Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 39 · Chapter 466

گروی رکھنے کے بیان کے متعلق کتاب

مختلف قسم کے فیصلوں اور منصبِ قضا کے مکروہ ہونے کا بیان

2 hadiths in this chapter

1474

Muwatta Imam Malik #1474

Zaeef

[1474] حَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ: أَنَّ أَبَا الدَّرْدَائِ کَتَبَ إِلَی سَلْمَانَ الْفَارِسِیِّ : أَنْ ہَلُمَّ إِلَی الأَرْضِ الْمُقَدَّسَۃِ، فَکَتَبَ إِلَیْہِ سَلْمَانُ : إِنَّ الأَرْضَ لَا تُقَدِّسُ أَحَداً، وَإِنَّمَا یُقَدِّسُ الإِنْسَانَ عَمَلُہُ، وَقَدْ بَلَغَنِی أَ نَّکَ جُعِلْتَ طَبِیباً تُدَاوِی، فَإِنْ کُنْتَ تُبْرِیُٔ فَنِعِمَّا لَکَ، وَإِنْ کُنْتَ مُتَطَبِّباً فَاحْذَرْ أَنْ تَقْتُلَ إِنْسَاناً فَتَدْخُلَ النَّارَ. فَکَانَ أَبُو الدَّرْدَائِ إِذَا قَضَی بَیْنَ اثْنَیْنِ، ثُمَّ أَدْبَرَا عَنْہُ نَظَرَ إِلَیْہِمَا وَقَالَ : ارْجِعَا إِلَیَّ أَعِیدَا عَلَیَّ قِصَّتَکُمَا، مُتَطَبِّبٌ وَاللَّہِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

یحیی بن سعید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک ( ملکِ شام کے قاضی ) حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا : آپ ارض مقدسہ ( پاکیزہ سرزمینِ شام ) کی طرف تشریف لائیے ، تو حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے ( جواب میں ) لکھا : یقیناً زمین کسی کو مقدس ( و پاکیزہ ) نہیں بناتی اور ( بلکہ ) بلاشبہ انسان کو تو صرف اس کا عمل ہی مقدس بناتا ہے اور مجھے یہ اطلاع پہنچی ہے کہ تم ( لوگوں کے فیصلوں کے معالج اور ) طبیب بنا دیے گئے ہو اور علاج کرتے ہو ۔ سو اگر تم شفا کا سبب بن رہے ہو تو یہ تمھارے لیے بہتر ہے اور اگر تم تکلف سے طبیب بنے ہوئے ہو ( حالانکہ تمھیں طب نہیں آتی ) تو پھر اس سے ڈرو کہ کسی انسان کو قتل کر بیٹھو ، پھر اس کے نتیجے میں آگ میں جا پڑو ۔ چنانچہ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ ( اس وصیت کے بعد ) جب بھی دو شخصوں کے مابین فیصلہ کرتے پھر وہ دونوں ( مدعی اور مدعا علیہ ) ان سے منہ موڑتے ( اور جانے لگتے ) تو وہ ان دونوں کی طرف دیکھتے ، پھر فرماتے : تم دونوں میری طرف واپس لوٹ آؤ اور میرے سامنے اپنا قصہ دہراؤ ۔ اللہ کی قسم ! ( میں تو ) بناوٹی طبیب ( ہوں ) ۔

1475

Muwatta Imam Malik #1475

Zaeef

[1475] وَحَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ دَلَافٍ الْمُزَنِیِّ، عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ رَجُلاً مِنْ جُہَیْنَۃَ کَانَ یَسْبِقُ الْحَاجَّ، فَیَشْتَرِی الرَّوَاحِلَ، فَیُغْلِی بِہَا، ثُمَّ یُسْرِعُ السَّیْرَ فَیَسْبِقُ الْحَاجَّ، فَأَفْلَسَ، فَرُفِعَ أَمْرُہُ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ : أَمَّا بَعْدُ أَیُّہَا النَّاسُ، فَإِنَّ الأُسَیْفِعَ أُسَیْفِعَ جُہَیْنَۃَ رَضِیَ مِنْ دِینِہِ وَأَمَانَتِہِ بِأَنْ یُقَالَ سَبَقَ الْحَاجَّ، أَلَا وَإِنَّہُ قَدْ دَانَ مُعْرِضاً، فَأَصْبَحَ قَدْ رِینَ بِہِ، فَمَنْ کَانَ لَہُ عَلَیْہِ دَیْنٌ فَلْیَأْتِنَا بِالْغَدَاۃِ، نَقْسِمُ مَالَہُ بَیْنَہُمْ، وَإِیَّاکُمْ وَالدَّیْنَ، فَإِنَّ أَوَّلَہُ ہَمٌّ وَآخِرَہُ حَرْبٌ۔

اردو ترجمہ · Urdu

عمر بن عبدالرحمن بن دلاف مزنی رحمہ اللہ سے روایت ہے ( وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ) کہ بیشک جہینہ قبیلے کا ایک شخص حاجیوں سے سبقت لے جاتا ( اور مکہ میں پہلے ہی پہنچ جاتا ) پھر وہ اونٹوں کو خریدتا اور ان کے مہنگے دام ادا کرتا ( یہ اس کا شوق تھا کہ میں آگے آگے رہوں ، چنانچہ ) پھر وہ تیز چلتا اور حاجیوں پر سبقت لے جاتا رہا ، پھر ( آخر کار ) وہ مفلس اور دیوالیہ ہو گیا ، تو اس کا معاملہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس لے جایا گیا تو انھوں نے فرمایا : اَمَّا بعد ! لوگو ! یقینًا اُسَیْفِع یعنی جہینہ قبیلے کا آدمی اُسیفع اپنے دین اور امانت کے معاملے میں اس بات سے راضی رہا کہ اسے کہا جائے کہ وہ سب حاجیوں سے سبقت لے گیا ( اور یہ ریاکاری و شہرت ہے ، نہ کہ دین و امانت ) خبردار ! بلاشبہ اس نے ( ادائیگی سے ) اعراض کرتے ہوئے قرض ( پر اونٹوں کو خرید ) لیا تو اب وہ ایسا ہو گیا ہے کہ قرضے میں گھر چکا ہے ، ( وہ چونکہ دیوالیہ و مفلس ہو گیا ہے ۔ اس لیے ہم نے اس پر اپنے مال میں تصرف کرنے کی پابندی عائد کر دی ہے اور جو کچھ اس کے پاس بچ گیا ہے ہم اسے قرض خواہوں میں تقسیم کرنے والے ہیں ) تو جس کسی کا اس پر قرض ہو وہ کل ہمارے پاس آ جائے ، ہم اس کا مال ان ( قرض خواہوں ) کے مابین تقسیم کر دیں گے ، اور اپنے آپ کو قرض ( لینے ) سے بچاؤ کیونکہ بلاشبہ اس کا آغاز فکر و غم ہے اور اس کا اختتام لڑائی بھڑائی ہے ۔