Muwatta Imam Malik #1465
[1465] حَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِیلَ بْنِ سَعِیدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ جَدِّہِ أَنَّہُ قَالَ : خَرَجَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَۃَ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ فِی بَعْضِ مَغَازِیہِ، فَحَضَرَتْ أُمَّہُ الْوَفَاۃُ بِالْمَدِینَۃِ، فَقِیلَ لَہَا : أَوْصِی۔ فَقَالَتْ : فِیمَ أُوصِی ؟ إِنَّمَا الْمَالُ مَالُ سَعْدٍ. فَتُوُفِّیتْ قَبْلَ أَنْ یَقْدَمَ سَعْدٌ، فَلَمَّا قَدِمَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَۃَ ذُکِرَ ذَلِکَ لَہُ، فَقَالَ سَعْدٌ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ، ہَلْ یَنْفَعُہَا أَنْ أَتَصَدَّقَ عَنْہَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : نَعَمْ۔ فَقَالَ سَعْدٌ : حَائِطُ کَذَا وَکَذَا صَدَقَۃٌ عَنْہَا۔ لِحَائِطٍ سَمَّاہُ۔
اردو ترجمہ · Urdu
سعید بن عمرو بن شُرَحْبیل بن سعید بن سعد بن عبادہ رحمہ اللہ اپنے والد ( عمرو رحمہ اللہ ) سے اور وہ اس ( سعید بن عمرو ) کے دادا ( شُرَحْبیل سے یا اپنے دادا حضرت سعید بن سعد رضی اللہ عنہ ) سے روایت کرتے ہیں ، انھوں نے کہا : حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ آپ ﷺ کے کسی غزوے ( غزوئہ دومۃ الجندل ۵ھ ) میں نکلے ، ( ادھر ) مدینہ منورہ میں ان کی والدہ ( حضرت عمرہ بنت مسعود رضی اللہ عنہا ) کو موت کا وقت آ گیا ۔ ان سے کہا گیا کہ وصیت کر دیجیے تو وہ کہنے لگیں کہ : میں کس چیز میں وصیت کروں ، بلاشبہ یہ سب مال تو ( میرے بیٹے ) سعد رضی اللہ عنہ کا مال ہے ، پھر وہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی آمد سے پہلے ہی فوت ہو گئیں ۔ چنانچہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ آئے تو ان سے اس کا ذکر کیا گیا ۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! کیا انھیں ( یعنی میری والدہ کو ) اس سے کوئی نفع ہو گا اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ‘‘۔ چنانچہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا : میرا فلاں باغ ( ان کی طرف سے ) صدقہ ہے ۔ انھوں نے ایک باغ کے متعلق یہ بات کہی جس کا انھوں نے نام بھی لیا ۔