Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 44 · Chapter 504

چوری کے متعلق مسائل کی کتاب

بھاگے ہوئے غلام اور چور کا ہاتھ کاٹنے کا بیان

3 hadiths in this chapter

1567

Muwatta Imam Malik #1567

Sahih

[1567] حَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ عَبْداً لِعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ سَرَقَ وَہُوَ آبِقٌ، فَأَرْسَلَ بِہِ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ إِلَی سَعِیدِ بْنِ الْعَاصِ، وَہُوَ أَمِیرُ الْمَدِینَۃِ، لِیَقْطَعَ یَدَہُ، فَأَبَی سَعِیدٌ أَنْ یَقْطَعَ یَدَہُ وَقَالَ : لَا تُقْطَعُ یَدُ الآبِقِ السَّارِقِ إِذَا سَرَقَ۔ فَقَالَ لَہُ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ : فِی أَیِّ کِتَابِ اللّٰہِ وَجَدْتَ ہَذَا ؟ ثُمَّ أَمَرَ بِہِ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ فَقُطِعَتْ یَدُہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے ایک غلام نے اس حال میں چوری کی کہ وہ بھاگا ہوا تھا ، تو ( اس کے پکڑے جانے کے بعد ) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اسے حضرت سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا تاکہ وہ اس کا ہاتھ کاٹ دیں ، اور وہ ( ان دنوں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے ) مدینہ منورہ کے امیر تھے تو حضرت سعید رضی اللہ عنہ نے اس کا ہاتھ کاٹنے سے انکار کر دیا اور کہا : بھاگا ہوا غلام جب چوری کرے تو اس کا ہاتھ کاٹا نہیں جائے گا تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ تو نے کون سی کتاب اللہ ( کی آیت ) میں یہ ( مسئلہ ) پایا ہے ؟ پھر حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا ۔

1568

Muwatta Imam Malik #1568

Sahih

[1568] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ زُرَیْقِ بْنِ حَکِیمٍ، أَ نَّہُ أَخْبَرَہُ، أَ نَّہُ أَخَذَ عَبْداً آبِقاً قَدْ سَرَقَ، قَالَ : فَأَشْکَلَ عَلَیَّ أَمْرُہُ، قَالَ : فَکَتَبْتُ فِیہِ إِلَی عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ أَسْأَلُہُ عَنْ ذَلِکَ، وَہُوَ الْوَالِی یَوْمَئِذٍ، قَالَ : فَأَخْبَرْتُہُ أَ نَّنِی کُنْتُ أَسْمَعُ أَنَّ الْعَبْدَ الآبِقَ إِذَا سَرَقَ وَہُوَ آبِقٌ لَمْ تُقْطَعْ یَدُہُ۔ قَالَ : فَکَتَبَ إِلَیَّ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ نَقِیضَ کِتَابِی یَقُولُ : کَتَبْتَ إِلَیَّ : أَ نَّکَ کُنْتَ تَسْمَعُ أَنَّ الْعَبْدَ الآبِقَ إِذَا سَرَقَ لَمْ تُقْطَعْ یَدُہُ، وَأَنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی یَقُولُ فِی کِتَابِہِ : {وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَۃُ فَاقْطَعُوا أَیْدِیَہُمَا جَزَائً بِمَا کَسَبَا نَکَالاً مِنَ اللّٰہِ وَاللّٰہُ عَزِیزٌ حَکِیمٌ} [المائدۃ 38] فَإِنْ بَلَغَتْ سَرِقَتُہُ رُبُعَ دِینَارٍ فَصَاعِداً فَاقْطَعْ یَدَہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

زُریق بن حکیم رحمہ اللہ ( یا حکیم رحمہ اللہ ) سے روایت ہے ، انھوں نے ایک بھاگا ہوا غلام پکڑا جس نے چوری کی تھی ، زریق کہتے ہیں کہ اس کا معاملہ مجھے مشکل محسوس ہوا ۔ وہ کہتے ہیں کہ پھر میں نے اس کے متعلق حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی طرف ( پیغام ) لکھا ، میں اُن سے اس بارے میں سوال کر رہا تھا ، وہ اس وقت ( مسلمانوں کے خلیفہ اور ) والی تھے ۔ میں نے انھیں خبر دی کہ بے شک میں تو ( ہمیشہ یہی ) سنا کرتا تھا کہ غلام جب اس حال میں چوری کرے کہ وہ بھاگا ہوا ہو تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ۔ زریق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے میری طرف خط کا جواب لکھا ( جس میں ) وہ فرما رہے تھے : تم نے میری طرف یہ لکھا تھا کہ بے شک تم یہ سنا کرتے تھے کہ بھاگا ہوا غلام جب چوری کرے تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا اور ( جبکہ ) بلاشبہ اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں ( اس کا استثناء کیے بغیر ) فرماتے ہیں : { وَ السَّارِقُ وَ السَّارِقَۃُ فَاقْطَعُوْٓا اَیْدِیَہُمَا جَزَآئً بِمَا کَسَبَا نَکَالًا مِّنَ اللّٰہِ وَ اللّٰہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ } ( المائدۃ 5 : 38 ) ’’ اور تم چوری کرنے والے مرد اور چوری کرنے والی عورت کے ہاتھ کاٹ دیا کرو ، یہ اللہ کی طرف سے اس گناہ کی عبرت ناک سزا ہے جو انھوں نے کیا ، اور اللہ خوب غالب اور بہت حکمت والا ہے ۔‘‘ لہٰذا اگر اس ( بھاگے ہوئے غلام ) کی چوری چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ تک پہنچ جائے تو اس کا ہاتھ کاٹ دو ۔

1569

Muwatta Imam Malik #1569

Zaeef

[1569] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ، وَعُرْوَۃَ بْنَ الزُّبَیْرِ کَانُوا یَقُولُونَ : إِذَا سَرَقَ الْعَبْدُ الآبِقُ مَا یَجِبُ فِیہِ الْقَطْعُ قُطِعَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ بے شک قاسم بن محمد رحمہ اللہ ، سالم بن عبداللہ اور عروہ بن زبیر رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے : جب بھاگا ہوا غلام وہ چیز چرائے جس میں ہاتھ کاٹنا واجب ہو تو اسے کاٹ دیا جائے گا ۔