Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 43 · Chapter 498

شرعی حدود کے مسائل کی کتاب

رجم ( سنگسار ) کرنے کا بیان

12 hadiths in this chapter

1540

Muwatta Imam Malik #1540

Sahih

[1540] حَدَّثَنَا مَالِکٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، أَ نَّہُ قَالَ : جَائَ تِ الْیَہُودُ إِلَی رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ ، فَذَکَرُوا لَہُ أَنَّ رَجُلاً مِنْہُمْ وَامْرَأَۃً زَنَیَا، فَقَالَ لَہُمْ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : مَا تَجِدُونَ فِی التَّوْرَاۃِ فِی شَأْنِ الرَّجْمِ ؟فَقَالُوا : نَفْضَحُہُمْ وَیُجْلَدُونَ۔ فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ سَلَامٍ : کَذَبْتُمْ، إِنَّ فِیہَا الرَّجْمَ۔ فَأَتَوْا بِالتَّوْرَاۃِ فَنَشَرُوہَا، فَوَضَعَ أَحَدُہُمْ یَدَہُ عَلَی آیَۃِ الرَّجْمِ، ثُمَّ قَرَأَ مَا قَبْلَہَا وَمَا بَعْدَہَا، فَقَالَ لَہُ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ سَلَامٍ : ارْفَعْ یَدَکَ، فَرَفَعَ یَدَہُ، فَإِذَا فِیہَا آیَۃُ الرَّجْمِ، فَقَالُوا : صَدَقَ یَا مُحَمَّدُ، فِیہَا آیَۃُ الرَّجْمِ۔ فَأَمَرَ بِہِمَا رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ فَرُجِمَا۔ فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ : فَرَأَیْتُ الرَّجُلَ یَحْنِی عَلَی الْمَرْأَۃِ یَقِیہَا الْحِجَارَۃَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں : یہودی رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے ، پھر انھوں نے آپ ﷺ سے ذکر کیا کہ ان میں سے ایک مرد اور ایک عورت نے زنا کا ارتکاب کیا ہے ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم تورات میں رجم کے متعلق کیا ( لکھا ہوا ) پاتے ہو ؟‘‘ انھوں نے کہا ہے : ہم انھیں رسوا کرتے ہیں اور انھیں کوڑے مارے جاتے ہیں ۔ تو حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ ( جو اسلام لانے سے قبل یہودی عالم تھے ) کہنے لگے : تم نے جھوٹ کہا ہے ، یقیناً تورات میں رجم مذکور ہے ۔ وہ تورات لے آئے اور اسے کھول دیا تو ان میں سے ایک نے رجم والی آیت پر ہاتھ رکھ لیا ، پھر اس سے پہلے اور اس کے بعد ( والی آیات تورات ) کو پڑھنے لگا ، سو حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرمانے لگے : اپنا ہاتھ اٹھاؤ ، اس نے اپنا ہاتھ اٹھایا تو ناگہاں اس میں رجم والی آیت ( چمک رہی ) تھی ۔ چنانچہ وہ کہنے لگے : اے محمد ﷺ ! اس ( عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے سچ کہا ہے ) ، واقعی اس میں رجم والی آیت ہے ، پھر رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں کے متعلق حکم فرمایا تو وہ رجم کر دیے گئے ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے دیکھا کہ وہ آدمی عورت پر جھکا جا رہا تھا اور اسے پتھروں سے بچا رہا تھا ۔

