Muwatta Imam Malik #1356
[1356] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أبِی مَرْیَمَ، أَ نَّہُ سَأَلَ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ فَقَالَ : إنِّی رَجُلٌ أَبْتَاعُ الطَّعَامَ یَکُونُ مِنَ الصُّکُوکِ بِالْجَارِ, فَرُبَّمَا ابْتَعْتُ مِنْہُ بِدِینَارٍ وَنِصْفِ دِرْہَمٍ، فَأُعْطِی بِالنِّصْفِ طَعَاماً ؟ فَقَالَ سَعِیدٌ : لَا، وَلَکِنْ أَعْطِ أَنْتَ دِرْہَماً، وَخُذْ بَقِیَّتَہُ طَعَاماً۔
اردو ترجمہ · Urdu
محمد بن عبداللہ بن ابی مریم سے روایت ہے ، انھوں نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے سوال کیا اور کہا کہ یقیناً میں ایک ایسا شخص ہوں جو ( ساحل سمندر پر واقع ) ’’ جار ‘‘ نامی جگہ میں سندوں ( اور چیکوں ) کے ذریعے ملنے والے اناج کو خریدتا ہوں ، چنانچہ بسا اوقات میں اس اناج میں سے کچھ ( حصہ ) ایک دینار اور نصف درہم کے عوض خرید لیتا ہوں ، تو کیا ( جب قیمت دینے لگوں تو ) نصف درہم کی جگہ کوئی اناج ( بدلے میں ) دے دیتا ہوں ؟ تو سعید ( بن مسیب رحمہ اللہ ) نے فرمایا : ایسا نہ کیا کرو ، بلکہ تم ( قیمت ادا کرتے وقت ) پورا ایک درہم دے دیا کرو اور باقی ماندہ نصف درہم ( جو تم نے زائد دے دیا ، اس ) کی جگہ کوئی اناج خرید لیا کرو ۔