Muwatta Imam Malik #1455
[1455] حَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَیْنِ، عَنْ أبِی غَطَفَانَ بْنِ طَرِیفٍ الْمُرِّیِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ : مَنْ وَہَبَ ہِبَۃً لِصِلَۃِ رَحِمٍ، أَوْ عَلَی وَجْہِ صَدَقَۃٍ، فَإِنَّہُ لَا یَرْجِعُ فِیہَا، وَمَنْ وَہَبَ ہِبَۃً یَرَی أَ نَّہُ إِنَّمَا أَرَادَ بِہَا الثَّوَابَ، فَہُوَ عَلَی ہِبَتِہِ، یَرْجِعُ فِیہَا إِذَا لَمْ یُرْضَ مِنْہَا۔
اردو ترجمہ · Urdu
ابوغطفان بن طریف مری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جس شخص نے صلہ رحمی کے لیے یا صدقہ کے طور پر کوئی ہبہ کیا تو بلاشبہ وہ اس میں رجوع نہیں کر سکتا ۔ ( اسے واپس نہیں لے سکتا ، تاکہ رشتہ داری نہ ٹوٹے ، قطع رحمی نہ ہو اور صدقہ کی نیت کر لینے سے ہبہ کی حیثیت ہی بدل گئی اور وہ ہبہ نہ رہا لہٰذا اب اسے واپس نہیں لے سکتے ) اور جس شخص نے ہبہ دیا اس حال میں کہ وہ یہ خیال کرتا ہو کہ وہ اس ہبہ پر بدلہ پانا چاہتا ہے تو وہ اپنے ہبہ ( والی نیت ) پر ( شمار ) ہو گا ۔ وہ اسے واپس لے سکتا ہے ( بشرطیکہ ) جب اسے اس ہبہ ( کے بدلے ) میں راضی نہ کیا جائے ۔