Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 39 · Chapter 459

گروی رکھنے کے بیان کے متعلق کتاب

’’ لقطہ ‘‘ یعنی راہ میں پڑی ہوئی چیز اٹھانے کے متعلق فیصلے کا بیان

3 hadiths in this chapter

1459

Muwatta Imam Malik #1459

Sahih

[1459] حَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ رَبِیعَۃَ بْنِ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ یَزِیدَ مَوْلَی الْمُنْبَعِثِ، عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِیِّ، أَ نَّہُ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی إِلنَّبِیِّ ﷺ فَسَأَلَہُ عَنِ اللُّقَطَۃِ؟ فَقَالَ: اعْرِفْ عِفَاصَہَا وَوِکَائَ ہَا، ثُمَّ عَرِّفْہَا سَنَۃً، فَإِنْ جَائَ صَاحِبُہَا وَإِلاَّ فَشَأْنَکَ بِہَا. قَالَ : فَضَالَّۃُ الْغَنَمِ یَا رَسُولَ اللّٰہِ ؟ قَالَ: ہِیَ لَکَ، أَوْ لأَخِیکَ، أَوْ لِلذِّئْبِ. قَالَ : فَضَالَّۃُ الإِبِلِ ؟ قَالَ : مَا لَکَ وَلَہَا ؟ مَعَہَا سِقَاؤُہَا وَحِذَاؤُہَا، تَرِدُ الْمَائَ، وَتَأْکُلُ الشَّجَرَ، حَتَّی یَلْقَاہَا رَبُّہَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، پھر اس نے آپ ﷺ سے لقطہ کے متعلق سوال کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اس کے برتن ، ( یا گٹھڑی یا تھیلا یعنی ہر وہ چیز جس میں سامان ڈالا ہوا ہو ) اور اس کے بندھن ( تسمہ ، رسی ، ڈھکن وغیرہ ) کی پہچان کر لو اور ایک سال تک اس کا اعلان کرو ، ( لوگوں کو ایک گم شدہ چیز ملنے کی خبر دیتے رہو ) پھر اگر اس کا مالک آ جائے ( تو اس سے نشانیاں پوچھ کر اسے واپس کر دو ) ورنہ اپنی حالت اس کے ساتھ لازم پکڑو ، ( یعنی جیسے دل کرتا ہے اسے استعمال کر لو ) ۔ وہ آدمی کہنے لگا : اے اللہ کے رسول ! گم شدہ بکری ( مل جائے تو کیا کروں ) ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ تمھارے لیے ہے یا تمھارے بھائی کے لیے یا بھیڑیئے کے لیے ‘‘۔ اس نے پوچھا کہ ’’ گم شدہ اونٹ ‘‘؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تمھیں اس سے کیا واسطہ ؟ اس کے پاس اپنا مشکیزہ اور جوتا ہے ، وہ پانی پر وارد ہو گا اور درختوں سے کھاتا رہے گا ، یہاں تک کہ اس کا مالک اس کو پا لے گا ۔

1460

Muwatta Imam Malik #1460

Sahih

[1460] وَحَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ أَیُّوبَ بْنِ مُوسَی، عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بَدْرٍ الْجُہَنِیِّ، أَنَّ أَبَاہُ أَخْبَرَہُ، أَ نَّہُ نَزَلَ مَنْزِلَ قَوْمٍ بِطَرِیقِ الشَّامِ، فَوَجَدَ صُرَّۃً فِیہَا ثَمَانُونَ دِینَاراً، فَذَکَرَہَا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ لَہُ عُمَرُ : عَرِّفْہَا عَلَی أَبْوَابِ الْمَسَاجِدِ، وَاذْکُرْہَا لِکُلِّ مَنْ یَأْتِی مِنَ الشَّامِ سَنَۃً، فَإِذَا مَضَتِ السَّنَۃُ فَشَأْنَکَ بِہَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

معاویہ بن عبداللہ بن بدر جہنی رحمہ اللہ سے روایت ہے ، انھیں ان کے والد ( حضرت عبداللہ بن بدر رضی اللہ عنہ ) نے خبر دی کہ انھوں نے ملک شام کی راہ میں کچھ لوگوں کے پڑاؤ کی جگہ پر ( ان کے جانے کے بعد ) پڑاؤ ڈالا تو انھوں نے ایک تھیلی پائی جس میں اسّی دینار تھے ، انھوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے سامنے اس کا ذکر کیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ : مسجدوں کے دروازوں پر اس کا اعلان کرو اور ایک سال تک ہر اس شخص سے اس کا ذکر کرو جو شام سے آئے پھر جب سال گزر جائے تو تمھیں اس پر اختیار ہے ( چاہو تو سنبھال رکھو اور چاہو تو استعمال کر لو ) ۔

1461

Muwatta Imam Malik #1461

Sahih

[1461] وَحَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ رَجُلاً وَجَدَ لُقَطَۃً، فَجَائَ إِلَی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ فَقَالَ لَہُ : إنِّی وَجَدْتُ لُقَطَۃً، فَمَاذَا تَرَی فِیہَا ؟ فَقَالَ لَہُ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ : عَرِّفْہَا۔ قَالَ : قَدْ فَعَلْتُ قَالَ زِدْ قَالَ : قَدْ فَعَلْتُ. فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ : لَا آمُرُکَ أَنْ تَأْکُلَہَا، وَلَوْ شِئْتَ لَمْ تَأْخُذْہَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک ایک آدمی نے ایک گری پڑی چیز پا لی تو وہ اسے لے کر حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان سے کہنے لگا : یقیناً میں نے ایک گری پڑی چیز پائی ہے ، آپ اس کے متعلق کیا خیال فرماتے ہیں ؟ تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے فرمایا کہ اس کا اعلان کرتے رہو ، اس نے کہا کہ میں ایسا کر چکا ہوں ، انھوں نے کہا اور زیادہ کرو ، وہ کہنے لگا کہ میں نے وہ بھی کر لیا ہے تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرمانے لگے : میں تمھیں اس کے کھا لینے کا حکم نہیں دوں گا اور اگر تم چاہتے تو اسے نہ پکڑتے ۔