Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 42 · Chapter 497

قسامہ ( پچاس قسمیں لینے ) کے متعلق کتاب

قسامہ میں خون کا تقاضا کرنے والے ورثاء سے قسمیں لینے میں آغاز کا بیان

2 hadiths in this chapter

1538

Muwatta Imam Malik #1538

Sahih

[1538] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ أبِی لَیْلَی بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَہْلٍ، عَنْ سَہْلِ بْنِ أبِی حَثْمَۃَ، أَ نَّہُ أَخْبَرَہُ رِجَالٌ مِنْ کُبَرَائِ قَوْمِہِ : أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ سَہْلٍ وَمُحَیِّصَۃَ خَرَجَا إِلَی خَیْبَرَ مِنْ جَہْدٍ أَصَابَہُمْ، فَأُتِیَ مُحَیِّصَۃُ فَأُخْبِرَ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ سَہْلٍ قَدْ قُتِلَ وَطُرِحَ فِی فَقِیرِ بِئْرٍ أَوْ عَیْنٍ، فَأَتَی یَہُودَ فَقَالَ : أَنْتُمْ وَاللّٰہِ قَتَلْتُمُوہُ۔ فَقَالُوا : وَاللّٰہِ مَا قَتَلْنَاہُ۔ فَأَقْبَلَ حَتَّی قَدِمَ عَلَی قَوْمِہِ فَذَکَرَ لَہُمْ ذَلِکَ، ثُمَّ أَقْبَلَ ہُوَ وَأَخُوہُ حُوَیِّصَۃُ، وَہُوَ أَکْبَرُ مِنْہُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، فَذَہَبَ مُحَیِّصَۃُ لِیَتَکَلَّمَ, وَہُوَ الَّذِی کَانَ بِخَیْبَرَ، فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : کَبِّرْ کَبِّرْ یُرِیدُ السِّنَّ، فَتَکَلَّمَ حُوَیِّصَۃُ، ثُمَّ تَکَلَّمَ مُحَیِّصَۃُ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : إِمَّا أَنْ یَدُوا صَاحِبَکُمْ، وَإِمَّا أَنْ یُؤْذِنُوا بِحَرْبٍ فَکَتَبَ إِلَیْہِمْ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ فِی ذَلِکَ، فَکَتَبُوا : إِنَّا وَاللّٰہِ مَا قَتَلْنَاہُ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ لِحُوَیِّصَۃَ وَمُحَیِّصَۃَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ : أَتَحْلِفُونَ وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِکُمْ فَقَالُوا : لَا۔ قَالَ : أَفَتَحْلِفُ لَکُمْ یَہُودُ قَالُوا : لَیْسُوا بِمُسْلِمِینَ۔ فَوَدَاہُ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ مِنْ عِنْدِہِ، فَبَعَثَ إِلَیْہِمْ بِمِئَۃِ نَاقَۃٍ حَتَّی أُدْخِلَتْ عَلَیْہِمُ الدَّارَ۔ قَالَ سَہْلٌ : لَقَدْ رَکَضَتْنِی مِنْہَا نَاقَۃٌ حَمْرَائُ۔ قَالَ مَالِکٌ : الْفَقِیرُ ہُوَ الْبِئْرُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت سہل بن ابی حثمہ ( انصاری ، خزرجی ) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، ان کی قوم کے بڑوں میں سے کچھ لوگوں نے انھیں یہ خبر دی کہ بے شک حضرت عبداللہ بن سہل ( بن زید بن کعب انصاری ، اوسی ، حارثی ) اور حضرت محیصہ ( بن مسعود بن کعب انصاری ، اوسی ، حارثی رضی اللہ عنہ ) اس مشقت ( و تنگدستی ) جو انھیں پہنچی ہوئی تھی ، کی وجہ سے خیبر کی طرف نکلے ( جہاں یہودی آباد تھے ، وہ کھجوریں حاصل کرنے کے لیے وہاں پہنچ کر الگ الگ ہو گئے کہ اتنے میں ) حضرت محیصہ رضی اللہ عنہ کے پاس کوئی آیا اور انھیں یہ اطلاع دی گئی کہ حضرت عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کو قتل کر دیا گیا ہے اور انھیں پانی کے ایک گڑھے میں یعنی کنویں یا چشمے میں پھینک دیا گیا ہے ۔ وہ ( محیصہ رضی اللہ عنہ ) یہودیوں کے پاس آئے اور کہنے لگے : اللہ کی قسم ! تم نے اسے قتل کیا ہے ، وہ بولے : اللہ کی قسم ! ہم نے اسے نہیں مارا ، چنانچہ وہ ( محیصہ رضی اللہ عنہ واپس ) متوجہ ہوئے ، یہاں تک کہ اپنی قوم ( بنوحارثہ ) کے پاس آئے اور ان سے اس کا ذکر کیا ، پھر وہ ( خود ) اور ان کے بھائی حضرت حویصہ رضی اللہ عنہ جو کہ ان سے بڑے تھے اور ( مقتول کے بھائی ) حضرت عبدالرحمن ( بن سہل رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی طرف ) متوجہ ہوئے ، پس حضرت محیصہ رضی اللہ عنہ شروع ہوئے ، وہ بات کرنے لگے اور وہی خیبر میں ( مقتول کے ساتھ گئے ) تھے ، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا :’’ بڑے کو بات کرنے دو ، بڑے کو بات کرنے دو ۔‘‘ آپ ﷺ عمر ( میں بڑا ہونا ) مراد لے رہے تھے ( تاکہ ادب کے تقاضے ملحوظ رہیں ) سو حضرت حویصہ رضی اللہ عنہ نے گفتگو کی ، پھر حضرت محیصہ رضی اللہ عنہ نے بات کی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یا تو وہ ( یہودی ) تمھارے صاحب ( یعنی مقتول ) کی دیت ادا کریں ، یا پھر اعلان جنگ کر دیں ۔‘‘ پھر رسول اللہ ﷺ نے ان ( یہودیوں ) کی طرف اس بارے میں ( پیغام ) لکھا تو انھوں نے ( جواب میں ) لکھا کہ یقیناً اللہ کی قسم ! ہم نے اسے قتل نہیں کیا ، تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت حویصہ رضی اللہ عنہ ، حضرت محیصہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عبدالرحمن بن سہل رضی اللہ عنہ سے فرمایا :’’ کیا تم حلف اٹھاتے ہو اور ( قسموں کے ذریعے ) اپنے ساتھی کی دیت کے حقدار بنتے ہو ؟‘‘ انھوں نے عرض کیا کہ : نہیں ، تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تو کیا تمھارے ( اطمینان کے ) لیے یہودی قسمیں اٹھا لیں ؟‘‘ وہ بولے کہ وہ تو مسلمان ہی نہیں ہیں ، ( وہ جھوٹی قسمیں کھانے سے بالکل دریغ نہیں کریں گے ) تو رسول اللہ ﷺ نے انھیں اپنے پاس سے دیت عطا فرمائی ، چنانچہ آپ ﷺ نے ان کی طرف سو اونٹنیاں بھیجیں ، یہاں تک کہ وہ سب ان کے پاس گھر میں داخل کر دی گئیں ، ( حدیث کے راوی ) حضرت سہل ( بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ ) نے بتایا : ان میں سے ایک سرخ رنگ کی اونٹنی نے مجھے لات ماری تھی ۔ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا : روایت کے لفظ ’’فقیر‘‘ سے مراد کنواں ہے ۔

