Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 43 · Chapter 499

شرعی حدود کے مسائل کی کتاب

اس شخص کا بیان جو اپنے متعلق زنا کا اعتراف کر لے

2 hadiths in this chapter

1552

Muwatta Imam Malik #1552

Zaeef

[1552] حَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ رَجُلاً اعْتَرَفَ عَلَی نَفْسِہِ بِالزِّنَا عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ ، فَدَعَا لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ بِسَوْطٍ، فَأُتِیَ بِسَوْطٍ مَکْسُورٍ، فَقَالَ : فَوْقَ ہَذَا فَأُتِیَ بِسَوْطٍ جَدِیدٍ لَمْ تُقْطَعْ ثَمَرَتُہُ، فَقَالَ : دُونَ ہَذَا فَأُتِیَ بِسَوْطٍ قَدْ رُکِبَ بِہِ وَلَانَ، فَأَمَرَ بِہِ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ فَجُلِدَ، ثُمَّ قَالَ : أَیُّہَا النَّاسُ، قَدْ آنَ لَکُمْ أَنْ تَنْتَہُوا عَنْ حُدُودِ اللّٰہِ، مَنْ أَصَابَ مِنْ ہَذِہِ الْقَاذُورَاتِ شَیْئاً، فَلْیَسْتَتِرْ بِسِتْرِ اللّٰہِ، فَإِنَّہُ مَنْ یُبْدِی لَنَا صَفْحَتَہُ نُقِمْ عَلَیْہِ کِتَابَ اللّٰہِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

زید بن اسلم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک ایک ( کنوارے ) شخص نے رسول اللہ ﷺ کے عہد میں اپنے خلاف زنا کا اعتراف کر لیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے لیے ایک کوڑا منگوایا ۔ چنانچہ آپ ﷺ کے پاس ایک نیا کوڑا لایا گیا ، اس کا سرا نہ کاٹا گیا تھا ( یعنی وہ بالکل ہی نیا اور سخت تھا اور بنا کر جو آخر میں گرہ دی جاتی ہے وہ بھی ابھی نہیں کٹی تھی ) تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس سے کم ( ذرا نرم ) لاؤ ۔‘‘ پھر آپ ﷺ کے پاس ایک ٹوٹا ہوا کوڑا لایا گیا تو فرمایا :’’ اس سے اوپر ( ذرا بہتر اور سخت ) لاؤ ۔‘‘ پھر ایک ایسا کوڑا لایا گیا جسے سواری کے استعمال میں لایا جا چکا تھا اور وہ نرم ہو چکا تھا ، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اس ( زانی ) کے متعلق حکم دیا ، تو اسے کوڑے لگا دیے گئے ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اے لوگو ! یقیناً وہ وقت آ گیا ہے کہ تم اللہ کی حدود ( منع کردہ کاموں ) سے باز آ جاؤ ۔ جس کسی نے ان قبیح کاموں ( گندگیوں اور برائیوں ) میں سے کسی چیز کا ارتکاب کیا تو وہ اللہ کے پردے کے ساتھ پردہ ہی رکھے کیونکہ بلاشبہ جو کوئی ہمارے لیے اپنا پہلو ظاہر کرے گا ( اس فعل کو بذریعہ اعتراف ہمارے سامنے لے آئے گا ) تو ہم اس پر اللہ کی کتاب ( میں مذکور حد ) قائم ( اور ) نافذ کر دیں گے ۔‘‘

1553

Muwatta Imam Malik #1553

Zaeef

[1553] حَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ صَفِیَّۃَ بِنْتَ أبِی عُبَیْدٍ أَخْبَرَتْہُ : أَنَّ أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّیقَ أُتِیَ بِرَجُلٍ قَدْ وَقَعَ عَلَی جَارِیَۃٍ بِکْرٍ فَأَحْبَلَہَا، ثُمَّ اعْتَرَفَ عَلَی نَفْسِہِ بِالزِّنَا، وَلَمْ یَکُنْ أَحْصَنَ، فَأَمَرَ بِہِ أَبُو بَکْرٍ فَجُلِدَ الْحَدَّ، ثُمَّ نُفِی إِلَی فَدَکَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

صفیہ بنت ابی عبید رحمہ اللہ ( زوجہ ابن عمر رضی اللہ عنہ ) سے روایت ہے کہ یقیناً حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس ایک ایسے شخص کو لایا گیا جو ایک کنواری لونڈی پر واقع ہو چکا تھا اور اس نے اسے حاملہ کر دیا تھا ۔ پھر اس نے اپنے خلاف زنا کا اقرار کر لیا اور وہ شادی شدہ نہیں تھی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کے متعلق ( حد لگانے کا ) حکم دیا ۔ چنانچہ اسے ( سو کوڑے ) حد لگائی گئی ، پھر اسے ( خیبر کے قریب ایک علاقے ) فدک کی طرف جلاوطن کر دیا گیا ۔