Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 33 · Chapter 408

خرید و فروخت کے مسائل کی کتاب

عینہ اور اس جیسی بیع کا بیان اور اناج کو قبضے میں لینے سے قبل اسے آگے بیچنے کا بیان

7 hadiths in this chapter

1342

Muwatta Imam Malik #1342

Sahih

[1342] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : مَنِ ابْتَاعَ طَعَاماً، فَلَا یَبِعْہُ حَتَّی یَسْتَوْفِیَہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے اناج خریدا تو وہ اسے آگے نہ بیچے ، یہاں تک کہ اسے پورا پورا حاصل کر لے ۔‘‘

1343

Muwatta Imam Malik #1343

Sahih

[1343] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ دِینَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : مَنِ ابْتَاعَ طَعَاماً، فَلَا یَبِعْہُ حَتَّی یَقْبِضَہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ یقیناً رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے کوئی غلہ خریدا تو وہ اسے نہ بیچے یہاں تک کہ اسے قبضے میں لے لے ۔‘‘

1344

Muwatta Imam Malik #1344

Sahih

[1344] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، أَ نَّہُ قَالَ : کُنَّا فِی زَمَانِ رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ نَبْتَاعُ الطَّعَامَ، فَیَبْعَثُ عَلَیْنَا مَنْ یَأْمُرُنَا بِانْتِقَالِہِ، مِنَ الْمَکَانِ الَّذِی ابْتَعْنَاہُ فِیہِ، إِلَی مَکَانٍ سِوَاہُ، قَبْلَ أَنْ نَبِیعَہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، انھوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں اناج خریدتے تھے تو آپ ﷺ ہمارے پاس اس شخص کو ( مقرر کر کے ) بھیجتے جو ہمیں حکم دیتا کہ ہم اس غلے کو اس جگہ جس میں ہم نے اسے خریدا تھا ، سے کسی اور جگہ منتقل کر لیں ، پہلے اس سے کہ اسے آگے بیچیں ۔

1345

Muwatta Imam Malik #1345

Zaeef

[1345] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ حَکِیمَ بْنَ حِزَامٍ ابْتَاعَ طَعَاماً، أَمَرَ بِہِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِلنَّاسِ، فَبَاعَ حَکِیمٌ الطَّعَامَ قَبْلَ أَنْ یَسْتَوْفِیَہُ، فَبَلَغَ ذَلِکَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَرَدَّہُ عَلَیْہِ وَقَالَ : لَا تَبِـعْ طَعَاماً ابْتَعْتَہُ حَتَّی تَسْتَوْفِیَہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

نافع سے روایت ہے کہ حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے وہ غلہ خریدا جسے لوگوں کے لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حکم فرمایا تھا ، پھر حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے اسے پورا پورا لے لینے ( اور قبضہ کر لینے ) سے پہلے ہی اسے آگے بیچ دیا ، یہ بات حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ گئی تو انھوں نے یہ غلہ انھیں واپس دے دیا اور فرمایا : جس اناج کو بھی خریدو اسے پورا وصول کر لینے سے قبل مت بیچو ۔

1346

Muwatta Imam Malik #1346

Sahih

[1346] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ : أَنَّ صُکُوکاً خَرَجَتْ لِلنَّاسِ فِی زَمَانِ مَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ مِنْ طَعَامِ الْجَارِ، فَتَبَایَعَ النَّاسُ تِلْکَ الصُّکُوکَ بَیْنَہُمْ، قَبْلَ أَنْ یَسْتَوْفُوہَا، فَدَخَلَ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَرَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ عَلَی مَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ، فَقَالَا : أَتُحِلُّ بَیْعَ الرِّبَا یَا مَرْوَانُ ؟ فَقَالَ : أَعُوذُ بِاللَّہِ، وَمَا ذَاکَ ؟ فَقَالَا : ہَذِہِ الصُّکُوکُ تَبَایَعَہَا النَّاسُ، ثُمَّ بَاعُوہَا قَبْلَ أَنْ یَسْتَوْفُوہَا، فَبَعَثَ مَرْوَانُ الْحَرَسَ، یَتْبَعُونَہَا یَنْزِعُونَہَا مِنْ أَیْدِی النَّاسِ، وَیَرُدُّونَہَا إِلَی أَہْلِہَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ ( حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں مدینہ کے امیر اور گورنر ) مروان بن حکم رحمہ اللہ کے زمانے میں ( ساحل سمندر کے پاس ) ’’ جار ‘‘ نامی جگہ کے غلے کے متعلق لوگوں کے لیے چیک ( سندیں ) جاری ہوئے ۔ ( اس جگہ سرکاری غلے کے گودام تھے اور لوگوں کو سرکار کی طرف سے سالانہ یا ششماہی غلہ ملتا تھا ، جتنا غلہ ملنا ہوتا اس کا چیک کاٹ دیا جاتا یعنی مخصوص کاغذات پر حاکم دستخط کر دیتا ، اب کچھ لوگ وہ کاغذ جمع کروا کر اس کے عوض غلہ لے لیتے اور کچھ لوگ اس چیک کو دوسروں کے ہاتھ فروخت کر دیتے ) ، چنانچہ لوگوں نے ان ( کاغذات پر لکھے ہوئے غلے ) کو وصول کرنے سے پہلے ہی آپس میں ان کی خرید و فروخت شروع کر دی تو حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اور اصحاب رسول ﷺ میں سے ایک شخص مروان بن حکم کے پاس گئے اور دونوں نے کہا کہ اے مروان ! کیا تم سود کی بیع کو حلال قرار دیتے ہو ؟ وہ کہنے لگے : میں ( اس سے ) اللہ کی پناہ میں آتا ہوں ، ہوا کیا ہے ؟ انھوں نے بتایا کہ یہ جو چیک ہیں ، لوگ انھیں ایک دوسرے سے خریدتے ہیں ، پھر انھیں ( یعنی ان سے حاصل شدہ غلہ ) حاصل کرنے سے پہلے ہی انھیں بیچ دیتے ہیں ۔ تو مروان بن حکم نے سپاہی بھیجے جو لوگوں سے ان چیکوں کو لے لیتے اور ان کے اصل مالکوں تک انھیں لوٹا دیتے تھے ۔

