Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 33 · Chapter 416

خرید و فروخت کے مسائل کی کتاب

گوشت کے عوض زندہ جانور کی بیع کا بیان

3 hadiths in this chapter

1366

Muwatta Imam Malik #1366

Sahih

[1366] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ : أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ نَہَی عَنْ بَیْعِ الْحَیَوَانِ بِاللَّحْمِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ ﷺ نے حیوان کو گوشت کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا ہے ۔

1367

Muwatta Imam Malik #1367

Sahih

[1367] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَیْنِ : أَ نَّہُ سَمِعَ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ یَقُولُ: مِنْ مَیْسِرِ أَہْلِ الْجَاہِلِیَّۃِ بَیْعُ الْحَیَوَانِ بِاللَّحْمِ، بِالشَّاۃِ وَالشَّاتَیْنِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

داؤد بن حصین رحمہ اللہ سے روایت ہے ، انھوں نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اہل جاہلیت کے جوئے میں سے ایک ( صورت ) زندہ جانور یعنی ایک یا دو بکریوں کی گوشت کے عوض بیع ہے ۔

1368

Muwatta Imam Malik #1368

Sahih

[1368] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ أبِی الزِّنَادِ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ، أَ نَّہُ کَانَ یَقُولُ : نُہِیَ عَنْ بَیْعِ الْحَیَوَانِ بِاللَّحْمِ۔ قَالَ أَبُو الزِّنَادِ : فَقُلْتُ لِسَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ : أَرَأَیْتَ رَجُلاً اشْتَرَی شَارِفاً بِعَشَرَۃِ شِیَاہٍ ؟ فَقَالَ سَعِیدٌ : إِنْ کَانَ اشْتَرَاہَا لِیَنْحَرَہَا فَلَا خَیْرَ فِی ذَلِکَ۔ قَالَ أَبُو الزِّنَادِ : وَکُلُّ مَنْ أَدْرَکْتُ مِنَ النَّاسِ یَنْہَوْنَ عَنْ بَیْعِ الْحَیَوَانِ بِاللَّحْمِ۔ قَالَ أَبُو الزِّنَادِ : وَکَانَ ذَلِکَ یُکْتَبُ فِی عُہُودِ الْعُمَّالِ فِی زَمَانِ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، وَہِشَامِ بْنِ إِسْمَاعِیلَ، یَنْہَوْنَ عَنْ ذَلِکَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

ابوزناد ( عبداللہ بن ذکوان ) سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں ، وہ فرمایا کرتے تھے کہ جانور کی گوشت کے بدلے خرید و فروخت سے منع کیا گیا ہے ۔ ابوزناد کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے عرض کیا : آپ اس آدمی کے متعلق بتائیں جس نے ایک بڑی عمر کی اونٹنی کو دس بکریوں کے عوض خرید لیا ہو ، تو سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرمانے لگے : اگر تو اس نے اسے اس لیے خریدا تھا کہ اسے نحر ( ذبح ) کرے تو پھر اس میں کوئی خیر نہیں ہے ( کیونکہ یہ ایسے ہی ہے کہ اس نے دس بکریوں کے بدلے گوشت کی بیع کی ، اور اعتبار تو نیت کا ہوتا ہے ) ، ابو زناد نے کہا کہ میں نے اہل علم میں سے جس کسی کو بھی پایا وہ سب گوشت کے بدلے جانور کی خرید و فروخت سے منع کرتے تھے ، ابو زناد نے یہ بھی کہا کہ ابان بن عثمان اور ہشام بن اسماعیل رحمۃ اللہ علیہما ( دونوں ہی مدینہ منورہ کے ( امیر رہ چکے تھے ) کے زمانے میں عاملین ( سرکاری کارندوں ) کے حکم ناموں میں یہ بات لکھی جاتی تھی ( اور ) انھیں اس ( بیع ) سے منع کیا جاتا تھا ۔