Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 39 · Chapter 465

گروی رکھنے کے بیان کے متعلق کتاب

مردوں میں سے جو مؤنث ہو اس کا اور اس شخص کا بیان جو اولاد کا زیادہ حق دار ہے

2 hadiths in this chapter

1472

Muwatta Imam Malik #1472

Sahih

[1472] حَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ مُخَنَّثاً کَانَ عِنْدَ أُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ﷺ ، فَقَالَ لِعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أبِی أُمَیَّۃَ وَرَسُولُ اللّٰہِ ﷺ یَسْمَعُ : یَا عَبْدَ اللّٰہِ إِنْ فَتَحَ اللّٰہُ عَلَیْکُمُ الطَّائِفَ غَداً، فَأَنَا أَدُلُّکَ عَلَی ابْنَۃِ غَیْلَانَ، فَإِنَّہَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : لَا یَدْخُلَنَّ ہَؤُلَائِ عَلَیْکُمْ۔

اردو ترجمہ · Urdu

ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد ( عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ) سے روایت کرتے ہیں کہ بے شک سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا ( ہند بنت ابی امیہ ) زوجہ پیغمبر ﷺ کے پاس ایک مخنث ( موجود ) تھا ، اس نے ( ان کے بھائی ) حضرت عبداللہ بن ابی امیہ رضی اللہ عنہ سے کہا : اس حال میں کہ رسول اللہ ﷺ سن رہے تھے ، ( کہنے لگا کہ ) اے عبداللہ ! اگر اللہ نے کل تمھیں طائف پر فتح دے دی تو میں تمھیں ( حضرت ) غیلان ( رضی اللہ عنہ ) کی بیٹی ( حضرت بادیہ رضی اللہ عنہا ) کے بارے میں بتاتا ہوں کہ بیشک وہ ( فربہ بدن والی ہے اور اعضائے جسم کے ابھار کی وجہ سے کپڑے پر ) چار ( شکنوں ) کے ساتھ آتی ہے اور آٹھ کے ساتھ جاتی ہے ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ ( ہیجڑے ) تم ( عورتوں ) پر ہرگز نہ داخل ہوا کریں ( تمھارے پاس نہ آیا کریں ) ‘‘

1473

Muwatta Imam Malik #1473

Zaeef

[1473] وَحَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ أَ نَّہُ قَالَ : سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ یَقُولُ : کَانَتْ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ امْرَأَۃٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَوَلَدَتْ لَہُ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ، ثُمَّ إِنَّہُ فَارَقَہَا، فَجَائَ عُمَرُ قُبَائً، فَوَجَدَ ابْنَہُ عَاصِماً یَلْعَبُ بِفِنَائِ الْمَسْجِدِ، فَأَخَذَ بِعَضُدِہِ فَوَضَعَہُ بَیْنَ یَدَیْہِ عَلَی الدَّابَّۃِ، فَأَدْرَکَتْہُ جَدَّۃُ الْغُلَامِ فَنَازَعَتْہُ إِیَّاہُ، حَتَّی أَتَیَا أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّیقَ، فَقَالَ عُمَرُ : ابْنِی۔ وَقَالَتِ الْمَرْأَۃُ : ابْنِی۔ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ : خَلِّ بَیْنَہَا وَبَیْنَہُ۔ قَالَ : فَمَا رَاجَعَہُ عُمَرُ الْکَلَامَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

قاسم بن محمد رحمہ اللہ ( بن ابی بکر رضی اللہ عنہ ) سے روایت ہے ، کہتے ہیں : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک انصاری عورت ( بیوی ) تھی ، جس نے ان کے لیے عاصم بن عمر رحمہ اللہ کو جنم دیا تھا ۔ پھر بے شک انھوں نے اسے چھوڑ دیا ( اور طلاق دے دی ) ۔ پھر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ( ایک دن ) قباء میں تشریف لائے تو عاصم کو مسجد کے صحن میں بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے پایا ۔ انھوں نے اسے اس کے بازو سے پکڑا اور اسے اپنے آگے سواری کے جانور پر بٹھا لیا ۔ بچے کی نانی ( ام جمیلہ ) نے انھیں پا لیا ( دیکھ لیا ) اور وہ ان سے اس بچے ( کو چھیننے ) کے لیے جھگڑنے لگی ۔ یہاں تک کہ دونوں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آ گئے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ یہ میرا بیٹا ہے ۔ عورت کہنے لگی : یہ میرا بیٹا ( نواسہ ) ہے ۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ) فرمایا : اس عورت اور اس بچے کے درمیان سے ہٹ جاؤ ، قاسم بن محمد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے ( حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ) گفتگو میں تکرار نہ کی ۔