Muwatta Imam Malik #1527
[1527] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ نَشَدَ النَّاسَ بِمِنًی : مَنْ کَانَ عِنْدَہُ عِلْمٌ مِنَ الدِّیَۃِ أَنْ یُخْبِرَنِی۔ فَقَامَ الضَّحَّاکُ بْنُ سُفْیَانَ الْکِلابِی فَقَالَ : کَتَبَ إِلَیَّ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : أَنْ أُوَرِّثَ امْرَأَۃَ أَشْیَمَ الضِّبَأبِی مِنْ دِیَۃِ زَوْجِہَا۔ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : ادْخُلِ الْخِبَائَ حَتَّی آتِیَکَ، فَلَمَّا نَزَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَخْبَرَہُ الضَّحَّاکُ، فَقَضَی بِذَلِکَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ. قَالَ ابْنُ شِہَابٍ :وَکَانَ قَتْلُ أَشْیَمَ خَطَأً۔
اردو ترجمہ · Urdu
ابن شہاب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے منیٰ کے میدان میں لوگوں سے دریافت کیا کہ جس کسی کے پاس دیت کے متعلق علم ہو وہ مجھے خبر دے تو حضرت ضحاک بن سفیان کلابی رضی اللہ عنہ ( جو عہد نبوی ﷺ میں اہلِ نجد اور اعراب پر رسول اللہ ﷺ کی طرف سے عامل تھے ) کھڑے ہوئے ، پھر کہنے لگے : رسول اللہ ﷺ نے میری طرف یہ لکھا تھا کہ میں اشیم ضبابی رضی اللہ عنہ کی بیوی کو اس کے خاوند کی دیت سے وراثت دوں ۔ چنانچہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ( جو امور حج کی بنا پر مصروف تھے اور سواری پر تھے ) ۔ نے ان سے فرمایا : تم خیمے میں داخل ہو جاؤ ( اور وہیں رہو ) یہاں تک کہ میں تمھارے پاس آتا ہوں ( تاکہ تم سے تفصیل معلوم کر سکوں ) ، پھر جب حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ( سواری سے ) اترے تو حضرت ضحاک رضی اللہ عنہ نے انھیں خبر دی ، سو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اسی کے مطابق فیصلہ فرما دیا ۔ ( حدیث کے راوی ) ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں : حضرت اشیم رضی اللہ عنہ خطا سے قتل کر دیے گئے تھے ۔