Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 33 · Chapter 424

خرید و فروخت کے مسائل کی کتاب

قرض میں سود کا بیان

3 hadiths in this chapter

1379

Muwatta Imam Malik #1379

Sahih

[1379] حَدَّثَنِی یَحْیَی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ أبِی الزِّنَادِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ عُبَیْدٍ أبِی صَالِحٍ مَوْلَی السَّفَّاحِ، أَ نَّہُ قَالَ : بِعْتُ بَزًّا لِی مِنْ أَہْلِ دَارِ نَخْلَۃَ إِلَی أَجَلٍ، ثُمَّ أَرَدْتُ الْخُرُوجَ إِلَی الْکُوفَۃِ، فَعَرَضُوا عَلَیَّ أَنْ أَضَعَ عَنْہُمْ بَعْضَ الثَّمَنِ وَیَنْقُدُونِی، فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِکَ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَقَالَ : لَا آمُرُکَ أَنْ تَأْکُلَ ہَذَا وَلَا تُوکِلَہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

عبید ابو صالح جو کہ سفاح کے آزاد کردہ غلام تھے ، سے روایت ہے انھوں نے کہا کہ میں نے ( مکہ و طائف کے درمیان ایک مقام ) ’’ دار نخلہ ‘‘ والوں کے ہاتھ اپنا کچھ کپڑا میعاد پر ( ادھار ) بیچا ، پھر میں نے ( حجاز سے عراق کی طرف ) کوفہ جانے کا ارادہ کیا ، ( ابھی ادھار والی میعاد نہیں آئی تھی ) تو ان لوگوں نے مجھے یہ تجویز پیش کی کہ میں ان کو کچھ قیمت معاف کر دوں تو وہ مجھے نقد ادائیگی کر دیں گے ، چنانچہ میں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ میں تجھے یہ حکم نہیں دوں گا کہ تم اسے کھاؤ اور نہ ہی ( یہ کہوں گا کہ ) اسے کھلاؤ ۔

1380

Muwatta Imam Malik #1380

Sahih

[1380] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَفْصِ بْنِ خَلْدَۃَ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ : أَ نَّہُ سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ یَکُونُ لَہُ الدَّیْنُ عَلَی الرَّجُلِ إِلَی أَجَلٍ، فَیَضَعُ عَنْہُ صَاحِبُ الْحَقِّ وَیُعَجِّلُہُ الآخَرُ، فَکَرِہَ ذَلِکَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ، وَنَہَی عَنْہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، ان سے اس شخص کے متعلق سوال کیا گیا جس کا دوسرے شخص پر ایک مقررہ وقت تک قرض ہو تو حقدار ( قرض خواہ ) اس ( مقروض ) سے کچھ قرض معاف کر دے اور وہ اسے نقد ادائیگی کر دے تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے ناپسند جانا اور اس سے منع فرما دیا ۔

1381

Muwatta Imam Malik #1381

Sahih

[1381] وَحَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَ نَّہُ قَالَ : کَانَ الرِّبَا فِی الْجَاہِلِیَّۃِ أَنْ یَکُونَ لِلرَّجُلِ عَلَی الرَّجُلِ الْحَقُّ إِلَی أَجَلٍ، فَإِذَا حَلَّ الأَجَلُ قَالَ : أَتَقْضِی أَمْ تُرْبِی ؟ فَإِنْ قَضَی أَخَذَ، وَإِلاَّ زَادَہُ فِی حَقِّہِ وَأَخَّرَ عَنْہُ فِی الأَجَلِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

زید بن اسلم رحمہ اللہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا کہ دورِ جاہلیت کا سود اس طرح تھا کہ ایک آدمی کا دوسرے آدمی پر ایک مقرر وقت تک حق ہوتا ، پھر جب مقررہ مدت آ جاتی تو وہ ( قرض خواہ اس مقروض سے ) کہتا : ادائیگی کرو گے یا سود دو گے ، چنانچہ اگر تو وہ ادائیگی کر دیتا تو وہ اسے لے لیتا ورنہ اپنے حق میں اسی ( مقروض کے ذمے ) پر اضافہ کر دیتا اور اس سے مدت کو مزید مؤخر کر دیتا ۔