Muwatta Imam Malik #1412
[1412] حَدَّثَنَا یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ زَیْنَبَ بِنْتِ أبِی سَلَمَۃَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ﷺ ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَإِنَّکُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَیَّ، فَلَعَلَّ بَعْضَکُمْ أَنْ یَکُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِہِ مِنْ بَعْضٍ، فَأَقْضِیَ لَہُ عَلَی نَحْوِ مَا أَسْمَعُ مِنْہُ، فَمَنْ قَضَیْتُ لَہُ بِشَیْئٍ مِنْ حَقِّ أَخِیہِ فَلَا یَأْخُذَنَّ مِنْہُ شَیْئاً، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَہُ قِطْعَۃً مِنَ النَّارِ۔
اردو ترجمہ · Urdu
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا زوجہ پیغمبر ﷺ سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یقیناً میں تو بس ایک بشر ہوں اور بے شک تم میرے پاس جھگڑے لے کر آتے ہو اور ہو سکتا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص اپنی حجت پیش کرنے میں کسی ( دوسرے فریق ) کی نسبت زیادہ چرب زبان اور زیادہ فصیح ہو ۔ چنانچہ میں اس سے جو کچھ سنوں اس کے مطابق اس کے حق میں فیصلہ کر دوں ( لیکن درحقیقت وہ شخص جھوٹا ہو اور اصل حقدار وہ شخص ہو جو بات کرنے میں اس طرح کا سلیقہ و مہارت اور فصاحت نہ رکھتا ہو ) لہٰذا میں جس شخص کے لیے اس کے بھائی کے حق میں فیصلہ کر دوں ( اس کی باتیں سن کر اصل حقدار کا حق اس چرب زبان کو دلا دوں ) تو وہ اس میں سے کچھ بھی ہرگز نہ لے کیونکہ بلاشبہ میں تو اسے آگ کا ایک ٹکڑا کاٹ کر دے رہا ہوں گا ‘‘۔