Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 39 · Chapter 460

گروی رکھنے کے بیان کے متعلق کتاب

گم شدہ جانوروں کے متعلق فیصلے کا بیان

3 hadiths in this chapter

1462

Muwatta Imam Malik #1462

Sahih

[1462] وَحَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ، أَنَّ ثَابِتَ بْنَ الضَّحَّاکِ الْأَنْصَارِیَّ أَخْبَرَہُ، أَ نَّہُ وَجَدَ بَعِیراً بِالْحَرَّۃِ، فَعَقَلَہُ، ثُمَّ ذَکَرَہُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَأَمَرَہُ عُمَرُ أَنْ یُعَرِّفَہُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ لَہُ ثَابِتٌ : إِنَّہُ قَدْ شَغَلَنِی عَنْ ضَیْعَتِی. فَقَالَ لَہُ عُمَرُ : أَرْسِلْہُ حَیْثُ وَجَدْتَہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک حضرت ثابت بن ضحاک انصاری رحمہ اللہ نے انھیں خبر دی کہ انھوں نے حرّہ جگہ میں ایک اونٹ پایا تو اس کا گھٹنا باندھ دیا ۔ پھر انھوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اس کا ذکر کیا تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انھیں حکم دیا کہ وہ ( صرف ) تین بار اس کا اعلان کریں ، پھر ان سے حضرت ثابت رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : بے شک اس اونٹ ( کی رکھوالی ) نے تو مجھے میری زمین ہی سے مشغول کر دیا ہے ، ( اونٹ کے سنبھالنے اور اس کا اعلان کرنے میں مصروف ہو کر میرا اصلی کام موقوف ہو گیا ہے ) تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ : اسے وہیں چھوڑ دیں جہاں آپ نے اسے پایا تھا ۔

1463

Muwatta Imam Malik #1463

Sahih

[1463] وَحَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ وَہُوَ مُسْنِدٌ ظَہْرَہُ إِلَی الْکَعْبَۃِ : مَنْ أَخَذَ ضَالَّۃً فَہُوَ ضَالٌّ۔

اردو ترجمہ · Urdu

سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس حال میں کہ وہ خانہ کعبہ کے ساتھ اپنی پشت سے سہارا لگائے ہوئے تھے ، ( ٹیک لگانے ہی کی حالت میں فرمایا ) جس کسی نے ضَالّہ ( گم شدہ جانور ) کو پکڑا وہ ضالّ ( گمراہ ) ہے ۔

1464

Muwatta Imam Malik #1464

Zaeef

[1464] وَحَدَّثَنِی مَالِکٌ، أَ نَّہُ سَمِعَ ابْنَ شِہَابٍ یَقُولُ : کَانَتْ ضَوَالُّ الإِبِلِ فِی زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ إِبِلاً مُؤَبَّلَۃً، تَنَاتَجُ لَا یَمَسُّہَا أَحَدٌ، حَتَّی إِذَا کَانَ زَمَانُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَمَرَ بِتَعْرِیفِہَا، ثُمَّ تُبَاعُ، فَإِذَا جَائَ صَاحِبُہَا أُعْطِیَ ثَمَنَہَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ نے ابن شہاب رحمہ اللہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور میں اونٹ کثرت سے جمع ہو کر رہتے اور افزائش نسل کرتے رہتے ، انھیں کوئی بھی ہاتھ نہ لگاتا ( کیونکہ گم شدہ ملنے والے اونٹوں کو پکڑنے سے نبی کریم ﷺ منع فرما چکے تھے ، اسی لیے یہ اونٹ آپس میں اکٹھے ہوتے رہتے اور کوئی بھی ان کا مالک نہ بنتا ، یہاں تک کہ جب حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا دور آیا تو انھوں نے ( گم شدہ اونٹ کو پکڑ لینے اور ) ان کا اعلان کرنے کا حکم جاری فرمایا ، پھر انھیں بیچ دیا جاتا ( اور قیمت بیت المال میں جمع کرا دی جاتی ) پھر اگر ان کا مالک آ جاتا تو اسے ان کی قیمت دے دی جاتی ۔