1541

Muwatta Imam Malik #1541

Sahih

[1541] حَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ : أَنَّ رَجُلاً مِنْ أَسْلَمَ جَائَ إِلَی أبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ فَقَالَ لَہُ: إِنَّ الأَخِرَ زَنَا۔ فَقَالَ لَہُ أَبُو بَکْرٍ: ہَلْ ذَکَرْتَ ہَذَا لأَحَدٍ غَیْرِی ؟ فَقَالَ ؟ لَا۔ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ : فَتُبْ إِلَی اللّٰہِ وَاسْتَتِرْ بِسِتْرِ اللّٰہِ، فَإِنَّ اللّٰہَ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہِ۔ فَلَمْ تُقْرِرْہُ نَفْسُہُ حَتَّی أَتَی عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَقَالَ لَہُ مِثْلَ مَا قَالَ لأبِی بَکْرٍ، فَقَالَ لَہُ عُمَرُ مِثْلَ مَا قَالَ لَہُ أَبُو بَکْرٍ، فَلَمْ تُقْرِرْہُ نَفْسُہُ حَتَّی جَائَ إِلَی رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ ، فَقَالَ لَہُ : إِنَّ الأَخِرَ زَنَا۔ فَقَالَ سَعِیدٌ: فَأَعْرَضَ عَنْہُ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، کُلُّ ذَلِکَ یُعْرِضُ عَنْہُ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ , حَتَّی إِذَا أَکْثَرَ عَلَیْہِ، بَعَثَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ إِلَی أَہْلِہِ فَقَالَ : أَیَشْتَکِی أَمْ بِہِ جِنَّۃٌ؟ فَقَالُوا : یَا رَسُولَ اللّٰہِ، وَاللّٰہِ إِنَّہُ لَصَحِیحٌ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : أَبِکْرٌ أَمْ ثَیِّبٌ فَقَالُوا : بَلْ ثَیِّبٌ یَا رَسُولَ اللَّہِ۔ فَأَمَرَ بِہِ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ فَرُجِمَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک اسلم قبیلے کا ایک آدمی ( حضرت ماعزاسلمی رضی اللہ عنہ ) حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے کہنے لگا : اس نالائق ( ذلیل ، کمینے ) نے زنا کر لیا ہے ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : کیا تم نے اس کا تذکرہ میرے سوا کسی اور کے سامنے کیا ہے ؟ اس نے کہا کہ نہیں ، تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اس سے فرمانے لگے : تو پھر اللہ تعالیٰ کی طرف توبہ تائب ہو جاؤ اور اللہ کے پردے کے ساتھ پردہ ہی رکھو ( جب اللہ تعالیٰ نے تمھاری پردہ پوشی کی ہے تو تم اسے پردے ہی میں رہنے دو اور اللہ ہی کے حضور توبہ کر لو ) یقیناً اللہ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے ۔ ( لیکن ) اس ( ماعز رضی اللہ عنہ ) کے جی نے اسے قرار نہ لینے دیا ( وہ بے چین ہی رہا ) یہاں تک کہ وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، پھر اس نے ان سے بھی اسی طرح کہا جیسا اس نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا تھا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اس سے اسی طرح کہا ، جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اس سے فرما چکے تھے ۔ سعید بن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں : اس کے نفس ( دل ) نے اسے قرار نہ آنے دیا ( وہ بے قرار ہی رہا اور اس کی تسلی و تسکین نہ ہوئی ) یہاں تک کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آ گیا اور آپ ﷺ سے عرض کرنے لگا : اس بدبخت نے زنا کر لیا ہے ۔ سعید بن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے اعراض کر لیا ( اور اپنا رخ انور اس سے پھیر لیا ، اس نے ) تین بار ایسا ہی کہا ، ہر بار رسول اللہ ﷺ اس سے منہ پھیرتے رہے ، یہاں تک کہ جب اس نے آپ ﷺ پر بہت ( اصرار سے اظہار اور اقرار ) کیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے گھر والوں کی طرف پیغام بھیجا ( اور دریافت کروایا ) کہ ’’ کیا یہ بیمار ہے ؟ کیا اس کے ساتھ جنون ( اور پاگل پن لاحق ) ہے ؟‘‘ تو انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ﷺ ! اللہ کی قسم ! یقیناً یہ بالکل صحیح ہے ، تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے پوچھا :’’ کیا تم کنوارے ہو یا شادی شدہ ؟‘‘ اس نے کہا : بلکہ میں تو شادی شدہ ہوں اے اللہ کے رسول ! چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اس کے متعلق حکم فرمایا تو اسے رجم کر دیا گیا ۔

