Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 44 · Chapter 503

چوری کے متعلق مسائل کی کتاب

اس چوری کا بیان جس میں ہاتھ کاٹنا واجب ہے

5 hadiths in this chapter

1562

Muwatta Imam Malik #1562

Sahih

[1562] حَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَطَعَ فِی مِجَنٍّ ثَمَنُہُ ثَـلَاثَۃُ دَرَاہِمَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بلاشبہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسی ڈھال ( کی چوری ) میں ہاتھ کاٹا جس کی قیمت تین درہم تھی ۔

1563

Muwatta Imam Malik #1563

Sahih

[1563] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أبِی حُسَیْنٍ الْمَکِّیِّ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : لَا قَطْعَ فِی ثَمَرٍ مُعَلَّقٍ، وَلَا فِی حَرِیسَۃِ جَبَلٍ فَإِذَا آوَاہُ الْمُرَاحُ أَوِ الْجَرِینُ، فَالْقَطْعُ فِیمَا یَبْلُغُ ثَمَنَ الْمِجَنِّ۔

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی حسین مکی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ یقیناً رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ( حد کے طور پر ) ہاتھ کاٹنا نہ تو اس پھل ( کی چوری ) میں لازم آتا ہے جو درخت ہی پر لٹکا ہوا ہو اور نہ ہی پہاڑ پر رہنے والی بکری میں ، ہاں جب اس ( جانور اور پھل ) کو باڑا یا کھلیان پناہ دے تو پھر ہاتھ کاٹنا اس چیز ( کی چوری ) میں ( لازم ) ہے جو ڈھال کی قیمت کو پہنچ جائے ۔‘‘

1564

Muwatta Imam Malik #1564

Sahih

[1564] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أبِی بَکْرٍ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ عَمْرَۃَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ : أَنَّ سَارِقاً سَرَقَ فِی زَمَانِ عُثْمَانَ أُتْرُجَّۃً، فَأَمَرَ بِہَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ أَنْ تُقَوَّمَ، فَقُوِّمَتْ بِثَـلَاثَۃِ دَرَاہِمَ مِنْ صَرْفِ اثْنَیْ عَشَرَ دِرْہَماً بِدِینَارٍ، فَقَطَعَ عُثْمَانُ یَدَہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

عمرہ بنت عبدالرحمن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ یقیناً ایک چور نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ایک سنگترہ چرا لیا تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ اس کی قیمت لگائی جائے ۔ چنانچہ بارہ درہم فی دینار ( والے ریٹ اور بھاؤ ) کے حساب سے اس کی قیمت تین درہم لگائی گئی تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا ۔

1565

Muwatta Imam Malik #1565

Sahih

[1565] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ عَمْرَۃَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ﷺ : أَ نَّہَا قَالَتْ : مَا طَالَ عَلَیَّ وَمَا نَسِیتُ الْقَطْعُ فِی رُبُعِ دِینَارٍ فَصَاعِداً۔

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ پیغمبر ﷺ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا کہ نہ تو مجھ پر لمبا زمانہ گزرا ہے اور نہ میں بھول کا شکار ہوئی ہوں ، ( مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ) ہاتھ کاٹنا دینار کے چوتھائی حصے یا اس سے زیادہ ( کی چوری ) میں ہے ۔

1566

Muwatta Imam Malik #1566

Sahih

[1566] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أبِی بَکْرِ بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَمْرَۃَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَ نَّہَا قَالَتْ : خَرَجَتْ عَائِشَۃُ زَوْجُ النَّبِیِّ ﷺ إِلَی مَکَّۃَ، وَمَعَہَا مَوْلَاتَانِ لَہَا، وَمَعَہَا غُلَامٌ لِبَنِی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ، فَبَعَثَتْ مَعَ الْمَوْلَاَتَیْنِ بِبُرْدٍ مُرَجَّلٍ، قَدْ خِیطَ عَلَیْہِ خِرْقَۃٌ خَضْرَائُ، قَالَتْ فَأَخَذَ الْغُلَامُ الْبُرْدَ، فَفَتَقَ عَنْہُ فَاسْتَخْرَجَہُ، وَجَعَلَ مَکَانَہُ لِبْداً أَوْ فَرْوَۃً وَخَاطَ عَلَیْہِ، فَلَمَّا قَدِمَتِ الْمَوْلَاتَانِ الْمَدِینَۃَ دَفَعَتَا ذَلِکَ إِلَی أَہْلِہِ، فَلَمَّا فَتَقُوا عَنْہُ وَجَدُوا فِیہِ اللِّبْدَ، وَلَمْ یَجِدُوا الْبُرْدَ، فَکَلَّمُوا الْمَرْأَتَیْنِ، فَکَلَّمَتَا عَائِشَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ ﷺ ، أَوْ کَتَبَتَا إِلَیْہَا، وَاتَّہَمَتَا الْعَبْدَ، فَسُئِلَ الْعَبْدُ عَنْ ذَلِکَ فَاعْتَرَفَ، فَأَمَرَتْ بِہِ عَائِشَۃُ زَوْجُ النَّبِیِّ ﷺ فَقُطِعَتْ یَدُہُ وَقَالَتْ عَائِشَۃُ : الْقَطْعُ فِی رُبُعِ دِینَارٍ فَصَاعِداً۔

اردو ترجمہ · Urdu

عمرہ بنت عبدالرحمن رحمۃ اللہ علیہما سے روایت ہے ، کہتی ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ پیغمبر ﷺ مکہ کی طرف نکلیں ، ان کے ہمراہ ان کی دو آزاد کردہ لونڈیاں بھی تھیں اور ان کے ساتھ ( ان کے بھائی ) عبداللہ رحمہ اللہ بن ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اولاد کا ایک غلام بھی تھا ۔ انھوں نے اپنی لونڈیوں کے ساتھ ایک چادر ( مدینہ منورہ واپس ) بھیجی ، جس میں ( مرُدوں کی یا ) پالانوں کی تصویریں تھیں ۔ اس چادر کے اوپر سے ( سبز کپڑا ) پھاڑا اور اسے نکال کر اس کی جگہ نمدہ یا پوستین رکھ دی ، پھر اس کے اوپر ( وہی سبز کپڑا چڑھا کر اُسے ) سی دیا ۔ جب وہ دونوں لونڈیاں مدینہ منورہ آئیں تو انھوں نے اس ( کپڑے میں پیک شدہ چیز ) کو اس چادر والوں کے سپرد کر دیا ( جن کی وہ امانت تھی ) ۔ انھوں نے جب اس ( کے اوپر ) سے کپڑا پھاڑا تو اس میں نمدہ پایا اور چادر نہ پائی ۔ چنانچہ انھوں نے ان دونوں لونڈیوں سے بات کی تو ان دونوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ( اس بارے میں ) گفتگو کی ( یا مدینہ سے مکہ ) ان کی طرف ( پیغام ) لکھا اور اس غلام پر الزام لگایا ۔ اس غلام سے اس بارے میں پوچھا گیا تو اس نے اعتراف کر لیا ۔ چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ پیغمبر ﷺ نے حکم دیا تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : ہاتھ کاٹنا چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ میں ہے ۔