Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 44 · Chapter 505

چوری کے متعلق مسائل کی کتاب

چور کے حق میں سفارش نہ کرنے کا بیان جس وقت کہ اس کا معاملہ بادشاہ تک پہنچ جائے

2 hadiths in this chapter

1570

Muwatta Imam Malik #1570

Sahih

[1570] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ صَفْوَانَ : أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ أُمَیَّۃَ قِیلَ لَہُ : إِنَّہُ مَنْ لَمْ یُہَاجِرْ ہَلَکَ، فَقَدِمَ صَفْوَانُ بْنُ أُمَیَّۃَ الْمَدِینَۃَ، فَنَامَ فِی الْمَسْجِدِ وَتَوَسَّدَ رِدَائَ ہُ، فَجَائَ ہُ سَارِقٌ فَأَخَذَ رِدَائَ ہُ، فَأَخَذَ صَفْوَانُ السَّارِقَ، فَجَائَ بِہِ إِلَی رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ ، فَأَمَرَ بِہِ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ أَنْ تُقْطَعَ یَدُہُ, فَقَالَ لَہُ صَفْوَانُ : إنِّی لَمْ أُرِدْ ہَذَا یَا رَسُولَ اللّٰہِ، ہُوَ عَلَیْہِ صَدَقَۃٌ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ :فَہَلاَّ قَبْلَ أَنْ تَأْتِیَنِی بِہِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

صفوان بن عبداللہ بن صفوان رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک ( ان کے دادا ) حضرت صفوان بن اُمیہ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ یقیناً جس نے ہجرت نہ کی وہ ہلاک ہو گیا ۔ چنانچہ حضرت صفوان رضی اللہ عنہ مدینہ آ گئے ، وہ مسجد ہی میں سو گئے اور انھوں نے اپنی چادر کو تکیہ بنا لیا ۔ ایک چور آیا اور اس نے ( ان کے سرکے نیچے سے ) ان کی چادر پکڑ لی تو حضرت صفوان رضی اللہ عنہ نے ( آنکھ کھل جانے پر ) اُسے پکڑ لیا اور اُسے رسول اللہ ﷺ کے پاس لے آئے ۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے اس ( چور ) سے فرمایا : ’’ کیا تم نے اس کی چادر چرائی تھی ؟ اُس نے کہا کہ جی ہاں ، تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے متعلق فرمایا کہ اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے ۔ اس پر حضرت صفوان رضی اللہ عنہ عرض کرنے لگے کہ یقیناً اے اللہ کے رسول ! میں نے تو اس کا ارادہ نہ کیا تھا ( کہ اس کا ہاتھ کٹواؤں ، اب میری طرف سے ) یہ چادر اس پر صدقہ ہے ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تو پھر اسے میرے پاس لانے سے پہلے ( ایسا ) کیوں نہ کر لیا ؟‘‘

1571

Muwatta Imam Malik #1571

Sahih

[1571] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ رَبِیعَۃَ بْنِ أبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ : أَنَّ الزُّبَیْرَ بْنَ الْعَوَّامِ لَقِیَ رَجُلاً قَدْ أَخَذَ سَارِقاً، وَہُوَ یُرِیدُ أَنْ یَذْہَبَ بِہِ إِلَی السُّلْطَانِ، فَشَفَعَ لَہُ الزُّبَیْرُ لِیُرْسِلَہُ، فَقَالَ : لَا، حَتَّی أَبْلُغَ بِہِ السُّلْطَانَ۔ فَقَالَ الزُّبَیْرُ : إِذَا بَلَغْتَ بِہِ السُّلْطَانَ، فَلَعَنَ اللّٰہُ الشَّافِعَ وَالْمُشَفِّعَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

ربیعہ بن ابی عبدالرحمن سے روایت ہے کہ بے شک حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ ایک آدمی کو ملے جس نے ایک چور پکڑ رکھا تھا اور وہ چاہتا تھا کہ اسے حاکم کے پاس لے جائے ۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے اس کے حق میں سفارش کی کہ وہ اسے چھوڑ دے ، وہ کہنے لگا کہ نہیں ( چھوڑوں گا ) یہاں تک کہ اسے حاکم تک پہنچا کر ہی رہوں گا ، تو حضرت زبیر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے : جب تم اسے حاکم تک پہنچا دو گے تو پھر سفارش کرنے والے اور سفارش قبول کرنے والے پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے ۔