1542

Muwatta Imam Malik #1542

Sahih

[1542] حَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ، أَ نَّہُ قَالَ : بَلَغَنِی أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ لِرَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ یُقَالُ لَہُ ہَزَّالٌ : یَا ہَزَّالُ لَوْ سَتَرْتَہُ بِرِدَائِکَ لَکَانَ خَیْراً لَکَ قَالَ یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ : فَحَدَّثْتُ بِہَذَا الْحَدِیثِ فِی مَجْلِسٍ فِیہِ یَزِیدُ بْنُ نُعَیْمِ بْنِ ہَزَّالٍ الأَسْلَمِیِّ، فَقَالَ یَزِیدُ : ہَزَّالٌ جَدِّی وَہَذَا الْحَدِیثُ حَقٌّ۔

اردو ترجمہ · Urdu

یحیی بن سعید رحمہ اللہ ، سعید بن مسیب رحمہ اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں ، انھوں نے کہا : مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ بے شک رسول اللہ ﷺ نے اسلم قبیلے کے ایک آدمی جسے ہزال کہا جاتا تھا ، سے فرمایا :’’ اے ہزال ! اگر تو اس ( ماعز رضی اللہ عنہ ) پر اپنی چادر کے ساتھ پردہ ڈال دیتا تو تیرے لیے بہتر ہوتا ۔‘‘ یحیی بن سعید رحمہ اللہ کہتے ہیں : میں نے ( ایک دفعہ ) یہ حدیث ایک ایسی محفل میں بیان کی جس میں ( حضرت ہزال رضی اللہ عنہ کے پوتے ) یزید بن نعیم بن ہزال اسلمی رحمہ اللہ موجود تھے ، تو وہ کہنے لگے کہ حضرت ہزال رضی اللہ عنہ میرے دادا تھے اور یہ حدیث ( بالکل ) سچ ہے ۔

1543

Muwatta Imam Malik #1543

Sahih

[1543] حَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، أَنَّہُ أَخْبَرَہُ : أَنَّ رَجُلاً اعْتَرَفَ عَلَی نَفْسِہِ بِالزِّنَا عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ ، وَشَہِدَ عَلَی نَفْسِہِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، فَأَمَرَ بِہِ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ فَرُجِمَ۔ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ : فَمِنْ أَجْلِ ذَلِکَ یُؤْخَذُ الرَّجُلُ بِاعْتِرَافِہِ عَلَی نَفْسِہِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

ابن شہاب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں اپنے آپ پر چار بار زنا کا ارتکاب کیا اور اپنے خلاف چار بار گواہی دی ، تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے متعلق حکم دیا ، چنانچہ اسے رجم کر دیا گیا ۔ ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں : اسی ( حدیث ) کی وجہ سے آدمی کے اپنے خلاف اعتراف کر لینے کی بنا پر اس کا مؤاخذہ کیا جاتا ہے ۔

1544

Muwatta Imam Malik #1544

Sahih

[1544] حَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ یَعْقُوبَ بْنِ زَیْدِ بْنِ طَلْحَۃَ، عَنْ أَبِیہِ زَیْدِ بْنِ طَلْحَۃَ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أبِی مُلَیْکَۃَ، أَ نَّہُ أَخْبَرَہُ : أَنَّ امْرَأَۃً جَائَتْ إِلَی رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ فَأَخْبَرَتْہُ أَ نَّہَا زَنَتْ وَہِیَ حَامِلٌ، فَقَالَ لَہَا رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : اذْہَبِی حَتَّی تَضَعِی فَلَمَّا وَضَعَتْ جَائَ تْہُ، فَقَالَ لَہَا رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : اذْہَبِی حَتَّی تُرْضِعِی ہِفَلَمَّا أَرْضَعَتْہُ جَائَ تْہُ فَقَالَ : اذْہَبِی فَاسْتَوْدِعِیہِ قَالَ فَاسْتَوْدَعَتْہُ، ثُمَّ جَائَ تْ، فَأَمَرَ بِہَا فَرُجِمَتْ۔

