Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 33 · Chapter 427

خرید و فروخت کے مسائل کی کتاب

جائز ادھار اور قرض کا بیان

2 hadiths in this chapter

1386

Muwatta Imam Malik #1386

Sahih

[1386] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ, عَنْ أبِی رَافِعٍ مَوْلَی رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ ، أَ نَّہُ قَالَ : اسْتَسْلَفَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ بَکْراً، فَجَائَ تْہُ إِبِلٌ مِنَ الصَّدَقَۃِ، قَالَ أَبُو رَافِعٍ : فَأَمَرَنِی رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ أَنْ أَقْضِیَ الرَّجُلَ بَکْرَہُ، فَقُلْتُ : لَمْ أَجِدْ فِی الإِبِلِ إِلاَّ جَمَلاً خِیَاراً رَبَاعِیاً۔ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : أَعْطِہِ إِیَّاہُ، فَإِنَّ خِیَارَ النَّاسِ أَحْسَنُہُمْ قَضَائً۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ جو کہ رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام ہیں ، سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ( نوعمر ) اونٹ قرض لیا ، پھر آپ ﷺ کے پاس زکاۃ کے اونٹ آئے ۔ حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم فرمایا کہ میں ( قرض دینے والے ) آدمی کو اس کا اونٹ ادا کر دوں ، تو میں نے عرض کیا کہ میں ان اونٹوں میں چھ سالہ بہترین اونٹ کے سوا کچھ نہیں پاتا ( زکاۃ میں بڑی عمر والے اونٹ آئے ہیں جبکہ اس کا اونٹ چھوٹی عمر کا تھا ) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے وہی دے دو ، بلاشبہ لوگوں میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو ( قرض ) ادا کرنے میں ان میں سب سے بہتر ہو ۔‘‘

1387

Muwatta Imam Malik #1387

Sahih

[1387] وَحَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ قَیْسٍ الْمَکِّیِّ، عَنْ مُجَاہِدٍ، أَ نَّہُ قَالَ : اسْتَسْلَفَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ مِنْ رَجُلٍ دَرَاہِمَ، ثُمَّ قَضَاہُ دَرَاہِمَ خَیْراً مِنْہَا، فَقَالَ الرَّجُلُ : یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ہَذِہِ خَیْرٌ مِنْ دَرَاہِمِی الَّتِی أَسْلَفْتُکَ۔ فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ : قَدْ عَلِمْتُ، وَلَکِنْ نَفْسِی بِذَلِکَ طَیِّبَۃٌ۔

اردو ترجمہ · Urdu

مجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا کہ یقیناً حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک آدمی سے کچھ درہم ادھار لیے ، پھر اسے ان سے بہتر درہم ادا کیے ، وہ آدمی کہنے لگا : اے ابوعبدالرحمن ! یہ درہم تو ان درہموں سے بہتر ہیں جو میں نے آپ کو قرض دیے تھے ( تو کیا یہ سود نہیں ہے ؟ ) چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : مجھے اس کا علم ہے ، لیکن میرا دل اس پر ( راضی اور ) خوش ہے ۔