Muwatta Imam Malik #1498
[1498] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ عِرَاکِ بْنِ مَالِکٍ، وَسُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ : أَنَّ رَجُلاً مِنْ بَنِی سَعْدِ بْنِ لَیْثٍ أَجْرَی فَرَساً، فَوَطِیَٔ عَلَی إِصْبَعِ رَجُلٍ مِنْ جُہَیْنَۃَ، فَنُزِیَ مِنْہَا فَمَاتَ. فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِلَّذِینَ ادُّعِیَ عَلَیْہِمْ: أَتَحْلِفُونَ بِاللّٰہِ خَمْسِینَ یَمِیناً مَا مَاتَ مِنْہَا؟ فَأَبَوْا وَتَحَرَّجُوا، وَقَالَ لِلآخَرِینَ : أَتَحْلِفُونَ أَنْتُمْ ؟ فَأَبَوْا، فَقَضَی عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِشَطْرِ الدِّیَۃِ عَلَی السَّعْدِیِّینَ۔
اردو ترجمہ · Urdu
عراک بن مالک رحمہ اللہ اور سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بنو سعد بن لیث قبیلے کے ایک شخص نے ایک گھوڑا دوڑایا ، اس گھوڑے نے جہینہ قبیلے کے ایک آدمی کی انگلی روند ڈالی تو اس سے بہت زیادہ خون بہہ نکلا ، چنانچہ ( وہ خون بند نہ ہو سکا اور ) وہ شخص مر گیا ، تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں سے جن کے خلاف دعویٰ کیا گیا تھا ( یعنی مدعا علیہ قبیلے ) سے کہا : کیا تم اس بات پر اللہ کے نام کی پچاس قسمیں کھاتے ہو کہ وہ آدمی اس ( انگلی کی وجہ ) سے نہیں مرا تو انھوں نے انکار کیا اور ( یہ قسمیں کھانے کو ) گناہ خیال کیا ۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دوسرے لوگوں ( مدعی قبیلے ) سے کہا : کیا تم قسمیں کھاؤ گے ؟ انھوں نے بھی انکار کر دیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سعد قبیلہ والوں کے خلاف نصف دیت کا فیصلہ کر دیا ۔