Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 39 · Chapter 458

گروی رکھنے کے بیان کے متعلق کتاب

’’عُمْرٰی‘‘ کے متعلق فیصلے کا بیان

3 hadiths in this chapter

1456

Muwatta Imam Malik #1456

Sahih

[1456] حَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ أبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْأَنْصَاری، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ :أَیُّمَا رَجُلٍ أُعْمِرَ عُمْرَی لَہُ وَلِعَقِبِہِ، فَإِنَّہَا لِلَّذِی یُعْطَاہَا، لَا تَرْجِعُ إِلَی الَّذِی أَعْطَاہَا أَبَداً. لِأَنَّہُ أَعْطَی عَطَائً وَقَعَتْ فِیہِ الْمَوَارِیثُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص کسی کو اس کے لیے اور اس کے ورثاء کے لیے عمرٰی دے تو بلاشبہ وہ اسی کا ( ہو جاتا ) ہے جسے عطا کیا گیا ہے ، وہ کبھی بھی اس شخص کی طرف واپس نہ لوٹے گا جس نے اسے دیا تھا ، کیونکہ بلاشبہ اس نے ایسا عطیہ دیا ہے کہ جس میں وراثت داخل ہو گئی ہے ۔

1457

Muwatta Imam Malik #1457

Sahih

[1457] وَحَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ, أَنَّہُ سَمِعَ مَکْحُولاً الدِّمَشْقِیَّ یَسْأَلُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ عَنِ الْعُمْرَی وَمَا یَقُولُ النَّاسُ فِیہَا، فَقَالَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ : مَا أَدْرَکْتُ النَّاسَ إِلاَّ وَہُمْ عَلَی شُرُوطِہِمْ فِی أَمْوَالِہِمْ، وَفِیمَا أُعْطُوا۔

اردو ترجمہ · Urdu

عبدالرحمن بن قاسم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انھوں نے مکحول دمشقی رحمہ اللہ کو سنا ، وہ ( ان کے والد ) قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے عمرٰی کے متعلق سوال کر رہے تھے اور اس بارے میں بھی کہ لوگ عمرٰی کے متعلق جو باتیں کر رہے تھے ( کہ یہ جائز ہے یا ناجائز ) تو قاسم بن محمد رحمہ اللہ نے فرمایا : میں نے تو لوگوں کو اس ( صورتحال ) کے علاوہ کچھ ( اور ذہن رکھتے ہوئے ) نہیں پایا کہ وہ اپنی شرطوں پر ہی ( قائم رہتے اور شمار ) ہوتے ہیں ، اپنے مالوں میں بھی اور ان چیزوں میں بھی جو وہ دیے جائیں ۔

1458

Muwatta Imam Malik #1458

Sahih

[1458] وَحَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ وَرِثَ مِنْ حَفْصَۃَ بِنْتِ عُمَرَ دَارَہَا، قَالَ : وَکَانَتْ حَفْصَۃُ قَدْ أَسْکَنَتْ بِنْتَ زَیْدِ بْنِ الْخَطَّابِ مَا عَاشَتْ، فَلَمَّا تُوُفِّیَتْ بِنْتُ زَیْدٍ بْنِ الْخَطَّابِ قَبَضَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ الْمَسْکَنَ، وَرَأَی أَ نَّہُ لَہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ( اپنی ہمشیرہ ام المؤمنین ) سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما سے ایک گھر وراثت میں پایا ۔ نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے ( اپنے چچا ) حضرت زید بن خطاب رضی اللہ عنہ کی بیٹی کو ( وہ گھر ) رہائش کے لیے دے رکھا تھا ( اس شرط پر کہ ) جب تک وہ زندہ رہیں ( استعمال کرتی رہیں اور بعد از وفات یہ گھر ان کی طرف واپس آ جائے گا ) ، چنانچہ جب حضرت زید رضی اللہ عنہ کی بیٹی فوت ہو گئی تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس گھر پر قبضہ کر لیا اور یہ سمجھا کہ بلاشبہ وہ گھر ( اب دوبارہ ) انھیں کا ہو گیا ) ہے ۔