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن ابی ملیکہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بلاشبہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور اس نے آپ ﷺ کو خبر دی : یقیناً اس نے زنا کر لیا ہے اور وہ حاملہ بھی ہے ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ چلی جاؤ ، یہاں تک کہ بچے کو جنم دے دو ( تو پھر آنا ) ۔‘‘ چنانچہ جب اس نے بچہ جنا تو وہ آپ ﷺ کے پاس آ گئی ، تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ چلی جاؤ ، یہاں تک کہ اسے ( پرورش ، کفالت اور حفاظت کے لیے ) کسی کے سپرد کر دو ۔‘‘ عبداللہ بن ابی ملیکہ رحمہ اللہ کہتے ہیں : اس نے اسے ( کسی کے ) سپرد کیا ، پھر وہ آ گئی ، سو آپ ﷺ نے اس کے متعلق حکم دیا ، پھر اسے رجم کر دیا گیا ۔

1545

Muwatta Imam Malik #1545

Sahih

[1545] حَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُتْبَۃَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أبِی ہُرَیْرَۃَ، وَزَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِیِّ، أَ نَّہُمَا أَخْبَرَاہُ : أَنَّ رَجُلَیْنِ اخْتَصَمَا إِلَی رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ ، فَقَالَ أَحَدُہُمَا : یَا رَسُولَ اللّٰہِ اقْضِ بَیْنَنَا بِکِتَابِ اللَّہِ۔ وَقَالَ الآخَرُ، وَہُوَ أَفْقَہُہُمَا : أَجَلْ یَا رَسُولَ اللّٰہِ فَاقْضِ بَیْنَنَا بِکِتَابِ اللّٰہِ، وَائْذَنْ لِی أَنْ أَتَکَلَّمَ۔ قَالَ : تَکَلَّمْ فَقَالَ : إِنَّ ابْنِی کَانَ عَسِیفاً عَلَی ہَذَا، فَزَنَا بِامْرَأَتِہِ، فَأَخْبَرَنِی أَنَّ عَلَی ابْنِی الرَّجْمَ، فَافْتَدَیْتُ مِنْہُ بِمِئَۃِ شَاۃٍ وَبِجَارِیَۃٍ لِی، ثُمَّ إنِّی سَأَلْتُ أَہْلَ الْعِلْمِ، فَأَخْبَرُونِی : أَنَّ مَا عَلَی ابْنِی جَلْدُ مِائَۃٍ وَتَغْرِیبُ عَامٍ، وَأَخْبَرُونِی أَ نَّمَا الرَّجْمُ عَلَی امْرَأَتِہِ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ : أَمَا وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لِأَقْضِیَنَّ بَیْنَکُمَا بِکِتَابِ اللّٰہِ، أَمَّا غَنَمُکَ وَجَارِیَتُکَ فَرَدٌّ عَلَیْکَ وَجَلَدَ ابْنَہُ مِئَۃً، وَغَرَّبَہُ عَاماً، وَأَمَرَ أُ نَیْساً الأَسْلَمِیَّ أَنْ یَأْتِیَ امْرَأَۃَ الآخَرِ، فَإِنِ اعْتَرَفَتْ رَجَمَہَا۔ قَالَ : فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَہَا۔ قَالَ مَالِکٌ : وَالْعَسِیفُ الأَجِیرُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک دو آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس جھگڑا لے کر آئے ۔ ان میں سے ایک نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! ہمارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ فرمائیے اور دوسرے نے جو ان میں سے زیادہ سمجھدار ( محسوس ہو رہا ) تھا ، کہا : جی ہاں ، اے اللہ کے رسول ! ہمارے درمیان کتاب اللہ پر فیصلہ کیجیے اور مجھے اجازت دیجیے کہ میں گفتگو ( کا آغاز ) کروں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بولو ۔‘‘ وہ کہنے لگا : بے شک میرا بیٹا اس شخص کے پاس مزدور تھا ، اس نے اس کی بیوی کے ساتھ زنا کر لیا تو مجھے ( کسی نے ) خبر دی کہ میرے بیٹے پر رجم ( کی سزا ) ہے ، تو میں نے اس کے فدیے میں سو بکریاں اور اپنی ایک لونڈی دے دی ، پھر بے شک میں نے اہل علم سے سوال کیا تو انھوں نے مجھے خبر دی کہ بے شک وہ سزا جو میرے بیٹے پر پڑتی ہے وہ تو سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی ہے ( کیونکہ وہ ابھی کنوارا ہے ) اور بلاشبہ رجم تو صرف اور صرف اس ( میرے ساتھی ) کی بیوی پر ہے ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں تمھارے درمیان ضرور ضرور اللہ ہی کی کتاب کے ساتھ فیصلہ کروں گا ۔ رہیں تیری بکریاں اور لونڈی تو وہ تجھ پر لوٹا دی جائیں گی ۔‘‘ اور آپ ﷺ نے اس کے بیٹے کو سو کوڑے لگوائے اور ایک سال کے لیے جلا وطن کر دیا اور حضرت انیس اسلمی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اس دوسرے شخص کی بیوی کے پاس جائیں ، پھر اگر تو وہ اعتراف کر لے تو اسے رجم کر دیں ، چنانچہ اس نے اعتراف کر لیا تو انھوں نے اسے رجم کر دیا ۔ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا : ( حدیث کے لفظ ) ’’ اَلْعَسِیف ‘‘ سے مراد اجیر یعنی ( اجرت پر رکھا ہوا ) مزدور ہے ۔

