Muwatta Imam Malik #1472
[1472] حَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ مُخَنَّثاً کَانَ عِنْدَ أُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ﷺ ، فَقَالَ لِعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أبِی أُمَیَّۃَ وَرَسُولُ اللّٰہِ ﷺ یَسْمَعُ : یَا عَبْدَ اللّٰہِ إِنْ فَتَحَ اللّٰہُ عَلَیْکُمُ الطَّائِفَ غَداً، فَأَنَا أَدُلُّکَ عَلَی ابْنَۃِ غَیْلَانَ، فَإِنَّہَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : لَا یَدْخُلَنَّ ہَؤُلَائِ عَلَیْکُمْ۔
اردو ترجمہ · Urdu
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد ( عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ) سے روایت کرتے ہیں کہ بے شک سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا ( ہند بنت ابی امیہ ) زوجہ پیغمبر ﷺ کے پاس ایک مخنث ( موجود ) تھا ، اس نے ( ان کے بھائی ) حضرت عبداللہ بن ابی امیہ رضی اللہ عنہ سے کہا : اس حال میں کہ رسول اللہ ﷺ سن رہے تھے ، ( کہنے لگا کہ ) اے عبداللہ ! اگر اللہ نے کل تمھیں طائف پر فتح دے دی تو میں تمھیں ( حضرت ) غیلان ( رضی اللہ عنہ ) کی بیٹی ( حضرت بادیہ رضی اللہ عنہا ) کے بارے میں بتاتا ہوں کہ بیشک وہ ( فربہ بدن والی ہے اور اعضائے جسم کے ابھار کی وجہ سے کپڑے پر ) چار ( شکنوں ) کے ساتھ آتی ہے اور آٹھ کے ساتھ جاتی ہے ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ ( ہیجڑے ) تم ( عورتوں ) پر ہرگز نہ داخل ہوا کریں ( تمھارے پاس نہ آیا کریں ) ‘‘