Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 35 · Chapter 432

مساقات ( باغات کو پانی لگانے ) کے مسائل کی کتاب

مساقات ( درختوں وغیرہ کو حصے پر پانی دینے ) کا بیان

2 hadiths in this chapter

1401

Muwatta Imam Malik #1401

Sahih

[1401] حَدَّثَنَا یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ, أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ لِیَہُودِ خَیْبَرَ، یَوْمَ افْتَتَحَ خَیْبَرَ : أُقِرُّکُمْ فِیہَا مَا أَقَرَّکُمُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ، عَلَی أَنَّ الثَّمَرَ بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ قَالَ فَکَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ یَبْعَثُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ رَوَاحَۃَ، فَیَخْرُصُ بَیْنَہُ وَبَیْنَہُمْ، ثُمَّ یَقُولُ : إِنْ شِئْتُمْ فَلَکُمْ، وَإِنْ شِئْتُمْ فَلِیَ. فَکَانُوا یَأْخُذُونَہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بیشک رسول اللہ ﷺ نے جس دن خیبر فتح کیا ، خیبر کے یہودیوں سے فرمایا ’’ میں تمھیں ( یہاں ) اس مدت پر ( مدت تک ) ٹھہرنے دیتا ہوں کہ جب تک اللہ تعالی تمھیں ٹھہرائے رکھے گا ۔ اس معاہدے پر کہ پھل ہمارے اور تمھارے درمیان نصف نصف ( تقسیم ) ہو گا ، چنانچہ رسول اللہ ﷺ حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا کرتے تھے ، وہ اپنے اور ان کے درمیان پھلوں کا تخمینہ لگاتے ، پھر ان سے کہتے کہ اگر تم چاہو تو ( یہ سارا پھل ) تمھارا ہو جائے ( اور ہمارے تر پھل کے حصے کے بدلے تم اپنے پاس خشک پھل ہمیں دے دو ) اور اگر تم چاہو تو یہ میرا ہو جائے ( اور میں تمھیں اسی لگائے گئے اندازے کے بقدر پھل دے دیتا ہوں ) تو یہودی اس پھل کو لے لیتے تھے ( اور تخمینے کا نصف مسلمانوں کے حوالے کر دیتے تھے ) ۔

1402

Muwatta Imam Malik #1402

Sahih

[1402] وَحَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ : أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ کَانَ یَبْعَثُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ رَوَاحَۃَ إِلَی خَیْبَرَ، فَیَخْرُصُ بَیْنَہُ وَبَیْنَ یَہُودِ خَیْبَرَ، قَالَ : فَجَمَعُوا لَہُ حَلْیاً مِنْ حَلْی نِسَائِہِمْ فَقَالُوا : ہَذَا لَکَ وَخَفِّفْ عَنَّا وَتَجَاوَزْ فِی الْقَسْمِ. فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ رَوَاحَۃَ : یَا مَعْشَرَ الْیَہُودِ، وَاللّٰہِ إِنَّکُمْ لَمِنْ أَبْغَضِ خَلْقِ اللّٰہِ إِلَیَّ، وَمَا ذَاکَ بِحَامِلِی عَلَی أَنْ أَحِیفَ عَلَیْکُمْ، فَأَمَّا مَا عَرَضْتُمْ مِنَ الرُّشْوَۃِ فَإِنَّہَا سُحْتٌ، وَإِنَّا لَا نَأْکُلُہَا. فَقَالُوا : بِہَذَا قَامَتِ السَّمَوَاتُ وَالأَرْضُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ ﷺ حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو خیبر کی طرف بھیجا کرتے تھے ، چنانچہ وہ اپنے اور خیبر کے یہودیوں کے مابین ( کھجوروں کا ) تخمینہ لگایا کرتے تھے ۔ وہ ( سلیمان بن یسار رحمہ اللہ ) کہتے ہیں کہ انھوں نے ( یہودیوں نے ) اپنی عورتوں کے زیورات میں سے کچھ زیور ان کے لیے ( بطور رشوت ) اکٹھا کیا اور کہنے لگے کہ یہ تمھارا ہے ( اسے رکھ لو اور اس کے عوض ) ہم سے تخفیف کرو اور تقسیم میں ہم سے درگزر کرو ( صحیح اندازہ نہ لگانا تاکہ ہمیں زیادہ ادائیگی نہ کرنی پڑے ) تو حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے : اے یہود کی جماعت ! اللہ کی قسم ! یقیناً تم میرے نزدیک اللہ کی سب سے قابل نفرت مخلوق میں سے ہو اور یہ ( نفرت ) مجھے اس بات پر آمادہ کرنے والی نہیں کہ میں تم پر کوئی ظلم کروں ، رہی وہ رشوت جو تم نے پیش کی ہے تو یہ حرام ہے اور بلاشبہ ہم اسے نہیں کھاتے ، تو وہ ( یہودی ) کہنے لگے کہ اسی ( انصاف اور حلال کے اہتمام ) کی وجہ سے آسمان و زمین قائم ہیں ۔