1539

Muwatta Imam Malik #1539

Sahih

[1539] قَالَ یَحْیَی : عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ بُشَیْرِ بْنِ یَسَارٍ, أَ نَّہُ أَخْبَرَہُ : أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ سَہْلٍ الْأَنْصَارِیَّ وَمُحَیِّصَۃَ بْنَ مَسْعُودٍ خَرَجَا إِلَی خَیْبَرَ، فَتَفَرَّقَا فِی حَوَائِجِہِمَا، فَقُتِلَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ سَہْلٍ، فَقَدِمَ مُحَیِّصَۃُ، فَأَتَی ہُوَ وَأَخُوہُ حُوَیِّصَۃُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَہْلٍ إِلَی النَّبِیِّ ﷺ ، فَذَہَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ لِیَتَکَلَّمَ لِمَکَانِہِ مِنْ أَخِیہِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : کَبِّرْ کَبِّرْ فَتَکَلَّمَ حُوَیِّصَۃُ وَمُحَیِّصَۃُ، فَذَکَرَا شَأْنَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ سَہْلٍ۔ فَقَالَ لَہُمْ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : أَتَحْلِفُونَ خَمْسِینَ یَمِیناً وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِکُمْ أَوْ قَاتِلِکُمْ قَالُوا : یَا رَسُولَ اللّٰہِ لَمْ نَشْہَدْ وَلَمْ نَحْضُرْ۔ فَقَالَ لَہُمْ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : فَتُبْرِئُکُمْ یَہُودُ بِخَمْسِینَ یَمِیناً فَقَالُوا : یَا رَسُولَ اللّٰہِ کَیْفَ نَقْبَلُ أَیْمَانَ قَوْمٍ کُفَّارٍ۔ قَالَ یَحْیَی : بْنُ سَعِیدٍ، فَزَعَمَ بُشَیْرُ بْنُ یَسَارٍ : أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ وَدَاہُ مِنْ عِنْدِہِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

بُشیر بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک حضرت عبداللہ بن سہل انصاری رضی اللہ عنہ اور حضرت محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہ دونوں ( اپنے کچھ اور ساتھیوں کے ہمراہ ) خیبر کی طرف نکلے ، پھر وہ دونوں اپنے اپنے کاموں ( کے سلسلے ) میں الگ الگ ہو گئے تو حضرت عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ قتل کر دیے گئے ، سو حضرت محیصہ رضی اللہ عنہ ( ان کی تدفین کر کے مدینہ منورہ ) واپس آ گئے ، پھر وہ خود ، ان کے ( بڑے ) بھائی حضرت حویصہ اور حضرت عبدالرحمن بن سہل رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، پس حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ ( جو عمر میں باقی دونوں سے چھوٹے تھے ) اپنے ( مقتول ) بھائی سے ( زیادہ قریبی ) تعلق ہونے کی بنا پر بات کرنے لگے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بڑے کو بات کرنے دو ، بڑے کو بات کرنے دو ۔‘‘ چنانچہ حضرت حویصہ اور حضرت محیصہ رضی اللہ عنہ نے گفتگو کی اور حضرت عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کا معاملہ ذکر کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم اللہ کے نام کی پچاس قسمیں کھاؤ گے اور اپنے ساتھی کے خون یا ( فرمایا کہ ) اپنے ( بھائی کے ) قاتل کے خون کے حقدار بنو گے ؟‘‘ وہ عرض کرنے لگے : اے اللہ کے رسول ﷺ ! نہ تو ہم ( جائے واردات پر ) موجود تھے اور نہ حاضر تھے ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تو پھر یہودی پچاس قسمیں کھا کر تم سے بری ہو جائیں گے ۔ وہ عرض کرنے لگے : اے اللہ کے رسول ! ہم کافر لوگوں کی قسمیں قبول کر لیں ؟ یحیی بن سعید رحمہ اللہ نے کہا کہ بشیر نے کہا تھا : یقیناً رسول اللہ ﷺ نے اس کی دیت اپنے پاس سے ادا کی تھی ۔