Muwatta Imam Malik #1484
[1484] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أبِی بَکْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَنْظَلَۃَ الزُّرَقِیِّ، أَنَّہُ أَخْبَرَہُ، عَنْ مَوْلًی لِقُرَیْشٍ کَانَ قَدِیماً یُقَالُ لَہُ ابْنُ مِرْسَی، أَ نَّہُ قَالَ : کُنْتُ جَالِساً عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ, فَلَمَّا صَلَّی الظُّہْرَ قَالَ : یَا یَرْفَأُ ہَلُمَّ ذَلِکَ الْکِتَابَ - لِکِتَابٍ کَتَبَہُ فِی شَأْنِ الْعَمَّۃِ - فَنَسْأَلَ عَنْہَا وَنَسْتَخْبِرَ فِیہَا، فَأَتَاہُ بِہِ یَرْفَأُ، فَدَعَا بِتَوْرٍ أَوْ قَدَحٍ فِیہِ مَائٌ، فَمَحَا ذَلِکَ الْکِتَابَ فِیہِ، ثُمَّ قَالَ : لَوْ رَضِیَکِ اللّٰہُ أَقَرَّکِ، لَوْ رَضِیَکِ اللّٰہُ أَقَرَّکِ۔
اردو ترجمہ · Urdu
قریش کے ایک مولیٰ ( یعنی آزاد کردہ غلام یا حلیف ) سے روایت ہے جو کہ قدیم ( عمر رسیدہ اور بزرگ ) تھا اسے ابن مِرسیٰ کہا جاتا تھا ۔ وہ کہتا ہے کہ میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، جب انھوں نے ظہر کی نماز پڑھی تو ( اپنے غلام سے ) کہا : اے یرفا ! وہ کتاب ( تحریر ) تو لے آؤ ، ( انھوں نے ) اس تحریر کے متعلق فرمایا جو انھوں نے پھوپھی کے متعلق لکھ رکھی تھی ( یہ قیاس کر کے کہ جب بھتیجا پھوپھی کی وراثت پا سکتا ہے تو پھوپھی بھی بھتیجے کی وارث بنے گی ) وہ اس کے متعلق ( لوگوں سے ) پوچھنا چاہتے تھے اور اس کے متعلق مشورہ کرنا چاہتے تھے ۔ یرفا اسے لے آیا تو انھوں نے پتھر ( یا پیتل ) کا ایک برتن یا ( لکڑی وغیرہ کا ) پیالہ منگوایا جس میں کچھ پانی تھا ، پھر اس ( پانی ) میں اس تحریر کو مٹا ڈالا ، پھر ( ذہن میں پھوپھی کو مخاطب کرتے ہوئے ) فرمایا : اگر اللہ تیرے وارث ہونے پر راضی ہوتا تو تجھے بھی ( قرآن میں ) ثابت فرما دیتا ، اگر اللہ کو تیرا ( وارث بننا ) منظور ہوتا تو ( اپنی کتاب میں ) تیرا اقرار ( اور اظہار ) فرما دیتا ۔