Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 39 · Chapter 455

گروی رکھنے کے بیان کے متعلق کتاب

نقصان کرنے والے جانوروں اور حفاظت میں رکھے گئے جانور کے متعلق فیصلے کا بیان

2 hadiths in this chapter

1450

Muwatta Imam Malik #1450

Sahih

[1450] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ حَرَامِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مُحَیِّصَۃَ: أَنَّ نَاقَۃً لِلْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ دَخَلَتْ حَائِطَ رَجُلٍ فَأَفْسَدَتْ فِیہِ، فَقَضَی رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ أَنَّ عَلَی أَہْلِ الْحَوَائِطِ حِفْظَہَا بِالنَّہَارِ، وَأَنَّ مَا أَفْسَدَتِ الْمَوَاشِی بِاللَّیْلِ ضَامِنٌ عَلَی أَہْلِہَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

حرام بن سعد بن محیصہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما کی اونٹنی ایک آدمی کے باغ میں داخل ہو گئی اور اس نے اس میں نقصان دیا ، تو رسول اللہ ﷺ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ بلاشبہ باغات کے مالکوں پر دن کے وقت ان ( باغوں ) کی حفاظت لازم ہے ( وہ دن کے وقت کسی جانور کو باغ میں نہ آنے دیں اور اگر کوئی جانور آ گیا تو جانور کا مالک ذمہ دار نہ ہو گا بلکہ یہ باغ کے مالک کی کوتاہی ہی شمار ہو گی ) اور بلاشبہ رات کے وقت چوپائے جو کچھ خرابی ڈالیں تو ان کے مالکوں کے ذمے اس کی ضمانت ( چٹی اور تاوان ) ہو گا ۔

1451

Muwatta Imam Malik #1451

Sahih

[1451] وَحَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، أَنَّ رَقِیقاً لِحَاطِبٍ سَرَقُوا نَاقَۃً لِرَجُلٍ مِنْ مُزَیْنَۃَ، فَانْتَحَرُوہَا فَرُفِعَ ذَلِکَ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَأَمَرَ عُمَرُ کَثِیرَ بْنَ الصَّلْتِ أَنْ یَقْطَعَ أَیْدِیَہُمْ، ثُمَّ قَالَ عُمَرُ : أَرَاکَ تُجِیعُہُمْ. ثُمَّ قَالَ عُمَرُ : وَاللّٰہِ لأُغَرِّمَنَّکَ غُرْماً یَشُقُّ عَلَیْکَ. ثُمَّ قَالَ : لِلْمُزَنِیِّ کَمْ ثَمَنُ نَاقَتِکَ ؟ فَقَالَ الْمُزَنِیُّ : قَدْ کُنْتُ وَاللّٰہِ أَمْنَعُہَا مِنْ أَرْبَعِ مِئَۃِ دِرْہَمٍ. فَقَالَ عُمَرُ : أَعْطِہِ ثَمَانَ مِئَۃِ دِرْہَمٍ۔

اردو ترجمہ · Urdu

یحیی بن عبدالرحمن بن حاطب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ( ان کے دادا ) حضرت حاطب ( بن ابی بلتعہ ) رضی اللہ عنہ کے کچھ غلاموں نے مزینہ قبیلے کے ایک آدمی کی اونٹنی چرا لی ، پھر انھوں نے اسے نحر کر دیا ( اور ذبح کر کے کھا گئے ) ، چنانچہ یہ معاملہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس لے جایا گیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کثیر بن صلت رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ ان کے ہاتھ کاٹ ڈالیں ۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ( حضرت حاطب رضی اللہ عنہ سے ) فرمایا : میرا خیال ہے کہ تم انھیں بھوکا رکھتے ہو ؟ ( لہٰذا یہ تو بے چارے مضطر اور مجبور ہو کر حرام مال کی طرف مجبور ہوئے ، لہٰذا ان کی بجائے تمھیں سزا ملنی چاہیے ) پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں تم پر ضرور ایسا تاوان ڈالوں گا جو تم پر گراں اور سخت ہو گا ، پھر انھوں نے مزینہ قبیلے والے شخص سے کہا کہ تمھاری اونٹنی کی قیمت کتنی تھی ؟ مزنی نے کہا کہ میں تو اللہ کی قسم ! اسے چار سو درہم کے بدلے بھی نہ بیچ رہا تھا ( کیونکہ وہ اس سے زیادہ قیمت کی حامل تھی ) تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ( حضرت حاطب رضی اللہ عنہ سے ) فرمایا کہ اسے ( ڈبل یعنی دوگنا قیمت ) آٹھ سو درہم ادا کر دو ۔