Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 39 · Chapter 464

گروی رکھنے کے بیان کے متعلق کتاب

تہائی مال سے زیادہ وصیت نہ کرنے کے متعلق فیصلے کا بیان

1 hadith in this chapter

1471

Muwatta Imam Malik #1471

Sahih

[1471] حَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أبِی وَقَّاصٍ, عَنْ أَبِیہِ، أَ نَّہُ قَالَ : جَائَ نِی رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ یَعُودُنِی عَامَ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ مِنْ وَجَعٍ اشْتَدَّ بِی فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ، قَدْ بَلَغَ بِی مِنَ الْوَجَعِ مَا تَرَی، وَأَنَا ذُو مَالٍ، وَلَا یَرِثُنِی إِلاَّ ابْنَۃٌ لِی، أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَیْ مَالِی ؟ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : لَا۔ فَقُلْتُ فَالشَّطْرُ ؟ قَالَ : لَا۔ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : الثُّلُثُ، وَالثُّلُثُ کَثِیرٌ، إِنَّکَ أَنْ تَذَرَ وَرَثَتَکَ أَغْنِیَائَ، خَیْرٌ مِنْ أَنْ تَذَرَہُمْ عَالَۃً یَتَکَفَّفُونَ النَّاسَ، وَإِنَّکَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَۃً تَبْتَغِی بِہَا وَجْہَ اللّٰہِ، إِلاَّ أُجِرْتَ بِہَا، حَتَّی مَا تَجْعَلُ فِی فِی امْرَأَتِکَ . قَالَ : فَقُلْتُ یَا رَسُولَ اللّٰہِ أَأُخَلَّفُ بَعْدَ أَصْحَابِی؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : إِنَّکَ لَنْ تُخَلَّفَ فَتَعْمَلَ عَمَلاً صَالِحاً، إِلاَّ ازْدَدْتَ بِہِ دَرَجَۃً وَرِفْعَۃً، وَلَعَلَّکَ أَنْ تُخَلَّفَ، حَتَّی یَنْتَفِعَ بِکَ أَقْوَامٌ, وَیُضَرَّ بِکَ آخَرُونَ، اللّٰہُمَّ أَمْضِ لأَصْحَأبِی ہِجْرَتَہُمْ، وَلَا تَرُدَّہُمْ عَلَی أَعْقَابِہِمْ، لَکِنَّ الْبَائِسَ سَعْدُ بْنُ خَوْلَۃَ. یَرْثِی لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ أَنْ مَاتَ بِمَکَّۃَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ حجۃ الوداع والے سال میرے پاس تشریف لائے ، اس حال میں کہ آپ میری تیمارداری فرما رہے تھے ، اس تکلیف کی وجہ سے جو میرے ساتھ سخت ہو چکی تھی ۔ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! مجھے تکلیف اس ( حد اور انتہاء ) تک پہنچ چکی ہے جو آپ دیکھ ہی رہے ہیں ( اور میں موت کے آثار محسوس کر رہا ہوں ) اور میں مالدار شخص ہوں اور ( لیکن ) میری ایک بیٹی کے سوا میرا کوئی وارث نہیں ہے ۔ کیا میں اپنے دو تہائی مال کو صدقہ ( کرنے کی وصیت ) کر دوں ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ نہیں ‘‘ میں نے عرض کیا : پھر نصف ( مال صدقہ کر دوں ) ؟ فرمایا ’’ نہیں ‘‘۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تہائی مال ( کی وصیت جائز ہے ) اور تہائی بھی زیادہ ہی ہے ۔ یقیناً تم اپنے ورثاء کو مالدار چھوڑ کر جاؤ تو یہ اس سے بہتر ہے کہ تم انھیں محتاج چھوڑ کر جاؤ کہ وہ لوگوں کے سامنے ہتھیلیاں پھیلاتے رہیں ۔ بلاشبہ تم ہرگز کوئی ایسا خرچ نہیں کرو گے جس کے ذریعے تم اللہ کا چہرہ ( اور رضامندی ) تلاش کر رہے ہو ، مگر ضرور تمھیں اس کی وجہ سے اجر عطا کیا جائے گا ، یہاں تک کہ وہ ( لقمہ ) بھی جسے تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالو ۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ ! کیا میں اپنے ساتھیوں کے ( چلے جانے کے ) بعد پیچھے چھوڑ دیا جاؤں گا ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک ایسا ہرگز نہ ہو گا کہ تم پیچھے چھوڑے جاؤ ، پھر تم کوئی بھی نیک عمل کرو گے ، مگر اس کی وجہ سے تم درجہ و بلندی میں بڑھ جاؤ گے ( یعنی اگر تم مکہ میں پیچھے رہ گئے تو اسی جگہ پر بھی تم جو کوئی عمل کرو گے وہ اس کے بدلے رفعت اور بلندی درجات ہی تمھارا مقدر بنے گی اور اگر تم مزید زندگی عطا کر دیے گئے تو بھی یہی معاملہ ہو گا ) اور امید ہے کہ تم زندہ رکھے جاؤ گے ۔ یہاں تک کہ بہت سے لوگ تمھارے ساتھ نفع اٹھائیں گے اور بہت سے دوسروں کو تمھارے ذریعے نقصان پہنچایا جائے گا ، ( پھر آپ ﷺ نے دعا فرمائی کہ ) اے اللہ ! میرے صحابہ کی ہجرت پوری فرما دے ( وہ جہاں سے تیری خاطر نکلے انھیں وہاں موت نہ دینا ) اور انھیں ان کی ایڑیوں پر نہ لوٹانا ( انھیں ہجرت و اسلام کی سعادتوں سے محروم نہ فرمانا ۔ اے سعد ! تم ابھی نہیں مرو گے ) لیکن فقیر ( اور اصل مصیبت زدہ ) تو حضرت سعد بن خولہ ( رضی اللہ عنہ ) ہیں ‘‘۔ رسول اللہ ﷺ ان پر اظہار غم فرما رہے تھے ، اس لیے کہ وہ مکہ ہی میں فوت ہو گئے تھے ۔