Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 39 · Chapter 453

گروی رکھنے کے بیان کے متعلق کتاب

نرمی و مروت کے متعلق فیصلے کا بیان

4 hadiths in this chapter

1445

Muwatta Imam Malik #1445

Sahih

[1445] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ یَحْیَی الْمَازِنِیِّ، عَنْ أَبِیہِ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ ۔

اردو ترجمہ · Urdu

عمرو بن یحیی مازنی رحمہ اللہ اپنے والد ( یحیی بن عمارہ مازنی رحمہ اللہ ) سے روایت کرتے ہیں کہ بے شک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ( اسلام میں ) نہ ضرر ( بلاوجہ نقصان پہنچانا درست ) ہے اور نہ ضرار ( بدلے میں نقصان دینا جائز ہے ) ۔‘‘

1446

Muwatta Imam Malik #1446

Sahih

[1446] وَحَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أبِی ہُرَیْرَۃَ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : لَا یَمْنَعُ أَحَدُکُمْ جَارَہُ خَشَبَۃً یَغْرِزُہَا فی جِدَارِہِ، ثُمَّ یَقُولُ أَبُو ہُرَیْرَۃَ : مَا لِی أَرَاکُمْ عَنْہَا مُعْرِضِینَ، وَاللّٰہِ لأَرْمِیَنَّ بِہَا بَیْنَ أَکْتَافِکُمْ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں سے کوئی شخص اپنے پڑوسی کو اس لکڑی سے منع نہ کرے جسے وہ اس کی دیوار میں گاڑنا چاہتا ہو ‘‘۔ پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے : کیا بات ہے کہ میں تمھیں اس ( وصیت پیغمبر ﷺ ) سے اعراض کرنے والا دیکھ رہا ہوں ۔ اللہ کی قسم ! میں تو اس ( لکڑی ) کو تمھارے کندھوں کے درمیان میں مار پھینکوں گا ۔

1447

Muwatta Imam Malik #1447

Zaeef

[1447] وَحَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ یَحْیَی الْمَازِنِیِّ، عَنْ أَبِیہِ :أَنَّ الضَّحَّاکَ بْنَ خَلِیفَۃَ سَاقَ خَلِیجاً لَہُ مِنَ الْعُرَیْضِ، فَأَرَادَ أَنْ یَمُرَّ بِہِ فِی أَرْضِ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَۃَ، فَأَبَی مُحَمَّدٌ. فَقَالَ لَہُ الضَّحَّاکُ : لِمَ تَمْنَعُنِی وَہُوَ لَکَ مَنْفَعَۃٌ، تَشْرَبُ بِہِ أَوَّلاً وَآخِراً، وَلَا یَضُرُّکَ. فَأَبَی مُحَمَّدٌ، فَکَلَّمَ فِیہِ الضَّحَّاکُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَدَعَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَۃَ، فَأَمَرَہُ أَنْ یُخَلِّیَ سَبِیلَہُ فَقَالَ مُحَمَّدٌ : لَا. فَقَالَ عُمَرُ لِمَ تَمْنَعُ أَخَاکَ مَا یَنْفَعُہُ وَہُوَ لَکَ نَافِعٌ، تَسْقِی بِہِ أَوَّلاً وَآخِراً، وَہُوَ لَا یَضُرُّکَ. فَقَالَ مُحَمَّدٌ : لَا وَاللَّہِ. فَقَالَ عُمَرُ : وَاللّٰہِ لَیَمُرَّنَّ بِہِ وَلَوْ عَلَی بَطْنِکَ. فَأَمَرَہُ عُمَرُ أَنْ یَمُرَّ بِہِ، فَفَعَلَ الضَّحَّاکُ.

اردو ترجمہ · Urdu

عمرو بن یحیی مازنی رحمہ اللہ اپنے والد ( یحیی بن عمارہ مازنی رحمہ اللہ ) سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ضحاک بن خلیفہ رضی اللہ عنہ نے ( مدینہ منورہ کی وادی ) عریض سے ایک چھوٹی نہر نکالی اور اسے حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کی زمین میں سے گزارنا چاہا ، حضرت محمد ( بن مسلمہ ) رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا تو حضرت ضحاک رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم مجھے ( اس سے ) کیوں روکتے ہو ، حالانکہ اس میں تمہارا بھی نفع ہے ، تم اوّل اور آخر ( یعنی اپنی ساری زمین ) کو اس سے پانی لگا لیا کرنا اور یہ تمھیں ( کچھ بھی ) نقصان نہ دے گی ، لیکن حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے ( پھر بھی ) انکار ہی کیا ۔ چنانچہ حضرت ضحاک رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے بات چیت کی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو بلا لیا اور انھیں حکم دیا کہ وہ اس ( ضحاک رضی اللہ عنہ ) کا راستہ چھوڑ دیں ( انھیں اپنا کام کرنے دیں اور رکاوٹ نہ ڈالیں ) ۔ حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ نہیں ، اللہ کی قسم ؟ ( میں اجازت نہیں دوں گا ) تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم اپنے بھائی کی اس چیز کو کیوں روکتے ہو جو اس کے لیے نفع بخش ہے اور وہ تمھارے لیے بھی تو فائدہ مند ہے ، تم اوّل و آخر ( اپنی ساری زمین ) کو اس سے پانی پلا سکو گے اور وہ تمھارے لیے بالکل بے ضرر ہے ؟ تو حضرت محمد ( بن مسلمہ ) رضی اللہ عنہ نے پھر یہی کہا کہ نہیں ، اللہ کی قسم ! تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! وہ ( ضحاک رضی اللہ عنہ ) اسے ضرور ہی گزاریں گے ، اگرچہ اسے تمھارے پیٹ پر سے گزارنا پڑے ، چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انھیں حکم دیا کہ وہ اسے گزار لیں تو حضرت ضحاک رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا ۔

1448

Muwatta Imam Malik #1448

Zaeef

[1448] وَحَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ یَحْیَی الْمَازِنِیِّ، عَنْ أَبِیہِ، أَ نَّہُ قَالَ: کَانَ فِی حَائِطِ جَدِّہِ رَبِیعٌ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، فَأَرَادَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَنْ یُحَوِّلَہُ إِلَی نَاحِیَۃٍ مِنَ الْحَائِطِ ہِیَ أَقْرَبُ إِلَی أَرْضِہِ، فَمَنَعَہُ صَاحِبُ الْحَائِطِ، فَکَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فِی ذَلِکَ، فَقَضَی لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ بِتَحْوِیلِہِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

عمرو بن یحیی مازنی رحمہ اللہ اپنے والد ( یحیی بن عمارہ مازنی رحمہ اللہ ) سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے دادا ( حضرت ابو حسن تمیم رضی اللہ عنہ ) کے باغ میں حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ کی ( کھالہ نما ) چھوٹی نہر تھی ، حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے چاہا کہ اسے باغ کی ایک جانب منتقل کر دیں جو ان کی زمین کے زیادہ قریب تھی ، تو انھیں باغ کے مالک ( حضرت تمیم بن عبد عمرو رضی اللہ عنہ ) نے اس سے روک دیا ( یہ سوچ کر کہ اب دوسری جانب خراب ہو گی ) ، چنانچہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں گفتگو کی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس ( نہر ) کے منتقل کرنے میں حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے حق میں فیصلہ دیا ۔