1546

Muwatta Imam Malik #1546

Sahih

[1546] حَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ سُہَیْلِ بْنِ أبِی صَالِحٍ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ أبِی ہُرَیْرَۃَ : أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَۃَ قَالَ لِرَسُولِ اللّٰہِ ﷺ : أَرَأَیْتَ لَوْ إنِّی وَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِی رَجُلاً، أَأُمْہِلُہُ حَتَّی آتِیَ بِأَرْبَعَۃِ شُہَدَائَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : نَعَمْ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا : مجھے بتائیے کہ اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو دیکھ لوں تو کیا اسے مہلت دوں ، یہاں تک کہ چار گواہ لے آؤں ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ۔‘‘

1547

Muwatta Imam Malik #1547

Sahih

[1547] حَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُتْبَۃَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ أَ نَّہُ قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ یَقُولُ : الرَّجْمُ فِی کِتَابِ اللّٰہِ حَقٌّ عَلَی مَنْ زَنَی مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَائِ إِذَا أُحْصِنَ، إِذَا قَامَتِ الْبَیِّنَۃُ أَوْ کَانَ الْحَبَلُ أَوْ الاِعْتِرَافُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو سنا ، وہ فرما رہے تھے : رجم اللہ کی کتاب میں برحق ہے ، اس شخص پر ( یہ لاگو ہو گا ) جس نے زنا کیا ، خواہ وہ مردوں میں سے ہو یا عورتوں میں سے ، ( بشرطیکہ ) جب وہ شادی شدہ ہو ( اور بشرطیکہ ) جب ( چار ) گواہ قائم ہوں ، یا حمل ( ظاہر ) ہو یا اعتراف ( کر لیا گیا ) ہو ۔

