَوْ شُہِدَ عَلَیْہِ بِہِ، فَأَمَرَ بِہِ أَبُو بَکْرٍ الصِّدِّیقُ فَقُطِعَتْ یَدُہُ الْیُسْرَی، وَقَالَ أَبُو بَکْرٍ : وَاللّٰہِ لَدُعَاؤُہُ عَلَی نَفْسِہِ أَشَدُّ عِنْدِی عَلَیْہِ مِنْ سَرِقَتِہِ۔
اردو ترجمہ · Urdu
عبدالرحمن بن قاسم رحمہ اللہ اپنے والد ( قاسم بن محمد بن ابی بکر رحمہ اللہ ) سے روایت کرتے ہیں کہ بے شک اہل یمن میں سے ایک آدمی جس کا ( دایاں ) ہاتھ اور ( بایاں ) پاؤں ( چوری کے جرم میں ) کٹے ہوئے تھے ، ( مدینہ منورہ میں ) آیا ۔ اس نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس پڑاؤ کیا اور ان سے شکایت کی کہ یمن کے عامل ( گورنر ) نے اس پر ظلم کیا ہے ۔ وہ آدمی رات میں ( تہجد کی ) نماز ادا کیا کرتا تھا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ فرماتے : تیرے باپ کی قسم ! تیری رات کسی چور کی رات نہیں ہو سکتی ( چور تو ایسا نہیں کرتے ) ، پھر بلاشبہ لوگوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اہلیہ محترمہ سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کا ہار گم پایا ۔ وہ آدمی بھی لوگوں کے ساتھ ( ہار کی تلاش میں ) چلنے لگا اور کہنے لگا : اے اللہ ! اس شخص کو پکڑ لے ( اور تباہ کر دے ) جس نے اس نیک گھر والوں پر شب خون مارا ہے ( اور ان کا ہار چرایا ہے ) ۔ پھر لوگوں نے اس ( گم شدہ ) زیور کو ایک سنار کے پاس پا لیا ، اس ( سنار ) نے کہا کہ ایک ہاتھ پاؤں کٹا شخص اسے اس کے پاس لایا تھا ۔ چنانچہ اس لنجے ( ہاتھ پاؤں کٹے ) شخص نے اس کا اعتراف کر لیا ، یا اس کی گواہی قائم ہو گئی تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس کے متعلق حکم دیا ، سو اس کا بایاں ہاتھ بھی کاٹ دیا گیا ، اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میرے نزدیک اس کی اپنے خلاف بددعا اس کی چوری سے بھی زیادہ سخت ہے ۔