1347

Muwatta Imam Malik #1347

Zaeef

[1347] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ : أَنَّ رَجُلاً أَرَادَ أَنْ یَبْتَاعَ طَعَاماً مِنْ رَجُلٍ إِلَی أَجَلٍ، فَذَہَبَ بِہِ الرَّجُلُ الَّذِی یُرِیدُ أَنْ یَبِیعَہُ الطَّعَامَ إِلَی السُّوقِ، فَجَعَلَ یُرِیہِ الصُّبَرَ وَیَقُولُ لَہُ : مِنْ أَیِّہَا تُحِبُّ أَنْ أَبْتَاعَ لَکَ ؟ فَقَالَ الْمُبْتَاعُ : أَتَبِیعُنِی مَا لَیْسَ عِنْدَکَ ؟ فَأَتَیَا عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ، فَذَکَرَا ذَلِکَ لَہُ، فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ : لِلْمُبْتَاعِ لَا تَبْتَعْ مِنْہُ مَا لَیْسَ عِنْدَہَ۔ وَقَالَ لِلْبَائِعِ : لَا تَبِـعْ مَا لَیْسَ عِنْدَکَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی سے ایک مقررہ مدت تک ( رقم کی ادائیگی کی میعاد مقرر کر کے ) غلہ خریدنے کا ارادہ کیا تو وہ دوسرا شخص جو اسے اناج بیچنا چاہتا تھا اسے بازار لے گیا اور اسے غلے کے ڈھیر دکھانے لگا اور کہنے لگا کہ تم ان میں سے کس کو پسند کرتے ہو کہ میں تیرے لیے اسے خرید لوں ( یعنی اس آدمی کے پاس خود تو کچھ بھی نہ تھا لیکن اس نے باتوں باتوں میں اپنے ساتھی کو پھنسا کر غلے کے دام طے کر لیے ) تو وہ خریدار ( پہلا شخص ) کہنے لگا کہ کیا تم مجھے وہ چیز بیچنا چاہتے ہو جو تمھارے پاس نہیں ہے ؟ ( تمھاری ملکیت میں نہیں ہے اور ایسا کرنا تو شریعت میں حرام ہے ، تو اس نے گویا بیع کے واقع ہونے ہی سے انکار کر دیا ، لیکن یہ چالاک شخص اڑ گیا اور کہنے لگا کہ چونکہ بات طے ہو چکی ہے اس لیے تمہیں مجھ سے غلہ لینا ہی پڑے گا ) ، چنانچہ وہ دونوں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور ان کے سامنے اس کا تذکرہ کیا تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس خریدار سے فرمایا : تم اس سے وہ چیز مت خریدو جو اس کے پاس ( اس کی ملکیت میں ) نہیں ہے اور بیچنے والے سے کہا کہ اسے مت بیچو وہ چیز جو تمھارے پاس نہیں ہے ۔

1348

Muwatta Imam Malik #1348

Sahih

[1348] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، أَ نَّہُ سَمِعَ جَمِیلَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُؤَذِّنَ یَقُولُ لِسَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ : إنِّی رَجُلٌ أَبْتَاعُ مِنَ الأَرْزَاقِ الَّتِی تُعْطَی النَّاسُ بِالْجَارِ مَا شَائَ اللَّہُ، ثُمَّ أُرِیدُ أَنْ أَبِیعَ الطَّعَامَ الْمَضْمُونَ عَلَیَّ إِلَی أَجَلٍ۔ فَقَالَ لَہُ سَعِیدٌ : أَتُرِیدُ أَنْ تُوَفِّیَہُمْ مِنْ تِلْکَ الأَرْزَاقِ الَّتِی ابْتَعْتَ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ۔ فَنَہَاہُ عَنْ ذَلِکَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

یحیی بن سعید رحمہ اللہ سے روایت ہے ، انھوں نے جمیل بن عبدالرحمن رحمہ اللہ کو سنا جو کہ ( مدینہ منورہ میں ) مؤذن تھے ، وہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے عرض کر رہے تھے کہ بے شک میں ایک ایسا شخص ہوں جو کہ لوگوں کو ’’ جار ‘‘ نامی جگہ پر ( سرکار کی طرف سے ) جو غلے دیے جاتے ہیں ان میں سے جتنا اللہ چاہے ( اور جتنی توفیق اور وسعت دے ) میں ( اسے ) خرید لیتا ہوں ، پھر میں چاہتا ہوں کہ میں خود ضامن بن کر اس اناج کو ( لوگوں کے ہاتھ اس مال کی ادائیگی کی ) ایک میعاد مقرر کر کے بیچ دوں ، تو سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے فرمایا : کیا تم یہی چاہتے ہو کہ لوگوں کو انھی غلوں سے ادا کرو گے جسے تم نے خریدا تھا ؟ جمیل نے کہا کہ جی ہاں ، تو انھوں نے اس کو اس سے روک دیا ۔