Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 43 · Chapter 501

شرعی حدود کے مسائل کی کتاب

( زنا کی واضح ) تہمت لگانے ، ( نسب کا ) انکار کرنے اور ( زنا کا ) اشارہ کرنے کا بیان

4 hadiths in this chapter

1557

Muwatta Imam Malik #1557

Sahih

[1557] حَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ أبِی الزِّنَادِ، أَ نَّہُ قَالَ : جَلَدَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَبْداً فِی فِرْیَۃٍ ثَمَانِینَ۔ قَالَ أَبُو الزِّنَادِ : فَسَأَلْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِیعَۃَ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ : أَدْرَکْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَعُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ وَالْخُلَفَائَ ہَلُمَّ جَرًّا، فَمَا رَأَیْتُ أَحَداً جَلَدَ عَبْداً فِی فِرْیَۃٍ أَکْثَرَ مِنْ أَرْبَعِینَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

اَبُوالزِّنَاد رحمہ اللہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں : حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ایک غلام کو ( زنا کی ) تہمت لگانے ( کے جرم ) میں اسی کوڑے مارے ، ابوالزناد رحمہ اللہ کہتے ہیں : میں نے عبداللہ بن ربیعہ رحمہ اللہ سے اس بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اور ( بعد کے ) خلفاء کو پایا ۔ اسی طرح چلے آؤ ( اور خلفاء کو شمار کرتے آؤ ، میں نے سب کو پایا ) تو میں نے کسی کو نہیں دیکھا کہ اس نے تہمت لگانے کی وجہ سے غلام کو چالیس سے زائد کوڑے مارے ہوں ۔

1558

Muwatta Imam Malik #1558

Sahih

[1558] حَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ رُزَیْقِ بْنِ حَکِیمٍ الْأَیْلِیِّ : أَنَّ رَجُلاً یُقَالُ لَہُ مِصْبَاحٌ اسْتَعَانَ ابْناً لَہُ، فَکَأَنَّہُ اسْتَبْطَأَہُ، فَلَمَّا جَائَ ہُ قَالَ لَہُ : یَا زَانٍ۔ قَالَ رُزَیْقٌ : فَاسْتَعْدَانِی عَلَیْہِ، فَلَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أَجْلِدَہُ قَالَ ابْنُہُ : وَاللّٰہِ لَئِنْ جَلَدْتَہُ لِأَبُوأَنَّ عَلَی نَفْسِی بِالزِّنَا۔ فَلَمَّا قَالَ ذَلِکَ أَشْکَلَ عَلَیَّ أَمْرُہُ، فَکَتَبْتُ فِیہِ إِلَی عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ، وَہُوَ الْوَالِی یَوْمَئِذٍ، أَذْکُرُ لَہُ ذَلِکَ، فَکَتَبَ إِلَیَّ عُمَرُ : أَنْ أَجِزْ عَفْوَہُ۔ قَالَ رُزَیْقٌ : وَکَتَبْتُ إِلَی عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ أَیْضاً : أَرَأَیْتَ رَجُلاً افْتُرِیَ عَلَیْہِ، أَوْ عَلَی أَبَوَیْہِ، وَقَدْ ہَلَکَا أَوْ أَحَدُہُمَا۔ قَالَ: فَکَتَبَ إِلَیَّ عُمَرُ : إِنْ عَفَا فَأَجِزْ عَفْوَہُ فِی نَفْسِہِ، وَإِنِ افْتُرِیَ عَلَی أَبَوَیْہِ، وَقَدْ ہَلَکَا أَوْ أَحَدُہُمَا، فَخُذْ لَہُ بِکِتَابِ اللّٰہِ، إِلاَّ أَنْ یُرِیدَ سِتْراً۔