1548

Muwatta Imam Malik #1548

Sahih

[1548] حَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ، عَنْ أبِی وَاقِدٍ اللَّیْثِیِّ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَتَاہُ رَجُلٌ وَہُوَ بِالشَّامِ، فَذَکَرَ لَہُ أَ نَّہُ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِہِ رَجُلاً، فَبَعَثَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَبَا وَاقِدٍ اللَّیْثِیَّ إِلَی امْرَأَتِہِ یَسْأَلُہَا عَنْ ذَلِکَ فَأَتَاہَا وَعِنْدَہَا نِسْوَۃٌ حَوْلَہَا، فَذَکَرَ لَہَا الَّذِی قَالَ زَوْجُہَا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَأَخْبَرَہَا أَ نَّہَا لَا تُؤْخَذُ بِقَوْلِہِ، وَجَعَلَ یُلَقِّنُہَا أَشْبَاہَ ذَلِکَ لِتَنْزِ عَ، فَأَبَتْ أَنْ تَنْزِ عَ وَثَبَتَتْ عَلَی الاِعْتِرَافِ، فَأَمَرَ بِہَا عُمَرُ فَرُجِمَتْ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی آیا ، اس وقت وہ ملک شام میں تھے ۔ اس نے ان سے ذکر کیا کہ بے شک اس نے اپنی بیوی کے ساتھ ایک آدمی کو پایا ہے ، تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ کو اس کی بیوی کے پاس بھیجا ( تاکہ ) وہ اس سے اس بارے میں پوچھیں ( اور اگر وہ مان لے تو رجم ہو گی اور اگر انکار کر دے تو خاوند پر حد قذف یعنی تہمت کی حد لازم ہو گی ) چنانچہ وہ ( حضرت ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ ) اس کے پاس آئے اس حال میں کہ عورت کے اردگرد ( کئی ) عورتیں ( بیٹھی ہوئی ) تھیں ۔ انھوں نے اس کے سامنے وہ بات ذکر کی جو اس کے خاوند نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہی تھی اور اسے بتلایا کہ بلاشبہ اس ( خاوند کے ) قول پر اس کا مؤاخذہ ( اور رجم کا نفاذ ) نہیں ہو سکتا اور وہ اسی طرح ( کے الفاظ کے ساتھ ) تلقین کرنے لگے ( اور اس کے علم میں لانے لگے ) تاکہ وہ اقرار سے باز رہے ( اور تنہائی میں توبہ تائب ہو جائے لیکن ) اس نے ( اقرار سے ) باز رہنے سے انکار کر دیا اور اعتراف پر قائم رہی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے متعلق حکم صادر فرما دیا سو اسے رجم کر دیا گیا ۔

