Muwatta Imam Malik #1570
[1570] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ صَفْوَانَ : أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ أُمَیَّۃَ قِیلَ لَہُ : إِنَّہُ مَنْ لَمْ یُہَاجِرْ ہَلَکَ، فَقَدِمَ صَفْوَانُ بْنُ أُمَیَّۃَ الْمَدِینَۃَ، فَنَامَ فِی الْمَسْجِدِ وَتَوَسَّدَ رِدَائَ ہُ، فَجَائَ ہُ سَارِقٌ فَأَخَذَ رِدَائَ ہُ، فَأَخَذَ صَفْوَانُ السَّارِقَ، فَجَائَ بِہِ إِلَی رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ ، فَأَمَرَ بِہِ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ أَنْ تُقْطَعَ یَدُہُ, فَقَالَ لَہُ صَفْوَانُ : إنِّی لَمْ أُرِدْ ہَذَا یَا رَسُولَ اللّٰہِ، ہُوَ عَلَیْہِ صَدَقَۃٌ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ :فَہَلاَّ قَبْلَ أَنْ تَأْتِیَنِی بِہِ۔
اردو ترجمہ · Urdu
صفوان بن عبداللہ بن صفوان رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک ( ان کے دادا ) حضرت صفوان بن اُمیہ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ یقیناً جس نے ہجرت نہ کی وہ ہلاک ہو گیا ۔ چنانچہ حضرت صفوان رضی اللہ عنہ مدینہ آ گئے ، وہ مسجد ہی میں سو گئے اور انھوں نے اپنی چادر کو تکیہ بنا لیا ۔ ایک چور آیا اور اس نے ( ان کے سرکے نیچے سے ) ان کی چادر پکڑ لی تو حضرت صفوان رضی اللہ عنہ نے ( آنکھ کھل جانے پر ) اُسے پکڑ لیا اور اُسے رسول اللہ ﷺ کے پاس لے آئے ۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے اس ( چور ) سے فرمایا : ’’ کیا تم نے اس کی چادر چرائی تھی ؟ اُس نے کہا کہ جی ہاں ، تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے متعلق فرمایا کہ اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے ۔ اس پر حضرت صفوان رضی اللہ عنہ عرض کرنے لگے کہ یقیناً اے اللہ کے رسول ! میں نے تو اس کا ارادہ نہ کیا تھا ( کہ اس کا ہاتھ کٹواؤں ، اب میری طرف سے ) یہ چادر اس پر صدقہ ہے ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تو پھر اسے میرے پاس لانے سے پہلے ( ایسا ) کیوں نہ کر لیا ؟‘‘