Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 39 · Chapter 456

گروی رکھنے کے بیان کے متعلق کتاب

ناجائز ہبہ وعطیہ کا بیان

3 hadiths in this chapter

1452

Muwatta Imam Malik #1452

Sahih

[1452] حَدَّثَنَا یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ، أَنَّہُمَا حَدَّثَاہُ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ، أَ نَّہُ قَالَ : إِنَّ أَبَاہُ بَشِیراً أَتَی بِہِ إِلَی رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ : إنِّی نَحَلْتُ ابْنِی ہَذَا غُلَاماً کَانَ لِی. فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : أَکُلَّ وَلَدِکَ نَحَلْتَہُ مِثْلَ ہَذَا؟ فَقَالَ : لَا۔ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : فَارْتَجِعْہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ ان کے والد حضرت بشیر رضی اللہ عنہ انھیں لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! میں نے اپنے اس لڑکے کو اپنا ایک غلام عطا کیا ہے ، تو رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا :’’ کیا تم نے اپنی ساری اولاد کو اس کی مثل عطا کیا ہے ؟ انھوں نے کہا کہ نہیں ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے واپس لوٹا لو ‘‘۔

1453

Muwatta Imam Malik #1453

Sahih

[1453] وَحَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ، عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ﷺ ، أَ نَّہَا قَالَتْ : إِنَّ أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّیقَ کَانَ نَحَلَہَا جَادَّ عِشْرِینَ وَسْقاً مِنْ مَالِہِ بِالْغَابَۃِ، فَلَمَّا حَضَرَتْہُ الْوَفَاۃُ قَالَ : وَاللّٰہِ یَا بُنَیَّۃُ مَا مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَحَبُّ إِلَیَّ غِنًی بَعْدِی مِنْکِ، وَلَا أَعَزُّ عَلَیَّ فَقْراً بَعْدِی مِنْکِ، وَإِنِّی کُنْتُ نَحَلْتُکِ جَادَّ عِشْرِینَ وَسْقاً، فَلَوْ کُنْتِ جَدَدْتِیہِ وَاحْتَزْتِیہِ کَانَ لَکِ، وَإِنَّمَا ہُوَ الْیَوْمَ مَالُ وَارِثٍ، وَإِنَّمَا ہُمَا أَخَوَاکِ وَأُخْتَاکِ فَاقْتَسِمُوہُ عَلَی کِتَابِ اللَّہِ. قَالَتْ عَائِشَۃُ : فَقُلْتُ یَا أَبَتِ وَاللّٰہِ لَوْ کَانَ کَذَا وَکَذَا لَتَرَکْتُہُ، إِنَّمَا ہِیَ أَسْمَائُ، فَمَنِ الأُخْرَی ؟ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ : ذُو بَطْنِ بِنْتِ خَارِجَۃَ. أُرَاہَا جَارِیَۃً۔

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ پیغمبر ﷺ سے روایت ہے ، کہتی ہیں کہ بے شک ( ان کے والد ) حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے انھیں ( کچھ کھجوروں سے ) کاٹ کر اتارا جانے والا بیس وسق ( پھل ) عطا کیا ہوا تھا جو ( ملک شام کے راستے پر مدینہ سے بارہ میل دور ) ’’ غابہ ‘‘ جگہ میں ان کے مال ( زمین ) میں تھا ( یعنی کھجوروں کے درخت انھیں عطا کر رکھے تھے ) ۔ پھر جب انھیں موت حاضر ہوئی تو کہنے لگے : اے میری پیاری لخت جگر : لوگوں میں سے کوئی شخص ایسا نہیں کہ میرے بعد تیری نسبت اس کا مستغنی و مالدار ہونا میرے نزدیک تجھ سے زیادہ محبوب ہو اور میرے بعد تیری نسبت جس کا فقیر ہونا میرے نزدیک زیادہ گراں ( اور ناپسند ) ہو ، ( میری دلی خواہش یہی ہے کہ تو ہی سب سے زیادہ مالدار ہو اور فقیری تیرے پاس بھی نہ پھٹکے ) ، بے شک میں نے تجھے کھجور کے درختوں سے توڑا جانے ولا بیس وسق ( پھل ) ہبہ کیا تھا ، چنانچہ اگر تو اسے توڑ لیتی اور اپنے قبضے میں کر لیتی تو وہ تیرا ہو جاتا اور ( لیکن ) بلاشبہ وہ آج وراثت کا مال ( بن چکا ) ہے اور یقیناً ( میری اولاد میں سے جو زندہ ہیں ) وہ تمھارے دو بھائی ( عبدالرحمن رضی اللہ عنہ اور محمد رضی اللہ عنہ ) اور دو بہنیں ہیں ، لہٰذا تم اسے کتاب اللہ کے موافق تقسیم کر لینا ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کہا : پیارے ابا جان ! اللہ کی قسم ! اگر وہ ( پھل اس سے کہیں زیادہ ) اتنا اتنا بھی ہوتا تو میں اسے چھوڑ دیتی ، ( آپ کی وصیت اور شریعت اسلامیہ پر سب قربان لیکن مجھے یہ سمجھ میں نہیں آیا کہ میری دو بہنیں کون سی ہیں ؟ ) بلاشبہ وہ تو صرف ایک سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا ہی ہیں تو دوسری کون ہے ؟ وہ فرمانے لگے کہ وہ حضرت ( حبیبہ ) بنت خارجہ رضی اللہ عنہا کے پیٹ والا حمل ہے ، میرا خیال ہے کہ وہ لڑکی ہو گی ۔

1454

Muwatta Imam Malik #1454

Sahih

[1454] وَحَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِیِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ : مَا بَالُ رِجَالٍ یَنْحَلُونَ أَبْنَائَ ہُمْ نُحْلاً، ثُمَّ یُمْسِکُونَہَا، فَإِنْ مَاتَ ابْنُ أَحَدِہِمْ قَالَ : مَالِی بِیَدِی لَمْ أُعْطِہِ أَحَداً. وَإِنْ مَاتَ ہُوَ قَالَ: ہُوَ لاِبْنِی قَدْ کُنْتُ أَعْطَیْتُہُ إِیَّاہُ. مَنْ نَحَلَ نِحْلَۃً، فَلَمْ یَحُزْہَا الَّذِی نُحِلَہَا، حَتَّی تَکُونَ إِنْ مَاتَ لِوَرَثَتِہِ، فَہِیَ بَاطِلٌ۔

اردو ترجمہ · Urdu

عبدالرحمن بن عبد قاری رحمہ اللہ ( جو قارہ قبیلے کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں ) سے روایت ہے کہ بے شک حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ اپنے بیٹوں کو کچھ عطیہ دے دیتے ہیں ، پھر اسے روکے رکھتے ہیں ( اور قبضے میں نہیں دیتے ) ، پھر اگر ان میں سے کسی کا بیٹا فوت ہو جائے تو کہتے ہیں کہ ( میں نے کون سا اسے دے ہی دیا تھا ؟ ) میرا مال میرے قبضے میں ہے اور میں نے تو یہ کسی کو نہیں دیا اور اگر وہ خود مرنے لگے تو کہتا ہے کہ یہ تو میرے بیٹے کا ہے ، یقیناً میں تو یہ اسے عطا کر چکا تھا ۔ ( سن لو ) جس کسی نے کوئی عطیہ و تحفہ دیا ، پھر جسے وہ دیا گیا ہو وہ اسے قبضے میں نہ لے یہاں تک کہ وہ مرے تو وہ اس کے ورثاء کے لیے ( مال وراثت بن جائے ) تو وہ باطل ہے ۔