Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 38 · Chapter 436

عدالتی فیصلہ جات کے متعلق کتاب

سچائی کے ساتھ فیصلہ کرنے پر ترغیب کا بیان

2 hadiths in this chapter

1412

Muwatta Imam Malik #1412

Sahih

[1412] حَدَّثَنَا یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ زَیْنَبَ بِنْتِ أبِی سَلَمَۃَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ﷺ ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَإِنَّکُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَیَّ، فَلَعَلَّ بَعْضَکُمْ أَنْ یَکُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِہِ مِنْ بَعْضٍ، فَأَقْضِیَ لَہُ عَلَی نَحْوِ مَا أَسْمَعُ مِنْہُ، فَمَنْ قَضَیْتُ لَہُ بِشَیْئٍ مِنْ حَقِّ أَخِیہِ فَلَا یَأْخُذَنَّ مِنْہُ شَیْئاً، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَہُ قِطْعَۃً مِنَ النَّارِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا زوجہ پیغمبر ﷺ سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یقیناً میں تو بس ایک بشر ہوں اور بے شک تم میرے پاس جھگڑے لے کر آتے ہو اور ہو سکتا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص اپنی حجت پیش کرنے میں کسی ( دوسرے فریق ) کی نسبت زیادہ چرب زبان اور زیادہ فصیح ہو ۔ چنانچہ میں اس سے جو کچھ سنوں اس کے مطابق اس کے حق میں فیصلہ کر دوں ( لیکن درحقیقت وہ شخص جھوٹا ہو اور اصل حقدار وہ شخص ہو جو بات کرنے میں اس طرح کا سلیقہ و مہارت اور فصاحت نہ رکھتا ہو ) لہٰذا میں جس شخص کے لیے اس کے بھائی کے حق میں فیصلہ کر دوں ( اس کی باتیں سن کر اصل حقدار کا حق اس چرب زبان کو دلا دوں ) تو وہ اس میں سے کچھ بھی ہرگز نہ لے کیونکہ بلاشبہ میں تو اسے آگ کا ایک ٹکڑا کاٹ کر دے رہا ہوں گا ‘‘۔

1413

Muwatta Imam Malik #1413

Sahih

[1413] وَحَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ اخْتَصَمَ إِلَیْہِ مُسْلِمٌ وَیَہُودِیٌّ، فَرَأَی عُمَرُ أَنَّ الْحَقَّ لِلْیَہُودِیِّ، فَقَضَی لَہُ، فَقَالَ لَہُ الْیَہُودِیُّ : وَاللّٰہِ لَقَدْ قَضَیْتَ بِالْحَقِّ. فَضَرَبَہُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِالدِّرَّۃِ، ثُمَّ قَالَ : وَمَا یُدْرِیکَ ؟ فَقَالَ لَہُ الْیَہُودِیُّ : إِنَّا نَجِدُ أَ نَّہُ لَیْسَ قَاضٍ یَقْضِی بِالْحَقِّ، إِلاَّ کَانَ عَنْ یَمِینِہِ مَلَکٌ، وَعَنْ شِمَالِہِ مَلَکٌ، یُسَدِّدَانِہِ وَیُوَفِّقَانِہِ لِلْحَقِّ مَادَامَ مَعَ الْحَقِّ، فَإِذَا تَرَکَ الْحَقَّ عَرَجَا وَتَرَکَاہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ یقیناً حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک مسلمان اور ایک یہودی فیصلہ لے کر آئے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سمجھا کہ بے شک حق یہودی کے لیے ہے ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے حق میں فیصلہ کر دیا ، تو یہودی ان سے کہنے لگا کہ اللہ کی قسم ! آپ نے حق کے ساتھ فیصلہ کیا ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے کوڑا مارا پھر فرمایا کہ تمھیں کیسے پتا چلا ؟ وہ کہنے لگا کہ بے شک ہم ( تورات میں ) پاتے ہیں کہ بلاشبہ کوئی قاضی نہیں ہے جو حق کے ساتھ فیصلہ کرے مگر ضرور اس کے دائیں جانب اور بائیں ایک ایک فرشتہ ہوتا ہے ۔ وہ دونوں اسے درست راہ پر قائم رکھتے ہیں اور اسے بات الہام کرتے رہتے ہیں جب تک کہ وہ حق کے ساتھ رہے پھر جب وہ حق کو چھوڑ دیتا ہے تو وہ اوپر چڑھ جاتے ہیں اور چھوڑ دیتے ہیں ۔