Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 41 · Chapter 490

دِیتوں ( خون بہا ) کے مسائل کی کتاب

دیت کی وراثت اور اس کے مغلظہ ہونے کا بیان

4 hadiths in this chapter

1527

Muwatta Imam Malik #1527

Sahih

[1527] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ نَشَدَ النَّاسَ بِمِنًی : مَنْ کَانَ عِنْدَہُ عِلْمٌ مِنَ الدِّیَۃِ أَنْ یُخْبِرَنِی۔ فَقَامَ الضَّحَّاکُ بْنُ سُفْیَانَ الْکِلابِی فَقَالَ : کَتَبَ إِلَیَّ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : أَنْ أُوَرِّثَ امْرَأَۃَ أَشْیَمَ الضِّبَأبِی مِنْ دِیَۃِ زَوْجِہَا۔ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : ادْخُلِ الْخِبَائَ حَتَّی آتِیَکَ، فَلَمَّا نَزَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَخْبَرَہُ الضَّحَّاکُ، فَقَضَی بِذَلِکَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ. قَالَ ابْنُ شِہَابٍ :وَکَانَ قَتْلُ أَشْیَمَ خَطَأً۔

اردو ترجمہ · Urdu

ابن شہاب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے منیٰ کے میدان میں لوگوں سے دریافت کیا کہ جس کسی کے پاس دیت کے متعلق علم ہو وہ مجھے خبر دے تو حضرت ضحاک بن سفیان کلابی رضی اللہ عنہ ( جو عہد نبوی ﷺ میں اہلِ نجد اور اعراب پر رسول اللہ ﷺ کی طرف سے عامل تھے ) کھڑے ہوئے ، پھر کہنے لگے : رسول اللہ ﷺ نے میری طرف یہ لکھا تھا کہ میں اشیم ضبابی رضی اللہ عنہ کی بیوی کو اس کے خاوند کی دیت سے وراثت دوں ۔ چنانچہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ( جو امور حج کی بنا پر مصروف تھے اور سواری پر تھے ) ۔ نے ان سے فرمایا : تم خیمے میں داخل ہو جاؤ ( اور وہیں رہو ) یہاں تک کہ میں تمھارے پاس آتا ہوں ( تاکہ تم سے تفصیل معلوم کر سکوں ) ، پھر جب حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ( سواری سے ) اترے تو حضرت ضحاک رضی اللہ عنہ نے انھیں خبر دی ، سو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اسی کے مطابق فیصلہ فرما دیا ۔ ( حدیث کے راوی ) ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں : حضرت اشیم رضی اللہ عنہ خطا سے قتل کر دیے گئے تھے ۔

1528

Muwatta Imam Malik #1528

Zaeef

[1528] وَحَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ : أَنَّ رَجُلاً مِنْ بَنِی مُدْلِجٍ، یُقَالُ لَہُ قَتَادَۃُ، حَذَفَ ابْنَہُ بِالسَّیْفِ، فَأَصَابَ سَاقَہُ فَنُزِیَ فِی جُرْحِہِ فَمَاتَ، فَقَدِمَ سُرَاقَۃُ بْنُ جُعْشُمٍ عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَہُ، فَقَالَ لَہُ عُمَرُ : اعْدُدْ عَلَی مَائِ قُدَیْدٍ عِشْرِینَ وَمِئَۃَ بَعِیرٍ حَتَّی أَقْدَمَ عَلَیْکَ۔ فَلَمَّا قَدِمَ عَلَیْہِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَخَذَ مِنْ تِلْکَ الإِبِلِ ثَلَاثِینَ حِقَّۃً، وَثَلَاثِینَ جَذَعَۃً، وَأَرْبَعِینَ خَلِفَۃً، ثُمَّ قَالَ : أَیْنَ أَخُو الْمَقْتُولِ ؟ قَالَ : ہَا أَنَا ذَا۔ قَالَ : خُذْہَا، فَإِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ :لَیْسَ لِقَاتِلٍ شَیْئٌ۔

