Muwatta Imam Malik #1567
[1567] حَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ عَبْداً لِعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ سَرَقَ وَہُوَ آبِقٌ، فَأَرْسَلَ بِہِ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ إِلَی سَعِیدِ بْنِ الْعَاصِ، وَہُوَ أَمِیرُ الْمَدِینَۃِ، لِیَقْطَعَ یَدَہُ، فَأَبَی سَعِیدٌ أَنْ یَقْطَعَ یَدَہُ وَقَالَ : لَا تُقْطَعُ یَدُ الآبِقِ السَّارِقِ إِذَا سَرَقَ۔ فَقَالَ لَہُ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ : فِی أَیِّ کِتَابِ اللّٰہِ وَجَدْتَ ہَذَا ؟ ثُمَّ أَمَرَ بِہِ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ فَقُطِعَتْ یَدُہُ۔
اردو ترجمہ · Urdu
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے ایک غلام نے اس حال میں چوری کی کہ وہ بھاگا ہوا تھا ، تو ( اس کے پکڑے جانے کے بعد ) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اسے حضرت سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا تاکہ وہ اس کا ہاتھ کاٹ دیں ، اور وہ ( ان دنوں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے ) مدینہ منورہ کے امیر تھے تو حضرت سعید رضی اللہ عنہ نے اس کا ہاتھ کاٹنے سے انکار کر دیا اور کہا : بھاگا ہوا غلام جب چوری کرے تو اس کا ہاتھ کاٹا نہیں جائے گا تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ تو نے کون سی کتاب اللہ ( کی آیت ) میں یہ ( مسئلہ ) پایا ہے ؟ پھر حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا ۔