1549

Muwatta Imam Malik #1549

Sahih

[1549] حَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ، أَ نَّہُ سَمِعَہُ یَقُولُ : لَمَّا صَدَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مِنْ مِنًی أَنَاخَ بِالْأَبْطَحِ، ثُمَّ کَوَّمَ کَوْمَۃً بَطْحَائَ، ثُمَّ طَرَحَ عَلَیْہَا رِدَائَ ہُ وَاسْتَلْقَی، ثُمَّ مَدَّ یَدَیْہِ إِلَی السَّمَائِ فَقَالَ : اللَّہُمَّ کَبِرَتْ سِنِّی وَضَعُفَتْ قُوَّتِی وَانْتَشَرَتْ رَعِیَّتِی فَاقْبِضْنِی إِلَیْکَ غَیْرَ مُضَیِّعٍ وَلَا مُفَرِّطٍ، ثُمَّ قَدِمَ الْمَدِینَۃَ فَخَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ : أَ یُّہَا النَّاسُ قَدْ سُنَّتْ لَکُمُ السُّنَنُ، وَفُرِضَتْ لَکُمُ الْفَرَائِضُ, وَتُرِکْتُمْ عَلَی الْوَاضِحَۃِ، إِلاَّ أَنْ تَضِلُّوا بِالنَّاسِ یَمِیناً وَشِمَالاً۔ وَضَرَبَ بِإِحْدَی یَدَیْہِ عَلَی الأُخْرَی، ثُمَّ قَالَ : إِیَّاکُمْ أَنْ تَہْلِکُوا عَنْ آیَۃِ الرَّجْمِ، أَنْ یَقُولَ قَائِلٌ: لَا نَجِدُ حَدَّیْنِ فِی کِتَابِ اللّٰہِ، فَقَدْ رَجَمَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ وَرَجَمْنَا، وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ، لَوْلَا أَنْ یَقُولَ النَّاسُ : زَادَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِی کِتَابِ اللّٰہِ تَعَالَی، لَکَتَبْتُہَا: الشَّیْخُ وَالشَّیْخَۃُ فَارْجُمُوہُمَا الْبَتَّۃَ۔ فَإِنَّا قَدْ قَرَأْنَاہَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں : جب حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ( 23ھ میں اپنے آخری حج سے فارغ ہو کر ) منی سے واپس لوٹے تو ابطح ( وادی محصب ) میں انھوں نے اونٹ کو بٹھایا ، پھر انھوں نے کنکریوں کا ایک ڈھیر بنایا ، پھر اس کے اوپر اپنی چادر ڈال دی ، پھر ( انھیں تکیہ یا بستر بنا کر پشت کے بل سیدھے ) چت لیٹ گئے ، پھر اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف ( پھیلاتے ہوئے ) بلند کر دیے اور ( دعا مانگتے ہوئے ) فرمایا : اے اللہ ! میری عمر بڑھ گئی ہے ، میری قوت ، ضعف کاشکار ہو گئی ہے اور میری رعایا ( دور دراز کے ممالک تک ) پھیل گئی ہے ۔ لہٰذا مجھے اپنی طرف قبض کر ( کے اٹھا ) لے ، اس حال میں کہ میں نہ ( تیرے احکام کو ) ضائع کرنے والا ہوں اور نہ ( عبادت اور نفاذِ اسلام میں ) کوتاہی کرنے والا ہوں ۔ پھر وہ مدینہ منورہ آ گئے اور لوگوں کو خطبہ دیا ۔ چنانچہ فرمایا : اے لوگو ! یقیناً تمھارے لیے سنتیں ( مشروع ، نافذ اور ) جاری کر دی گئی ہیں ، تم پر فرائض مقرر کر دیے گئے ہیں اور تمھیں ( اسلام کے ) ایک واضح راستے پر چھوڑ دیا گیا ہے ، الّا یہ کہ تم خود لوگوں کو لے کر دائیں بائیں بھٹک جاؤ اور ( پھر ) انھوں نے اپنا ایک ہاتھ دوسرے پر مارا ، پھر فرمایا : اپنے آپ کو اس سے بچاؤ کہ تم رجم والی آیت کے بارے میں ہلاکت میں پڑو کہ کوئی کہنے والا یہ کہنے لگے کہ ہم کتاب اللہ میں دو حدیں نہیں پاتے ( بلکہ قرآن میں تو صرف کوڑوں کا ذکر ہے ۔ رجم کا نہیں ، لہٰذا سنو ) یقیناً رسول اللہ ﷺ نے بھی رجم کیا اور ( آپ ﷺ کے بعد ) ہم نے بھی رجم کیا ، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر یہ ڈرنہ ہوتا کہ لوگ کہیں گے عمر نے اللہ کی کتاب میں ( اپنی طرف سے ) اضافہ کر دیا ہے تو میں اس میں ( یہ آیت ) لکھ دیتا : ( اَلشَّیْخُ وَالشَّیْخَۃُ اِذَا زَنَیَا فَارْجُمُوْھُمَا الْبَتَّۃَ ) ’’ شادی شدہ مرد اور شادی شدہ عورت جب باہم زنا کریں تو انھیں ضرور رجم کر دو ۔‘‘ یقیناً ہم نے اسے ( نبی کریم ﷺ سے سن کر قرآن میں ) پڑھا تھا ( پھر اس کا حکم تو باقی رکھا گیا لیکن تلاوت منسوخ کر دی گئی ۔

