Muwatta Imam Malik #1517
[1517] وَحَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَیْنِ، عَنْ أبِی غَطَفَانَ بْنِ طَرِیفٍ الْمُرِّیِّ، أَ نَّہُ أَخْبَرَہُ : أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَکَمِ بَعَثَہُ إِلَی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ یَسْأَلُہُ : مَاذَا فِی الضِّرْسِ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبَّاسٍ : فِیہِ خَمْسٌ مِنَ الإِبِلِ. قَالَ : فَرَدَّنِی مَرْوَانُ إِلَی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ : أَتَجْعَلُ مُقَدَّمَ الْفَمِ مِثْلَ الأَضْرَاسِ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبَّاسٍ : لَوْ لَمْ تَعْتَبِرْ ذَلِکَ إِلاَّ بِالأَصَابِعِ عَقْلُہَا سَوَائٌ۔
اردو ترجمہ · Urdu
ابو غطفان بن طریف مُرّی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بیشک ( امیرِ مدینہ ) مروان بن حکم رحمہ اللہ نے انھیں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف بھیجا ، ( تاکہ ) وہ ان سے یہ سوال کریں کہ داڑھ میں کیا ( دیت لازم ) ہے ؟ تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس میں پانچ اونٹ ہیں ۔ ابوغطفان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مروان رحمہ اللہ نے مجھے دوبارہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی طرف لوٹا دیا اور یہ کہلایا کہ کیا آپ منہ کے سامنے والے حصے ( کے دانتوں ) کو داڑھوں کی مثل قرار دیتے ہیں ؟ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر آپ اس کا اعتبار ( کسی اور طرح سے ) نہ کریں مگر ( صرف ) انگلیوں ہی سے ( اسے قیاس کر لیں ) کہ جن کی دیت ( باوجود چھوٹی بڑی ہونے کے ) برابر ہے ( تو آپ کے لیے یہی قیاس کافی ہے ) ۔