Muwatta Imam Malik #1358
[1358] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ : لَا حُکْرَۃَ فِی سُوقِنَا، لَا یَعْمِدُ رِجَالٌ بِأَیْدِیہِمْ فُضُولٌ مِنْ أَذْہَابٍ، إِلَی رِزْقٍ مِنْ رِزْقِ اللّٰہِ نَزَلَ بِسَاحَتِنَا، فَیَحْتَازُونَہُ عَلَیْنَا، فَیَحْتَکِرُونَہُ، وَلَکِنْ أَیُّمَا جَالِبٍ جَلَبَ عَلَی عَمُودِ کَبِدِہِ فِی الشِّتَائِ وَالصَّیْفِ، فَذَلِکَ ضَیْفُ عُمَرَ، فَلْیَبِعْ کَیْفَ شَائَ اللَّہُ، وَلْیُمْسِکْ کَیْفَ شَائَ اللَّہُ۔
اردو ترجمہ · Urdu
امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ بے شک حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہمارے بازار میں کوئی ذخیرہ اندوزی جائز نہیں ہے ، وہ ( مقامی ) لوگ جن کے پاس زائد سونا ( زائد نقدیاں اور روپیہ ) ہو تو وہ اللہ کے رزق میں سے کسی ایسے رزق کی طرف قصد نہ کریں جو ہمارے صحن ( علاقے اور بازار ) میں آ چکا ہو کہ پھر وہ اسے ( خرید کر ) ہمیں ( مہنگا بیچنے کے لیے ) اس کی ذخیرہ اندوزی کر لیں ، البتہ ( بیرونی جگہوں سے ) مال لانے والا شخص جو سردی و گرمی میں اپنے جگر کے ستون پر ( یعنی پشت پر اٹھا کر اور مشقت برداشت کر کے ) سامان لائے تو وہ عمر کا مہمان ہے ، وہ جیسے اللہ چاہے بیچتا رہے اور جیسے اللہ چاہے وہ اسے روکے رکھے ۔