Muwatta Imam Malik #1552
[1552] حَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ رَجُلاً اعْتَرَفَ عَلَی نَفْسِہِ بِالزِّنَا عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ ، فَدَعَا لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ بِسَوْطٍ، فَأُتِیَ بِسَوْطٍ مَکْسُورٍ، فَقَالَ : فَوْقَ ہَذَا فَأُتِیَ بِسَوْطٍ جَدِیدٍ لَمْ تُقْطَعْ ثَمَرَتُہُ، فَقَالَ : دُونَ ہَذَا فَأُتِیَ بِسَوْطٍ قَدْ رُکِبَ بِہِ وَلَانَ، فَأَمَرَ بِہِ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ فَجُلِدَ، ثُمَّ قَالَ : أَیُّہَا النَّاسُ، قَدْ آنَ لَکُمْ أَنْ تَنْتَہُوا عَنْ حُدُودِ اللّٰہِ، مَنْ أَصَابَ مِنْ ہَذِہِ الْقَاذُورَاتِ شَیْئاً، فَلْیَسْتَتِرْ بِسِتْرِ اللّٰہِ، فَإِنَّہُ مَنْ یُبْدِی لَنَا صَفْحَتَہُ نُقِمْ عَلَیْہِ کِتَابَ اللّٰہِ۔
اردو ترجمہ · Urdu
زید بن اسلم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک ایک ( کنوارے ) شخص نے رسول اللہ ﷺ کے عہد میں اپنے خلاف زنا کا اعتراف کر لیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے لیے ایک کوڑا منگوایا ۔ چنانچہ آپ ﷺ کے پاس ایک نیا کوڑا لایا گیا ، اس کا سرا نہ کاٹا گیا تھا ( یعنی وہ بالکل ہی نیا اور سخت تھا اور بنا کر جو آخر میں گرہ دی جاتی ہے وہ بھی ابھی نہیں کٹی تھی ) تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس سے کم ( ذرا نرم ) لاؤ ۔‘‘ پھر آپ ﷺ کے پاس ایک ٹوٹا ہوا کوڑا لایا گیا تو فرمایا :’’ اس سے اوپر ( ذرا بہتر اور سخت ) لاؤ ۔‘‘ پھر ایک ایسا کوڑا لایا گیا جسے سواری کے استعمال میں لایا جا چکا تھا اور وہ نرم ہو چکا تھا ، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اس ( زانی ) کے متعلق حکم دیا ، تو اسے کوڑے لگا دیے گئے ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اے لوگو ! یقیناً وہ وقت آ گیا ہے کہ تم اللہ کی حدود ( منع کردہ کاموں ) سے باز آ جاؤ ۔ جس کسی نے ان قبیح کاموں ( گندگیوں اور برائیوں ) میں سے کسی چیز کا ارتکاب کیا تو وہ اللہ کے پردے کے ساتھ پردہ ہی رکھے کیونکہ بلاشبہ جو کوئی ہمارے لیے اپنا پہلو ظاہر کرے گا ( اس فعل کو بذریعہ اعتراف ہمارے سامنے لے آئے گا ) تو ہم اس پر اللہ کی کتاب ( میں مذکور حد ) قائم ( اور ) نافذ کر دیں گے ۔‘‘