Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 39 · Chapter 461

گروی رکھنے کے بیان کے متعلق کتاب

فوت شدہ کی طرف سے زندہ شخص کے صدقہ کرنے کا بیان

3 hadiths in this chapter

1465

Muwatta Imam Malik #1465

Zaeef

[1465] حَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِیلَ بْنِ سَعِیدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ جَدِّہِ أَنَّہُ قَالَ : خَرَجَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَۃَ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ فِی بَعْضِ مَغَازِیہِ، فَحَضَرَتْ أُمَّہُ الْوَفَاۃُ بِالْمَدِینَۃِ، فَقِیلَ لَہَا : أَوْصِی۔ فَقَالَتْ : فِیمَ أُوصِی ؟ إِنَّمَا الْمَالُ مَالُ سَعْدٍ. فَتُوُفِّیتْ قَبْلَ أَنْ یَقْدَمَ سَعْدٌ، فَلَمَّا قَدِمَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَۃَ ذُکِرَ ذَلِکَ لَہُ، فَقَالَ سَعْدٌ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ، ہَلْ یَنْفَعُہَا أَنْ أَتَصَدَّقَ عَنْہَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : نَعَمْ۔ فَقَالَ سَعْدٌ : حَائِطُ کَذَا وَکَذَا صَدَقَۃٌ عَنْہَا۔ لِحَائِطٍ سَمَّاہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

سعید بن عمرو بن شُرَحْبیل بن سعید بن سعد بن عبادہ رحمہ اللہ اپنے والد ( عمرو رحمہ اللہ ) سے اور وہ اس ( سعید بن عمرو ) کے دادا ( شُرَحْبیل سے یا اپنے دادا حضرت سعید بن سعد رضی اللہ عنہ ) سے روایت کرتے ہیں ، انھوں نے کہا : حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ آپ ﷺ کے کسی غزوے ( غزوئہ دومۃ الجندل ۵ھ ) میں نکلے ، ( ادھر ) مدینہ منورہ میں ان کی والدہ ( حضرت عمرہ بنت مسعود رضی اللہ عنہا ) کو موت کا وقت آ گیا ۔ ان سے کہا گیا کہ وصیت کر دیجیے تو وہ کہنے لگیں کہ : میں کس چیز میں وصیت کروں ، بلاشبہ یہ سب مال تو ( میرے بیٹے ) سعد رضی اللہ عنہ کا مال ہے ، پھر وہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی آمد سے پہلے ہی فوت ہو گئیں ۔ چنانچہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ آئے تو ان سے اس کا ذکر کیا گیا ۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! کیا انھیں ( یعنی میری والدہ کو ) اس سے کوئی نفع ہو گا اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ‘‘۔ چنانچہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا : میرا فلاں باغ ( ان کی طرف سے ) صدقہ ہے ۔ انھوں نے ایک باغ کے متعلق یہ بات کہی جس کا انھوں نے نام بھی لیا ۔

1466

Muwatta Imam Malik #1466

Sahih

[1466] وَحَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ﷺ ، أَنَّ رَجُلاً قَالَ لِرَسُولِ اللّٰہِ ﷺ : إِنَّ أُمِّی افْتُلِتَتْ نَفْسُہَا، وَأُرَاہَا لَوْ تَکَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ، أَفَأَتَصَدَّقُ عَنْہَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : نَعَمْ۔

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ پیغمبر ﷺ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا : بے شک میری والدہ کی جان اچانک نکل گئی تھی اور میں انھیں یہ خیال کرتا ہوں کہ اگر وہ گفتگو کر پاتیں تو صدقہ کر دیتیں ، تو کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کر سکتا ہوں ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ‘‘۔

1467

Muwatta Imam Malik #1467

Zaeef

[1467] وَحَدَّثَنِی مَالِکٌ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ : أَنَّ رَجُلاً مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ بَنِی الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ تَصَدَّقَ عَلَی أَبَوَیْہِ بِصَدَقَۃٍ، فَہَلَکَا، فَوَرِثَ ابْنُہُمَا الْمَالَ، وَہُوَ نَخْلٌ، فَسَأَلَ عَنْ ذَلِکَ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ : قَدْ أُجِرْتَ فِی صَدَقَتِکَ وَخُذْہَا بِمِیرَاثِکَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ انصار کے خاندان بنوحارث بن خزرج کے ایک شخص ( حضرت عبداللہ بن زید بن عبدربہ جنھوں نے خواب میں اذان کا منظر دیکھا تھا ) نے اپنے والدین پر کوئی صدقہ کیا ، پھر وہ دونوں فوت ہو گئے تو ان دونوں کے ( اسی ) بیٹے نے ( وہی ) مال وراثت میں پا لیا اور وہ کھجوروں کے درخت تھے ۔ چنانچہ اس نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے متعلق سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تمھیں اپنے صدقے میں اجر عطا کیا جا چکا ہے ( اب پھر ) اپنی وراثت کی وجہ سے ان ( درختوں ) کو لے لو ‘‘۔