Muwatta Imam Malik #1537
[1537] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ أبِی الزِّنَادِ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ: أَنَّ سَائِبَۃً أَعْتَقَہُ بَعْضُ الْحُجَّاجِ، فَقَتَلَ ابْنَ رَجُلٍ مِنْ بَنِی عَائِذٍ، فَجَائَ الْعَائِذِیُّ أَبُو الْمَقْتُولِ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ یَطْلُبُ دِیَۃَ ابْنِہِ، فَقَالَ عُمَرُ : لَا دِیَۃَ لَہُ. فَقَالَ الْعَائِذِیُّ: أَرَأَیْتَ لَوْ قَتَلَہُ ابْنِی ؟ فَقَالَ عُمَرُ: إِذَنْ تُخْرِجُونَ دِیَتَہُ۔ فَقَالَ الْعَائِذِیُّ : ہُوَ إِذًا کَالأَرْقَمِ، إِنْ یُتْرَکْ یَلْقَمْ، وَإِنْ یُقْتَلْ یَنْقَمْ۔
اردو ترجمہ · Urdu
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک ایک سائبہ غلام جسے حاجیوں میں سے کسی نے آزاد کیا تھا ، ( اس سائبہ غلام ) نے بنو عائذ خاندان کے ایک شخص کا بیٹا قتل کر ڈالا ، تو عائذی شخص یعنی مقتول کا باپ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، وہ اپنے بیٹے کی دیت کا مطالبہ کر رہا تھا ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس کی کوئی دیت نہیں ہے ( کیونکہ خود اس کے پاس بھی کچھ نہیں ہے اور اس کا کوئی خاندان بھی نہیں ہے ) ۔ تو وہ عائذی شخص کہنے لگا : آپ مجھے بتائیے کہ اگر میرا بیٹا اسے قتل کر دیتا ( تو کیا اس کی دیت دینا پڑتی ) ؟ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ( واقعی ) پھر تو تم اس کی دیت ادا کرتے ۔ تو ( یہ سن کر ) عائذی شخص کہنے لگا : ( ھُوَ اِذًا کَالْاَرْقَم ، اِنْ یُّتْرَکْ یَلْقَمْ ، وَ اِنْ یُّقْتَلْ یَنْقَمْ ) ’’ وہ تو پھر چتکبرے سانپ کی طرح ہوا کہ اگر اسے چھوڑا جائے ( اسے نہ مارا جائے ) تو لقمہ بنا لیتا ہے ( ڈس لیتا ہے ) اور اگر اسے قتل کیا جائے تو انتقام لیتا ہے ۔