Muwatta Imam Malik #1532
[1532] وَحَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَتَلَ نَفَراً خَمْسَۃً أَوْ سَبْعَۃً بِرَجُلٍ وَاحِدٍ، قَتَلُوہُ قَتْلَ غِیلَۃٍ، وَقَالَ عُمَرُ : لَوْ تَمَالَأَ عَلَیْہِ أَہْلُ صَنْعَائَ، لَقَتَلْتُہُمْ جَمِیعاً۔
اردو ترجمہ · Urdu
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بلاشبہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے پانچ یا سات آدمیوں کے گروہ کو ایک ایسے آدمی کے بدلے ( قصاصاً ) قتل کر دیا تھا جسے انھوں نے دھوکے سے مارا تھا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر اس ( کے قتل ) پر اہل صنعاء ( یعنی یمن کے شہر صنعاء کے تمام لوگ باہمی تعاون کرتے ہوئے ) جمع ہو جاتے تو میں ضرور ان سب کو قتل کر ڈالتا ۔