Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 36 · Chapter 433

زمین کو کرائے ( ٹھیکے ) پر دینے کے مسائل کی کتاب

زمین کو ٹھیکے پر دینے کا بیان

5 hadiths in this chapter

1403

Muwatta Imam Malik #1403

Sahih

[1403] حَدَّثَنَا یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ رَبِیعَۃَ بْنِ أبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَنْظَلَۃَ بْنِ قَیْسٍ الزُّرَقِیِّ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ : أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ نَہَی عَنْ کِرَائِ الْمَزَارِعِ.قَالَ حَنْظَلَۃُ : فَسَأَلْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِیجٍ بِالذَّہَبِ وَالْوَرِقِ ؟ فَقَالَ : أَمَّا بِالذَّہَبِ وَالْوَرِقِ فَلَا بَأْسَ بِہِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ ﷺ نے کھیتوں کو کرائے پر ( حصہ پر ) دینے سے منع فرمایا ہے ۔ ( ان کے شاگرد ) حنظلہ ( بن قیس رحمہ اللہ ) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے سونے اور چاندی کے عوض ( کرائے اور ٹھیکے پر زمین ) دینے کے متعلق سوال کیا تو وہ کہنے لگے کہ رہا سونا اور چاندی تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

1404

Muwatta Imam Malik #1404

Sahih

[1404] وَحَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، أَ نَّہُ قَالَ : سَأَلْتُ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ عَنْ کِرَائِ الأَرْضِ بِالذَّہَبِ وَالْوَرِقِ ؟ فَقَالَ : لَا بَأْسَ بِہِ.

اردو ترجمہ · Urdu

ابن شہاب رحمہ اللہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے زمین کو سونے اور چاندی کے عوض کرائے پر دینے کے متعلق پوچھا تو انھوں نے کہا کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

1405

Muwatta Imam Malik #1405

Sahih

[1405] وَحَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، أَ نَّہُ سَأَلَ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ کِرَائِ الْمَزَارِعِ فَقَالَ : لَا بَأْسَ بِہَا بِالذَّہَبِ وَالْوَرِقِ.قَالَ ابْنُ شِہَابٍ : فَقُلْتُ لَہُ : أَرَأَیْتَ الْحَدِیثَ الَّذِی یُذْکَرُ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ فَقَالَ : أَکْثَرَ رَافِعٌ، وَلَوْ کَانَت لِی مَزْرَعَۃٌ أَکْرَیْتُہَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

ابن شہاب رحمہ اللہ ( ہی ) سے روایت ہے ، انھوں نے سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے کھیتوں کو کرائے پر دینے کے متعلق سوال کیا تو انھوں نے کہا کہ سونے اور چاندی کے عوض انھیں ( کرائے اور ٹھیکے پر ) دینے میں کوئی حرج نہیں ہے ، ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا کہ کیا آپ کو اس حدیث کا علم ہے جو حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کی جاتی ہے ، ( مجھے اس کے متعلق بتائیے ) تو انھوں نے کہا کہ حضرت رافع رضی اللہ عنہ نے کچھ زیادہ ہی بیان کر دیا ہے ، اگر میرا کوئی کھیت ہو تو میں اسے ٹھیکے پر دے دیتا ۔

1406

Muwatta Imam Malik #1406

Zaeef

[1406] وَحَدَّثَنِی مَالِکٌ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ : أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ تَکَارَی أَرْضاً، فَلَمْ تَزَلْ فِی یَدَیْہِ بِکِرَائٍ حَتَّی مَاتَ، قَالَ ابْنُہُ : فَمَا کُنْتُ أُرَاہَا إِلاَّ لَنَا مِنْ طُولِ مَا مَکَثَتْ فِی یَدَیْہِ، حَتَّی ذَکَرَہَا لَنَا عِنْدَ مَوْتِہِ، فَأَمَرَنَا بِقَضَائِ شَیْئٍ کَانَ عَلَیْہِ مِنْ کِرَائِہَا، ذَہَبٍ أَوْ وَرِقٍ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ایک زمین کرائے پر لے رکھی تھی ، وہ کرائے پر مسلسل انھی کے پاس رہی ، یہاں تک کہ وہ فوت ہو گئے ، ان کے بیٹے ( ابوسلمہ یا حمید ) نے کہا کہ میں اس زمین کو اپنے سوا کسی اور کی نہیں سمجھتا تھا ، اس وجہ سے کہ وہ لمبا عرصہ انھی ( یعنی والد صاحب ) کے ہاتھوں میں رہی تھی ۔ یہاں تک کہ انھوں نے اپنی وفات کے وقت ہم سے اس کا ذکر کیا ، پھر ہمیں اس چیز یعنی سونے یا چاندی کی ادائیگی کا حکم دیا جو ان کے ذمے اس کے کرائے میں سے باقی تھی ۔

1407

Muwatta Imam Malik #1407

Sahih

[1407] وَحَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ أَبِیہِ : أَ نَّہُ کَانَ یُکْرِی أَرْضَہُ بِالذَّہَبِ وَالْوَرِقِ.

اردو ترجمہ · Urdu

ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد ( عروہ بن زبیر رحمہ اللہ ) سے روایت کرتے ہیں کہ بلاشبہ وہ اپنی زمین سونے اور چاندی کے عوض کرائے پر دیا کرتے تھے ۔