اردو ترجمہ · Urdu

عمرو بن شعیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بیشک بنومدلج قبیلے کے ایک شخص جسے قتادہ رحمہ اللہ کہا جاتا تھا ، نے اپنے بیٹے کو ( غصے میں یا کسی اور وجہ سے ) تلوار ماری جو اس کی پنڈلی پر لگی ، اس کے زخم سے بہت زیادہ خون بہہ گیا ( اور بند نہ ہوا ) جس سے وہ مر گیا تو ( قبیلے کے سردار ) حضرت سراقہ بن ( مالک بن ) جعشم رضی اللہ عنہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے اس کا ذکر کیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ( مکہ و مدینہ میں واقع ) قدید کے چشمے پر ایک سو بیس اونٹ ( دیت کے لیے ) تیار رکھو ، یہاں تک کہ میں تمھارے پاس آؤں ( اور معاملہ حل کروں ) ۔ چنانچہ جب حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے تو انھوں نے ان اونٹوں میں سے تیس حقے ( تین سالہ اونٹنیاں ) ، تیس جذعے ( چار سالہ اونٹنیاں ) اور چالیس حاملہ اونٹنیاں نکال لیں ، پھر فرمایا کہ مقتول کا بھائی کہاں ہے ؟ اس نے کہا کہ جی ، وہ میں ہوں ، انھوں نے فرمایا : ان سب کو لے لو ( یہ سب تمھاری ہیں ۔ ) کیونکہ بلاشبہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا :’’ قاتل کے لیے ( مقتول کی وراثت میں سے ) کچھ نہیں ہے ۔‘‘

1529

Muwatta Imam Malik #1529

Zaeef

[1529] وَحَدَّثَنِی مَالِکٌ، أَنَّہُ بَلَغَہُ : أَنَّ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ، وَسُلَیْمَانَ بْنَ یَسَارٍ سُئِلَا : أَتُغَلَّظُ الدِّیَۃُ فِی الشَّہْرِ الْحَرَامِ ؟ فَقَالَا: لَا، وَلَکِنْ یُزَادُ فِیہَا لِلْحُرْمَۃِ۔ فَقِیلَ لِسَعِیدٍ: ہَلْ یُزَادُ فِی الْجِرَاحِ کَمَا یُزَادُ فِی النَّفْسِ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ بے شک سعید بن مسیب رحمہ اللہ اور سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ کیا حرمت والے مہینے میں ( قتل کی ) دیت سخت کر دی جائے گی ( اور مُغَلَّظہ بنا دی جائے گی ) ؟ تو دونوں نے فرمایا : نہیں ، بلکہ حرمت کی وجہ سے اس ( دیت کے اونٹوں کی تعداد ) میں اضافہ کر دیا جائے گا ، پھر سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ کیا زخموں میں بھی ( دیت کے اونٹوں کا ) اضافہ کیا جائے گا جس طرح کہ جان ( ضائع کرنے ) میں ( دیت کا ) اضافہ کیا جاتا ہے ؟ تو سعید رحمہ اللہ نے فرمایا : ہاں ۔

1530

Muwatta Imam Malik #1530

Sahih

[1530] وَحَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ : أَنَّ رَجُلاً مِنَ الْأَنْصَارِ، یُقَالُ لَہُ : أُحَیْحَۃُ بْنُ الْجُلَاحِ ، کَانَ لَہُ عَمٌّ صَغِیرٌ ہُوَ أَصْغَرُ مِنْ أُحَیْحَۃَ، وَکَانَ عِنْدَ أَخْوَالِہِ، فَأَخَذَہُ أُحَیْحَۃُ فَقَتَلَہُ، فَقَالَ أَخْوَالُہُ : کُنَّا أَہْلَ ثُمِّہِ وَرُمِّہِ، حَتَّی إِذَا اسْتَوَی عَلَی عُمَمِہِ، غَلَبَنَا حَقُّ امْرِیٍٔ فِی عَمِّہِ۔ قَالَ عُرْوَۃُ فَلِذَلِکَ لَا یَرِثُ قَاتِلٌ مَنْ قَتَلَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک انصار ( کے خاندان ) میں سے ( دور جاہلیت کے ) ایک شخص کو احیحہ بن جلاح کہا جاتا تھا ۔ اس کا ایک چھوٹا چچا تھا ، جو اُحیحہ سے بھی کم عمر تھا اور اپنے ماموؤں کے پاس ( ننھیال میں ) رہتا تھا ، اُحیحہ ( جو اس کا بھتیجا تھا ) نے اسے پکڑا اور قتل کر دیا ( اور دورِ جاہلیت میں قاتل ہونے کے باوجود بھتیجا مقتول چچا کی وراثت پا لیتا تھا جبکہ اس کے ماموں وراثت کے حقدار نہ ٹھہرتے تھے ) تو اس کے ماموں کہنے لگے : ( اس بچے کے بچپن میں ) اس کی اصلاح و تربیت کرنے والے ہم تھے ، یہاں تک کہ جب وہ اپنی مکمل جوانی کو پہنچا تو ہم پر اس شخص کا وہ حق غالب آ گیا جو اس کے چچا میں ( ثابت ) تھا ( حق وراثت میں اس کا چچا ہم پر غالب رہا ) ۔ عروہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر اسی وجہ سے قاتل اس شخص کا وارث نہیں بن سکتا جس کو وہ قتل کر دے ۔