Muwatta Imam Malik #1401
[1401] حَدَّثَنَا یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ, أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ لِیَہُودِ خَیْبَرَ، یَوْمَ افْتَتَحَ خَیْبَرَ : أُقِرُّکُمْ فِیہَا مَا أَقَرَّکُمُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ، عَلَی أَنَّ الثَّمَرَ بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ قَالَ فَکَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ یَبْعَثُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ رَوَاحَۃَ، فَیَخْرُصُ بَیْنَہُ وَبَیْنَہُمْ، ثُمَّ یَقُولُ : إِنْ شِئْتُمْ فَلَکُمْ، وَإِنْ شِئْتُمْ فَلِیَ. فَکَانُوا یَأْخُذُونَہُ۔
اردو ترجمہ · Urdu
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بیشک رسول اللہ ﷺ نے جس دن خیبر فتح کیا ، خیبر کے یہودیوں سے فرمایا ’’ میں تمھیں ( یہاں ) اس مدت پر ( مدت تک ) ٹھہرنے دیتا ہوں کہ جب تک اللہ تعالی تمھیں ٹھہرائے رکھے گا ۔ اس معاہدے پر کہ پھل ہمارے اور تمھارے درمیان نصف نصف ( تقسیم ) ہو گا ، چنانچہ رسول اللہ ﷺ حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا کرتے تھے ، وہ اپنے اور ان کے درمیان پھلوں کا تخمینہ لگاتے ، پھر ان سے کہتے کہ اگر تم چاہو تو ( یہ سارا پھل ) تمھارا ہو جائے ( اور ہمارے تر پھل کے حصے کے بدلے تم اپنے پاس خشک پھل ہمیں دے دو ) اور اگر تم چاہو تو یہ میرا ہو جائے ( اور میں تمھیں اسی لگائے گئے اندازے کے بقدر پھل دے دیتا ہوں ) تو یہودی اس پھل کو لے لیتے تھے ( اور تخمینے کا نصف مسلمانوں کے حوالے کر دیتے تھے ) ۔