Muwatta Imam Malik #1474
[1474] حَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ: أَنَّ أَبَا الدَّرْدَائِ کَتَبَ إِلَی سَلْمَانَ الْفَارِسِیِّ : أَنْ ہَلُمَّ إِلَی الأَرْضِ الْمُقَدَّسَۃِ، فَکَتَبَ إِلَیْہِ سَلْمَانُ : إِنَّ الأَرْضَ لَا تُقَدِّسُ أَحَداً، وَإِنَّمَا یُقَدِّسُ الإِنْسَانَ عَمَلُہُ، وَقَدْ بَلَغَنِی أَ نَّکَ جُعِلْتَ طَبِیباً تُدَاوِی، فَإِنْ کُنْتَ تُبْرِیُٔ فَنِعِمَّا لَکَ، وَإِنْ کُنْتَ مُتَطَبِّباً فَاحْذَرْ أَنْ تَقْتُلَ إِنْسَاناً فَتَدْخُلَ النَّارَ. فَکَانَ أَبُو الدَّرْدَائِ إِذَا قَضَی بَیْنَ اثْنَیْنِ، ثُمَّ أَدْبَرَا عَنْہُ نَظَرَ إِلَیْہِمَا وَقَالَ : ارْجِعَا إِلَیَّ أَعِیدَا عَلَیَّ قِصَّتَکُمَا، مُتَطَبِّبٌ وَاللَّہِ۔
اردو ترجمہ · Urdu
یحیی بن سعید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک ( ملکِ شام کے قاضی ) حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا : آپ ارض مقدسہ ( پاکیزہ سرزمینِ شام ) کی طرف تشریف لائیے ، تو حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے ( جواب میں ) لکھا : یقیناً زمین کسی کو مقدس ( و پاکیزہ ) نہیں بناتی اور ( بلکہ ) بلاشبہ انسان کو تو صرف اس کا عمل ہی مقدس بناتا ہے اور مجھے یہ اطلاع پہنچی ہے کہ تم ( لوگوں کے فیصلوں کے معالج اور ) طبیب بنا دیے گئے ہو اور علاج کرتے ہو ۔ سو اگر تم شفا کا سبب بن رہے ہو تو یہ تمھارے لیے بہتر ہے اور اگر تم تکلف سے طبیب بنے ہوئے ہو ( حالانکہ تمھیں طب نہیں آتی ) تو پھر اس سے ڈرو کہ کسی انسان کو قتل کر بیٹھو ، پھر اس کے نتیجے میں آگ میں جا پڑو ۔ چنانچہ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ ( اس وصیت کے بعد ) جب بھی دو شخصوں کے مابین فیصلہ کرتے پھر وہ دونوں ( مدعی اور مدعا علیہ ) ان سے منہ موڑتے ( اور جانے لگتے ) تو وہ ان دونوں کی طرف دیکھتے ، پھر فرماتے : تم دونوں میری طرف واپس لوٹ آؤ اور میرے سامنے اپنا قصہ دہراؤ ۔ اللہ کی قسم ! ( میں تو ) بناوٹی طبیب ( ہوں ) ۔