Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 39 · Chapter 463

گروی رکھنے کے بیان کے متعلق کتاب

ضعیف ، کم سِن ، مجنون اور بے وقوف کی وصیت کے جواز کا بیان

2 hadiths in this chapter

1469

Muwatta Imam Malik #1469

Zaeef

[1469] حَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أبِی بَکْرِ بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ عَمْرَو بْنَ سُلَیْمٍ الزُّرَقِیَّ أَخْبَرَہُ، أَ نَّہُ قِیلَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : إِنَّ ہَا ہُنَا غُلَاماً یَفَاعاً لَمْ یَحْتَلِمْ مِنْ غَسَّانَ، وَوَارِثُہُ بِالشَّامِ، وَہُوَ ذُو مَالٍ، وَلَیْسَ لَہُ ہَا ہُنَا إِلاَّ ابْنَۃُ عَمٍّ لَہُ۔ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : فَلْیُوصِ لَہَا۔ قَالَ: فَأَوْصَی لَہَا بِمَالٍ یُقَالُ لَہُ بِئْرُ جُشَمٍ۔ قَالَ عَمْرُو بْنُ سُلَیْمٍ: فَبِیعَ ذَلِکَ الْمَالُ بِثَلَاثِینَ أَلْفَ دِرْہَمٍ، وَابْنَۃُ عَمِّہِ الَّتِی أَوْصَی لَہَا، ہِیَ أُمُّ عَمْرِو بْنِ سُلَیْمٍ الزُّرَقِیِّ۔

اردو ترجمہ · Urdu

عمرو بن سلیم زرقی سے روایت ہے کہ بے شک عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ یقیناً یہاں ( مدینہ میں ) غسّان قبیلے کا ایک قریب البلوغ لڑکا ہے جو ( تاحال ) بالغ نہیں ہوا ، اور اس کا وارث ملک شام میں ہے ۔ وہ لڑکا ( کافی ) مال والا ہے اور یہاں سوائے اس کے چچا کی بیٹی کے اس کا کوئی ( دوسرا رشتہ دار موجود ) نہیں ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے متعلق فرمایا : وہ اس کے لیے وصیت کر سکتا ہے ۔ عمرو بن سلیم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ پھر اس ( لڑکے ) نے اس ( چچازاد بہن ) کے لیے ایک مال ( زمین ) کی وصیت کی ، جسے ’’ بیرجشم ‘‘ کہا جاتا تھا ۔ عمرو بن سلیم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ مال تیس ہزار درہم میں فروخت کیا گیا اور اس لڑکے کے چچا کی بیٹی کہ جس کے لیے اس نے وصیت کی تھی ۔ ( اس روایت کے راوی ) عمرو بن سلیم زرقی کی والدہ تھیں ۔

1470

Muwatta Imam Malik #1470

Zaeef

[1470] وَحَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ أبِی بَکْرِ بْنِ حَزْمٍ، أَنَّ غُلَاماً مِنْ غَسَّانَ حَضَرَتْہُ الْوَفَاۃُ بِالْمَدِینَۃِ، وَوَارِثُہُ بِالشَّامِ، فَذُکِرَ ذَلِکَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقِیلَ لَہُ : إِنَّ فُلَاناً یَمُوتُ أَفَیُوصِی ؟ قَالَ : فَلْیُوصِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

ابوبکر بن حزم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ غسّان قبیلے کے ایک لڑکے کو مدینہ منورہ میں موت کا وقت آ گیا ، اس کا وارث ملک شام میں تھا ۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اس کا ذکر کیا گیا اور انھیں بتایا گیا کہ بے شک فلاں ( لڑکا ) مر رہا ہے ، تو کیا وہ وصیت کر سکتا ہے ؟ تو انھوں نے فرمایا : وہ وصیت کر سکتا ہے ۔