Muwatta Imam Malik #1538
[1538] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ أبِی لَیْلَی بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَہْلٍ، عَنْ سَہْلِ بْنِ أبِی حَثْمَۃَ، أَ نَّہُ أَخْبَرَہُ رِجَالٌ مِنْ کُبَرَائِ قَوْمِہِ : أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ سَہْلٍ وَمُحَیِّصَۃَ خَرَجَا إِلَی خَیْبَرَ مِنْ جَہْدٍ أَصَابَہُمْ، فَأُتِیَ مُحَیِّصَۃُ فَأُخْبِرَ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ سَہْلٍ قَدْ قُتِلَ وَطُرِحَ فِی فَقِیرِ بِئْرٍ أَوْ عَیْنٍ، فَأَتَی یَہُودَ فَقَالَ : أَنْتُمْ وَاللّٰہِ قَتَلْتُمُوہُ۔ فَقَالُوا : وَاللّٰہِ مَا قَتَلْنَاہُ۔ فَأَقْبَلَ حَتَّی قَدِمَ عَلَی قَوْمِہِ فَذَکَرَ لَہُمْ ذَلِکَ، ثُمَّ أَقْبَلَ ہُوَ وَأَخُوہُ حُوَیِّصَۃُ، وَہُوَ أَکْبَرُ مِنْہُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، فَذَہَبَ مُحَیِّصَۃُ لِیَتَکَلَّمَ, وَہُوَ الَّذِی کَانَ بِخَیْبَرَ، فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : کَبِّرْ کَبِّرْ یُرِیدُ السِّنَّ، فَتَکَلَّمَ حُوَیِّصَۃُ، ثُمَّ تَکَلَّمَ مُحَیِّصَۃُ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : إِمَّا أَنْ یَدُوا صَاحِبَکُمْ، وَإِمَّا أَنْ یُؤْذِنُوا بِحَرْبٍ فَکَتَبَ إِلَیْہِمْ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ فِی ذَلِکَ، فَکَتَبُوا : إِنَّا وَاللّٰہِ مَا قَتَلْنَاہُ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ لِحُوَیِّصَۃَ وَمُحَیِّصَۃَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ : أَتَحْلِفُونَ وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِکُمْ فَقَالُوا : لَا۔ قَالَ : أَفَتَحْلِفُ لَکُمْ یَہُودُ قَالُوا : لَیْسُوا بِمُسْلِمِینَ۔ فَوَدَاہُ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ مِنْ عِنْدِہِ، فَبَعَثَ إِلَیْہِمْ بِمِئَۃِ نَاقَۃٍ حَتَّی أُدْخِلَتْ عَلَیْہِمُ الدَّارَ۔ قَالَ سَہْلٌ : لَقَدْ رَکَضَتْنِی مِنْہَا نَاقَۃٌ حَمْرَائُ۔ قَالَ مَالِکٌ : الْفَقِیرُ ہُوَ الْبِئْرُ۔
اردو ترجمہ · Urdu
حضرت سہل بن ابی حثمہ ( انصاری ، خزرجی ) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، ان کی قوم کے بڑوں میں سے کچھ لوگوں نے انھیں یہ خبر دی کہ بے شک حضرت عبداللہ بن سہل ( بن زید بن کعب انصاری ، اوسی ، حارثی ) اور حضرت محیصہ ( بن مسعود بن کعب انصاری ، اوسی ، حارثی رضی اللہ عنہ ) اس مشقت ( و تنگدستی ) جو انھیں پہنچی ہوئی تھی ، کی وجہ سے خیبر کی طرف نکلے ( جہاں یہودی آباد تھے ، وہ کھجوریں حاصل کرنے کے لیے وہاں پہنچ کر الگ الگ ہو گئے کہ اتنے میں ) حضرت محیصہ رضی اللہ عنہ کے پاس کوئی آیا اور انھیں یہ اطلاع دی گئی کہ حضرت عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کو قتل کر دیا گیا ہے اور انھیں پانی کے ایک گڑھے میں یعنی کنویں یا چشمے میں پھینک دیا گیا ہے ۔ وہ ( محیصہ رضی اللہ عنہ ) یہودیوں کے پاس آئے اور کہنے لگے : اللہ کی قسم ! تم نے اسے قتل کیا ہے ، وہ بولے : اللہ کی قسم ! ہم نے اسے نہیں مارا ، چنانچہ وہ ( محیصہ رضی اللہ عنہ واپس ) متوجہ ہوئے ، یہاں تک کہ اپنی قوم ( بنوحارثہ ) کے پاس آئے اور ان سے اس کا ذکر کیا ، پھر وہ ( خود ) اور ان کے بھائی حضرت حویصہ رضی اللہ عنہ جو کہ ان سے بڑے تھے اور ( مقتول کے بھائی ) حضرت عبدالرحمن ( بن سہل رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی طرف ) متوجہ ہوئے ، پس حضرت محیصہ رضی اللہ عنہ شروع ہوئے ، وہ بات کرنے لگے اور وہی خیبر میں ( مقتول کے ساتھ گئے ) تھے ، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا :’’ بڑے کو بات کرنے دو ، بڑے کو بات کرنے دو ۔‘‘ آپ ﷺ عمر ( میں بڑا ہونا ) مراد لے رہے تھے ( تاکہ ادب کے تقاضے ملحوظ رہیں ) سو حضرت حویصہ رضی اللہ عنہ نے گفتگو کی ، پھر حضرت محیصہ رضی اللہ عنہ نے بات کی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یا تو وہ ( یہودی ) تمھارے صاحب ( یعنی مقتول ) کی دیت ادا کریں ، یا پھر اعلان جنگ کر دیں ۔‘‘ پھر رسول اللہ ﷺ نے ان ( یہودیوں ) کی طرف اس بارے میں ( پیغام ) لکھا تو انھوں نے ( جواب میں ) لکھا کہ یقیناً اللہ کی قسم ! ہم نے اسے قتل نہیں کیا ، تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت حویصہ رضی اللہ عنہ ، حضرت محیصہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عبدالرحمن بن سہل رضی اللہ عنہ سے فرمایا :’’ کیا تم حلف اٹھاتے ہو اور ( قسموں کے ذریعے ) اپنے ساتھی کی دیت کے حقدار بنتے ہو ؟‘‘ انھوں نے عرض کیا کہ : نہیں ، تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تو کیا تمھارے ( اطمینان کے ) لیے یہودی قسمیں اٹھا لیں ؟‘‘ وہ بولے کہ وہ تو مسلمان ہی نہیں ہیں ، ( وہ جھوٹی قسمیں کھانے سے بالکل دریغ نہیں کریں گے ) تو رسول اللہ ﷺ نے انھیں اپنے پاس سے دیت عطا فرمائی ، چنانچہ آپ ﷺ نے ان کی طرف سو اونٹنیاں بھیجیں ، یہاں تک کہ وہ سب ان کے پاس گھر میں داخل کر دی گئیں ، ( حدیث کے راوی ) حضرت سہل ( بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ ) نے بتایا : ان میں سے ایک سرخ رنگ کی اونٹنی نے مجھے لات ماری تھی ۔ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا : روایت کے لفظ ’’فقیر‘‘ سے مراد کنواں ہے ۔