1550

Muwatta Imam Malik #1550

Sahih

[1550] وَحَدَّثَنِی مَالِکٌ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ : أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ أُتِیَ بِامْرَأَۃٍ قَدْ وَلَدَتْ فِی سِتَّۃِ أَشْہُرٍ، فَأَمَرَ بِہَا أَنْ تُرْجَمَ، فَقَالَ عَلِیُّ بْنُ أبِی طَالِبٍ : لَیْسَ ذَلِکَ عَلَیْہَا، إِنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی یَقُولُ فِی کِتَابِہِ: {وَحَمْلُہُ وَفِصَالُہُ ثَـلَاثُونَ شَہْراً} [الأحقاف : 15] وَقَالَ : {وَالْوَالِدَاتُ یُرْضِعْنَ أَوْلَادَہُنَّ حَوْلَیْنِ کَامِلَیْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ یُتِمَّ الرَّضَاعَۃَ} [البقرۃ : 233] فَالْحَمْلُ یَکُونُ سِتَّۃَ أَشْہُرٍ، فَلَا رَجْمَ عَلَیْہَا۔ فَبَعَثَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فِی أَثَرِہَا، فَوَجَدَہَا قَدْ رُجِمَتْ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ بے شک حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت کو لایا گیا ۔ جس نے ( شادی کے بعد ) چھ ماہ ( کے اخیر ) میں بچہ جنا تھا ، تو انھوں نے اسے رجم کرنے کا حکم صادر فرما دیا ۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ( اس کے متعلق سن کر ) ان سے فرمایا : یہ رجم اس پر ( لاگو ) نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتے ہیں : { وَحَمْلُہٗ وَفِصٰلُہٗ ثَلٰثوْنَ شَھْرًا } ( الاحقاف 46 : 15 ) ’’ اور اس ( بچے ) کا حمل اور اس کا دودھ چھڑانا تیس ماہ ( کی مدت پر مشتمل ) ہے ۔‘‘ اور فرمایا : { وَالْوَالِدٰتُ یُرْضِعْنَ اَوْلَادَھُنَّ حَوْلَیْنِ کَامِلَیْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ یُّـتِمَّ الرَّضَاعَۃَ } ( البقرۃ 2 : 233 ) ’’ اور مائیں اپنی اولاد کو ( زیادہ سے زیادہ ) مکمل دو سال ( یعنی چوبیس ماہ ) دودھ پلائیں ، ( یہ حکم ) اس شخص کے لیے ( ہے ) جو دودھ پلانے کی مدت پوری کرنا چاہے ۔‘‘ لہٰذا حمل چھ مہینے کا بھی ہوتا ہے ، پس اس عورت پر سنگساری ( کی سزا عائد ) نہیں ہے ۔ چنانچہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کے پیچھے ( اسے واپس لانے کا پیغام ) بھیجا ، لیکن اس ( پیغام لے جانے والے ) نے اسے اس حال میں پایا کہ وہ رجم کی جا چکی تھی ۔

1551

Muwatta Imam Malik #1551

Sahih

[1551] وحَدَّثَنِی مَالِکٌ، أَ نَّہُ سَأَلَ ابْنَ شِہَابٍ عَنِ الَّذِی یَعْمَلُ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ؟ فَقَالَ ابْنُ شِہَابٍ : عَلَیْہِ الرَّجْمُ، أَحْصَنَ أَوْ لَمْ یُحْصِنْ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ نے ابن شہاب سے اس شخص کے متعلق سوال کیا جو قوم لوط والا عمل کرتا ہے تو ابن شہاب رحمہ اللہ نے فرمایا : اس پر رجم ( نافذ ) ہو گا شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ ۔