اردو ترجمہ · Urdu

زُرَیْق بن حکیم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بلاشبہ ایک آدمی جسے مصباح کہا جاتا تھا ، نے اپنے بیٹے سے ( کسی کام میں ) مدد چاہی ( اور اسے بلایا ) پھر اس ( والد ) نے گویا اسے سست پایا ۔ چنانچہ جب وہ اس کے پاس آیا تو اس نے ( غصے میں ) اسے کہا کہ او زانی ! زُرَیْق رحمہ اللہ کہتے ہیں : اس ( لڑکے ) نے مجھ سے اس ( تہمت لگانے والے اپنے باپ ) کے خلاف مدد چاہی ۔ پھر جب میں نے ارادہ کیا کہ اس ( باپ ) کو کوڑے لگاؤں تو اس کا بیٹا ( مجھ سے ) کہنے لگا کہ اگر تم نے انھیں کوڑے لگائے تو میں ضرور ضرور اپنے اوپر زنا کا اقرار کر لوں گا ۔ جب اس نے یہ بات کہی تو اس کا معاملہ ( حل کرنا ) مجھ پر مشکل ہو گیا ۔ چنانچہ میں نے اس بارے میں حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کی طرف لکھا جو کہ ان دنوں والی ( حاکم ) تھے ۔ میں نے ( خط میں ) ان کے لیے یہ قصہ ذکر کیا ، تو عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے میری طرف ( جواب میں ) لکھا : ( لڑکے کا اپنے باپ کو حد نہ لگانے کا مطالبہ گویا اسے معاف کر دینا ہے ، لہٰذا ) اس کی معافی کو جاری کر دو ، زُرَیْق رحمہ اللہ کہتے ہیں : اور میں نے حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی طرف یہ بھی لکھا کہ اس شخص کے متعلق بتائیے کہ اس پر یا اس کے والدین پر ( زنا کی ) تہمت لگی ہو ، اور وہ دونوں یا ان میں سے کوئی ایک فوت ہو چکا ہو ( تو کیا اس فوت شدہ شخص پر لگی ہوئی تہمت کوڑے مجرم پر لگائے جائیں ؟ ) زُرَیْق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے لکھا : اگر وہ ( خود پر لگی ہوئی تہمت کو ) معاف کر دے تو اس کی معافی کو اس کے اپنے بارے میں جاری کر دو اور اگر اس کے والدین پر تہمت لگی ہو اور وہ دونوں یا ان میں سے کوئی ایک ہلاک ہو چکا ہو تو ( پھر ان کے لڑکے کا اپنے والدین پر لگی ہوئی تہمت کو معاف کرنا جائز نہیں بلکہ ) تم اس کے لیے اللہ کی کتاب کے مطابق پکڑ کرو ( اور کوڑے لگاؤ ) الّا یہ کہ وہ ( لڑکا ) پردہ پوشی چاہتا ہو ۔

1559

Muwatta Imam Malik #1559

Sahih

[1559] حَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ أَبِیہِ، أَ نَّہُ قَالَ فِی رَجُلٍ قَذَفَ قَوْماً جَمَاعَۃً : أَ نَّہُ لَیْسَ عَلَیْہِ إِلاَّ حَدٌّ وَاحِدٌ۔

اردو ترجمہ · Urdu

ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد ( عروہ بن زبیر رحمہ اللہ ) سے روایت کرتے ہیں کہ بلاشبہ انھوں نے اس شخص جو کچھ لوگوں کی جماعت پر ( جو اکٹھے موجود ہوں ) تہمت لگائے ، ( عروہ رحمہ اللہ نے اس کے متعلق ) فرمایا : یقیناً اس پر ایک حد کے سوا کچھ ( لازم ) نہیں ہے ۔

1560

Muwatta Imam Malik #1560

Zaeef

[1560] حَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ أبِی الرِّجَالِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَارِثَۃَ بْنِ النُّعْمَانِ الْأَنْصَاری، ثُمَّ مِنْ بَنِی النَّجَّارِ، عَنْ أُمِّہِ عَمْرَۃَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ : أَنَّ رَجُلَیْنِ اسْتَبَّا فِی زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ أَحَدُہُمَا لِلآخَرِ : وَاللّٰہِ مَا أبِی بِزَانٍ وَلَا أُمِّی بِزَانِیَۃٍ۔ فَاسْتَشَارَ فِی ذَلِکَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَقَالَ قَائِلٌ : مَدَحَ أَبَاہُ وَأُمَّہُ، وَقَالَ آخَرُونَ : قَدْ کَانَ لأَبِیہِ وَأُمِّہِ مَدْحٌ غَیْرُ ہٰذَا، نَرَی أَنْ تَجْلِدَہُ الْحَدَّ۔ فَجَلَدَہُ عُمَرُ الْحَدَّ ثَمَانِینَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

عمرہ بنت عبدالرحمن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک دو آدمیوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانے میں باہم گالی گلوچ کی ۔ ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ اللہ کی قسم ! نہ میرا باپ زانی تھا اور نہ میری ماں زانیہ تھی ۔ ( یہ تعریض ہے ، جس میں اشارہ و کنایہ سے گویا باور کرایا گیا کہ میرے ماں باپ بدکار نہ تھے لیکن تمھارے ماں باپ بدکار اور زانی تھے ) تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں مشورہ طلب کیا تو کسی کہنے والے نے کہا : اس نے تو ( صرف ) اپنے باپ اور ماں کی مدح بیان کی ہے اور دوسرے لوگوں نے کہا : اس کے ماں باپ کے لیے اس کے علاوہ ( الفاظ میں اور دوسرے مواقع پر ) مدح ہو سکتی تھی ( لیکن باہم لڑائی کے موقع پر یہ الفاظ اپنے مدمقابل کی مذمت کے علاوہ اور کوئی معنی نہیں رکھتے ) ، لہٰذا ہم یہی خیال کرتے ہیں کہ آپ اسے حد لگائیں ۔ چنانچہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اسے اسّی کوڑے مارے ۔