Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 37 · Chapter 434

حق شفعہ کے مسائل کی کتاب

ان چیزوں کا بیان جن میں شفعہ ہو سکتا ہے

3 hadiths in this chapter

1408

Muwatta Imam Malik #1408

Sahih

[1408] حَدَّثَنَا یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ، وَعَنْ أبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ : أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَضَی بِالشُّفْعَۃِ فِیمَا لَمْ یُقْسَمْ بَیْنَ الشُّرَکَائِ، فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ بَیْنَہُمْ، فَلَا شُفْعَۃَ فِیہِ۔ قَالَ مَالِکٌ : وَعَلَی ذَلِکَ السُّنَّۃُ الَّتِی لَا اخْتِلَافَ فِیہَا عِنْدَنَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

سعید بن مسیب رحمہ اللہ اور ابوسلمہ بن عبدالرحمن بن عوف رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بیشک رسول اللہ ﷺ نے ہر اس چیز میں شفعہ کا فیصلہ فرمایا ہے جو شرکاء کے مابین تقسیم نہ ہوئی ہو ، چنانچہ جب ان کے درمیان حد بندی ہو جائے تو پھر کوئی شفعہ نہیں ہے ۔ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا : یہی وہ مسنون طریقہ ہے جس میں ہمارے ہاں ( مدینہ منورہ میں ) کوئی اختلاف نہیں ہے ۔

1409

Muwatta Imam Malik #1409

Zaeef

[1409] قَالَ مَالِکٌ : إِنَّہُ بَلَغَہُ أَنَّ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ سُئِلَ عَنِ الشُّفْعَۃِ ہَلْ فِیہَا مِنْ سُنَّۃٍ؟ فَقَالَ : نَعَمْ الشُّفْعَۃُ فِی الدُّورِ وَالأَرَضِینَ، وَلَا تَکُونُ إِلاَّ بَیْنَ الشُّرَکَائِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے شفعہ کے متعلق یہ سوال کیا گیا کہ کیا اس میں کوئی مسنون طریقہ ( اور شرعی حکم ) ہے ؟ تو انھوں نے فرمایا : ہاں ۔ شفعہ گھروں اور زمینوں ( یعنی غیر منقولہ جائداد ) میں ہوتا ہے اور یہ صرف اور صرف شرکاء کے درمیان ہی ہوتا ہے ۔

1410

Muwatta Imam Malik #1410

Zaeef

[1410] وَحَدَّثَنِی مَالِکٌ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ مِثْلُ ذَلِکَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے بھی اس کی مثل خبر پہنچی ہے ۔