Muwatta Imam Malik #1399
[1399] حَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِیہِ أَ نَّہُ قَالَ : خَرَجَ عَبْدُ اللّٰہِ وَعُبَیْدُ اللّٰہِ ابْنَا عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِی جَیْشٍ إِلَی الْعِرَاقِ، فَلَمَّا قَفَلَا مَرَّا عَلَی أبِی مُوسَی الأَشْعَرِیِّ وَہُوَ أَمِیرُ الْبَصْرَۃِ، فَرَحَّبَ بِہِمَا وَسَہَّلَ، ثُمَّ قَالَ : لَوْ أَقْدِرُ لَکُمَا عَلَی أَمْرٍ أَنْفَعُکُمَا بِہِ لَفَعَلْتُ، ثُمَّ قَالَ : بَلَی ہَا ہُنَا مَالٌ مِنْ مَالِ اللَّہِ، أُرِیدُ أَنْ أَبْعَثَ بِہِ إِلَی أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ، فَأُسْلِفُکُمَاہُ فَتَبْتَاعَانِ بِہِ مَتَاعاً مِنْ مَتَاعِ الْعِرَاقِ، ثُمَّ تَبِیعَانِہِ بِالْمَدِینَۃِ، فَتُؤَدِّیَانِ رَأْسَ الْمَالِ إِلَی أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ، وَیَکُونُ الرِّبْحُ لَکُمَا۔ فَقَالَا : وَدِدْنَا ذَلِکَ۔ فَفَعَلَ، وَکَتَبَ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنْ یَأْخُذَ مِنْہُمَا الْمَالَ، فَلَمَّا قَدِمَا بَاعَا فَأُرْبِحَا، فَلَمَّا دَفَعَا ذَلِکَ إِلَی عُمَرَ قَالَ : أَکُلُّ الْجَیْشِ أَسْلَفَہُ مِثْلَ مَا أَسْلَفَکُمَا ؟ قَالَا: لَا۔ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : ابْنَا أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ فَأَسْلَفَکُمَا، أَدِّیَا الْمَالَ وَرِبْحَہُ۔ فَأَمَّا عَبْدُ اللّٰہِ فَسَکَتَ، وَأَمَّا عُبَیْدُ اللّٰہِ فَقَالَ : مَا یَنْبَغِی لَکَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ہَذَا، لَوْ نَقَصَ ہَذَا الْمَالُ أَوْ ہَلَکَ لَضَمِنَّاہُ۔ فَقَالَ عُمَرُ : أَدِّیَاہُ۔ فَسَکَتَ عَبْدُ اللّٰہِ وَرَاجَعَہُ عُبَیْدُ اللَّہِ۔ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ جُلَسَائِ عُمَرَ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ لَوْ جَعَلْتَہُ قِرَاضاً۔ فَقَالَ عُمَرُ : قَدْ جَعَلْتُہُ قِرَاضاً۔ فَأَخَذَ عُمَرُ رَأْسَ الْمَالِ وَنِصْفَ رِبْحِہِ، وَأَخَذَ عَبْدُ اللّٰہِ وَعُبَیْدُ اللّٰہِ ابْنَا عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ نِصْفَ رِبْحِ الْمَالِ۔
اردو ترجمہ · Urdu
زید بن اسلم اپنے والد ( اسلم ) سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دو بیٹے حضرت عبداللہ اور عبیداللہ عراق کی طرف جانے والے ایک لشکر میں ( جہاد کے لیے ) نکلے ، جب وہ واپس آئے تو حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے جو اس وقت بصرہ کے امیر تھے ، انھوں نے دونوں کو خوش آمدید کہا ، پھر کہا کہ اگر میں کسی ایسے کام پر قدرت رکھتا جس کے ذریعے تمھیں نفع پہنچا سکتا تو ضرور ایسا کرتا ، پھر انھوں نے کہا کہ کیوں نہیں ( تمھارے نفع کا ایک کام میرے ذہن میں آ گیا ہے ) یہاں اللہ کے مال ( بیت المال ) میں سے کچھ مال موجود ہے ، میں اسے امیرالمومنین کی طرف بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہوں ، میں وہ تم دونوں کو قرض دے دیتا ہوں ، تم اس سے عراق کے سامان اسباب میں سے کچھ سامان خرید لو ، پھر اسے مدینہ منورہ میں بیچ دینا ، اصل مال امیرالمومنین کو ادا کر دینا اور نفع تم دونوں کا ہو جائے گا ، دونوں نے کہا کہ ہم ( بھی ایسا ہی ) چاہتے ہیں ، چنانچہ انھوں نے ایسا ہی کیا اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی طرف ایک خط لکھ دیا کہ وہ ان دونوں سے مال وصول کر لیں ، چنانچہ جب وہ دونوں ( مدینہ ) آئے تو انھوں نے ( عراق سے خریدا ہوا مال ) بیچ دیا اور نفع حاصل کر لیا ۔ پھر جب انھوں نے اسے امیرالمومنین کے سپرد کیا تو وہ فرمانے لگے : کیا حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے پورے لشکر کو اس طرح قرض دیا جس طرح انھوں نے تمھیں قرض دیا ہے ؟ وہ بولے کہ نہیں ، تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرمانے لگے : ( چونکہ تم ) دونوں امیرالمومنین کے بیٹے ہو اس لیے انھوں نے تمھیں قرض دیا ، ( میری رضا مندی چاہنے کے سوا اور کوئی سبب نظر نہیں آتا لہٰذا اس کے رشوت ہونے کا خدشہ ہے ) لہٰذا تم دونوں اصل مال بھی اور اس کا نفع بھی ادا کر دو ۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ تو خاموش رہے ( بڑا بیٹا ہونے کے باوجود ، ادب و احترام اور ورع و تقویٰ کی بنا پر انھوں نے کچھ اعتراض نہ کیا ) لیکن عبیداللہ کہنے لگے کہ اے امیرالمومنین ! آپ کے لیے یہ مناسب نہیں ہے ، اگر یہ مال کم ہو جاتا ( اور گھاٹا پڑ جاتا ) یا ہلاک ہو جاتا تو ہم ہی اس کے ضامن ہوتے ( اور آپ ہم سے یہ قرض وصول کر لیتے ، لہٰذا نقصان ہم پر پڑنا تھا تو فائدہ بھی ہمارا ہو گا ، یہ ہبہ یا امانت نہیں ہے ، اگر یہ امانت ہوتا تو ہم ضامن نہ ہوتے بلکہ یہ تو یقیناً قرض ہے اور شرعی طور پر ہم اس میں کاروبار کرنے کے مجاز ہیں ) تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم وہ ( سب اصل زر اور نفع ) ادا کر دو ، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ ( اب بھی ) خاموش رہے ، اور عبیداللہ ان سے بحث کرنے لگے ۔ ( یہ بے ادبی نہ تھی بلکہ ایک شرعی اور علمی مسئلے پر بحث تھی جو کہ جائز ہے ) تو ( اتنے میں ) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہم نشینوں میں سے ایک شخص ( حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ) فرمانے لگے کہ اے امیرالمومنین ! اگر آپ اسے مضاربت شمار کر لیں ، چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ( ٹھیک ہے ) میں نے اسے مضاربت شمار کر لیا ، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اصل مال اور نصف نفع لے لیا اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور عبیداللہ نے مال کا ( باقی ماندہ ) نصف نفع وصول کر لیا ۔