Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 33 · Chapter 428

خرید و فروخت کے مسائل کی کتاب

ناجائز قرض کا بیان

4 hadiths in this chapter

1388

Muwatta Imam Malik #1388

Zaeef

[1388] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ فِی رَجُلٍ أَسْلَفَ رَجُلاً طَعَاماً عَلَی أَنْ یُعْطِیَہُ إِیَّاہُ فِی بَلَدٍ آخَرَ، فَکَرِہَ ذَلِکَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَقَالَ : فَأَیْنَ الْحَمْلُ۔ یَعْنِی حُمْـلَانَہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ بے شک حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس شخص کے متعلق فرمایا جس نے دوسرے آدمی کو کچھ اناج اس شرط پر ادھار دیا کہ وہ اسے وہ اناج ایک دوسرے شہر میں ادا کرے گا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے ناپسند کیا اور فرمایا کہ پھر بوجھ اٹھوانے ( اور بار برادری ) کی اجرت کہاں جائے گی ؟

1389

Muwatta Imam Malik #1389

Zaeef

[1389] وَحَدَّثَنِی مَالِکٌ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ أَنَّ رَجُلاً أَتَی عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ فَقَالَ : یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إنِّی أَسْلَفْتُ رَجُلاً سَلَفاً، وَاشْتَرَطْتُ عَلَیْہِ أَفْضَلَ مِمَّا أَسْلَفْتُہُ۔ فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ : فَذَلِکَ الرِّبَا۔ قَالَ : فَکَیْفَ تَأْمُرُنِی یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ : السَّلَفُ عَلَی ثَـلَاثَۃِ وُجُوہٍ : سَلَفٌ تُسْلِفُہُ تُرِیدُ بِہِ وَجْہَ اللَّہِ، فَلَکَ وَجْہُ اللَّہِ، وَسَلَفٌ تُسْلِفُہُ تُرِیدُ بِہِ وَجْہَ صَاحِبِکَ، فَلَکَ وَجْہُ صَاحِبِکَ، وَسَلَفٌ تُسْلِفُہُ لِتَأْخُذَ خَبِیثاً بِطَیِّبٍ، فَذَلِکَ الرِّبَا۔ قَالَ : فَکَیْفَ تَأْمُرُنِی یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ؟ قَالَ : أَرَی أَنْ تَشُقَّ الصَّحِیفَۃَ، فَإِنْ أَعْطَاکَ مِثْلَ الَّذِی أَسْلَفْتَہُ قَبِلْتَہُ، وَإِنْ أَعْطَاکَ دُونَ الَّذِی أَسْلَفْتَہُ فَأَخَذْتَہُ أُجِرْتَ، وَإِنْ أَعْطَاکَ أَفْضَلَ مِمَّا أَسْلَفْتَہُ طَیِّبَۃً بِہِ نَفْسُہُ، فَذَلِکَ شُکْرٌ شَکَرَہُ لَکَ, وَلَکَ أَجْرُ مَا أَنْظَرْتَہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ ایک آدمی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا ، وہ کہنے لگا کہ اے ابوعبدالرحمن ! بے شک میں نے ایک شخص کو کچھ ادھار دیا اور میں نے جو مال اسے دیا تھا اس سے افضل مال ( واپس ادا کرنے ) کی اس پر شرط لگا لی ، تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ پھر یہ تو سود ہے ۔ وہ کہنے لگا کہ اے ابوعبدالرحمن ! آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : ادھار ( اور قرض ) تین قسم پر ہے ، ایک وہ قرض ہے جسے تم دو اور اس کے ذریعے سے تم اللہ کے چہرے ( کے دیدار اور رضامندی کے حصول ) کو چاہتے ہو ، تو تمھارے لیے اللہ کی رضامندی ( ہی لکھی جاتی ) ہے ، اور ایک وہ قرض ہے جسے تم اس لیے دو کہ تم اس کے ذریعے سے اپنے دوست کی رضا مندی چاہتے ہو تو تمھارے لیے تمھارے دوست کی رضا مندی ( ہی حاصل ہوتی ) ہے اور ایک وہ ادھار ہے جسے تم اس لیے ادھار دو تاکہ پاکیزہ مال کے عوض پلید مال حاصل کرو ، تو یہی سود ہے ، وہ آدمی ( پھر ) کہنے لگا کہ اے ابوعبدالرحمن ( عبداللہ بن عمر ) ! تو آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ انھوں نے فرمایا : میں یہ خیال کرتا ہوں کہ تم صحیفہ ( دستاویز ، اسٹام ، ثبوت والی تحریر ) پھاڑ ڈالو ، پھر اگر وہ ( قرض ادا کرتے وقت ) تمھیں اسی کی مثل دے جو تم نے اسے ادھار دیا تھا تو اسے قبول کر لو ، اور اگر وہ تمھیں اس سے گھٹیا چیز دے جو تم نے اسے قرض دی تھی اور تم اسے لے لو تو تمھیں اجر دیا جائے گا ( کیونکہ یہ تمھارا اس پر احسان ہو گا ) اور اگر وہ اپنے دل کی خوشی سے تمھیں اس سے بہتر ادا کرے جو تم نے اسے ادھار دیا تھا تو یہ شکریہ ہے ، اس نے ( ایسا کر کے ) تمھارا شکریہ ادا کیا ہے اور تمھیں اس کا اجر ملے گا ، جو تم نے اسے مہلت دی تھی ۔

1390

Muwatta Imam Malik #1390

Sahih

[1390] وَحَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ نَافِعٍ أَ نَّہُ سَمِعَ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ یَقُولُ : مَنْ أَسْلَفَ سَلَفاً، فَلَا یَشْتَرِطْ إِلاَّ قَضَائَ ہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

نافع سے روایت ہے ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا : جس شخص نے کوئی قرض دیا تو وہ قرض ادا کرنے کے سوا کوئی شرط نہ لگائے ۔

1391

Muwatta Imam Malik #1391

Zaeef

[1391] وَحَدَّثَنِی مَالِکٌ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ مَسْعُودٍ کَانَ یَقُولُ : مَنْ أَسْلَفَ سَلَفاً، فَلَا یَشْتَرِطْ أَفْضَلَ مِنْہُ، وَإِنْ کَانَتْ قَبْضَۃً مِنْ عَلَفٍ، فَہُوَ رِباً۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ بے شک حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ جس نے بھی کوئی قرض دیا تو وہ اس سے افضل ( چیز کو واپس لینے ) کی شرط نہ لگائے ، خواہ وہ ( زائد چیز اور شرط ) مٹھی بھر چارہ ہی ہو ، تو وہ سود ہی ہے ۔