Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 33 · Chapter 405

خرید و فروخت کے مسائل کی کتاب

سونے کی چاندی کے بدلے بیع کا بیان ، خواہ وہ سونا ڈلی ہو یا نقدی

11 hadiths in this chapter

1329

Muwatta Imam Malik #1329

Zaeef

[1329] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، أَ نَّہُ قَالَ : أَمَرَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ السَّعْدَیْنِ أَنْ یَبِیعَا آنِیَۃً مِنَ الْمَغَانِمِ، مِنْ ذَہَبٍ أَوْ فِضَّۃٍ، فَبَاعَا کُلَّ ثَـلَاثَۃٍ بِأَرْبَعَۃٍ عَیْناً، أَوْ کُلَّ أَرْبَعَۃٍ بِثَـلَاثَۃٍ عَیْناً، فَقَالَ لَہُمَا رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : أَرْبَیْتُمَا فَرُدَّا۔

اردو ترجمہ · Urdu

یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دونوں سعد رضی اللہ عنہما کو حکم دیا کہ مال غنیمت میں آنے والے سونے یا چاندی کے برتنوں کو بیچ ڈالیں ، چنانچہ انھوں نے ہر تین ( برتنوں ) کو چار ( کے وزن کے برابر ) نقد سکوں کے عوض بیچ ڈالا یا ہر چار ( برتنوں ) کو تین ( کے وزن کے برابر ) نقد سکوں کے بدلے فروخت کر دیا ۔ راوی کو شبہ ہے ( کہ ان دونوں صورتوں میں سے کون سی تھی ) ، تو رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں سے فرمایا :’’ تم دونوں نے سود کا معاملہ کیا ، لہٰذا اسے لوٹا دو ( اور بیع رد کرو ) ۔‘‘

1330

Muwatta Imam Malik #1330

Sahih

[1330] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ مُوسَی بْنِ أبِی تَمِیمٍ، عَنْ أبِی الْحُبَابِ سَعِیدِ بْنِ یَسَارٍ، عَنْ أبِی ہُرَیْرَۃَ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : الدِّینَارُ بِالدِّینَارِ، وَالدِّرْہَمُ بِالدِّرْہَمِ، لَا فَضْلَ بَیْنَہُمَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ( جب سونے کے ) دینار کے بدلے دینار اور چاندی کے ) درہم کے بدلے درہم ( کا تبادلہ ) ہو تو ان دونوں میں کوئی تفاضل ( اور کمی بیشی جائز ) نہیں ہے ۔‘‘

1331

Muwatta Imam Malik #1331

Sahih

[1331] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ أبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : لَا تَبِیعُوا الذَّہَبَ بِالذَّہَبِ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ، وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَہَا عَلَی بَعْضٍ، وَلَا تَبِیعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ، إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ، وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَہَا عَلَی بَعْضٍ، وَلَا تَبِیعُوا مِنْہَا شَیْئاً غَائِباً بِنَاجِزٍ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سونے کو سونے کے بدلے نہ بیچو ، مگر برابر برابر اور ان میں سے کسی کو کسی پر نہ بڑھاؤ ، اور تم چاندی کو چاندی کے بدلے نہ بیچو ، مگر برابر برابر ، اور ان میں سے کسی کو کسی پر نہ بڑھاؤ اور ان میں سے غائب کو حاضر کے بدلے نہ بیچو ۔‘‘

1332

Muwatta Imam Malik #1332

Sahih

[1332] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ قَیْسٍ المَکِّیِّ، عَنْ مُجَاہِدٍ، أَ نَّہُ قَالَ : کُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، فَجَائَ ہُ صَائِغٌ فَقَالَ لَہُ: یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إنِّی أَصُوغُ الذَّہَبَ، ثُمَّ أَبِیعُ الشَّیْئَ مِنْ ذَلِکَ بِأَکْثَرَ مِنْ وَزْنِہِ، فَأَسْتَفْضِلُ مِنْ ذَلِکَ قَدْرَ عَمَلِ یَدِی۔ فَنَہَاہُ عَبْدُ اللّٰہِ عَنْ ذَلِکَ، فَجَعَلَ الصَّائِغُ یُرَدِّدُ عَلَیْہِ الْمَسْأَلَۃَ، وَعَبْدُ اللّٰہِ یَنْہَاہُ، حَتَّی انْتَہَی إِلَی بَابِ الْمَسْجِدِ، أَوْ إِلَی دَابَّۃٍ یُرِیدُ أَنْ یَرْکَبَہَا، ثُمَّ قَالَ : عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ : الدِّینَارُ بِالدِّینَارِ، وَالدِّرْہَمُ بِالدِّرْہَمِ، لَا فَضْلَ بَیْنَہُمَا، ہَذَا عَہْدُ نَبِیِّنَا إِلَیْنَا، وَعَہْدُنَا إِلَیْکُمْ۔

اردو ترجمہ · Urdu

مجاہد سے روایت ہے ، انھوں نے کہا کہ میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ہمراہ تھا ، ان کے پاس ایک زرگر ( سنار ، سونا ڈھالنے والا ) آیا ، وہ ( حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو ان کی کنیت سے مخاطب کر کے ) کہنے لگا کہ اے ابوعبدالرحمن ! میں سونا ڈھالتا ہوں ، پھر میں اس سونے سے تیار شدہ کسی چیز کو اس سے زائد وزن کے ( سونے کے ) عوض بیچ دیتا ہوں ، چنانچہ میں اس بیع میں اپنے ہاتھ کی محنت کے بقدر زائد سونا وصول کرتا ہوں ، تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے منع کر دیا ، پھر وہ سنار شروع ہوا اور بار بار ان سے یہی سوال کرنے لگا اور حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ اسے منع کرتے رہے ، یہاں تک کہ وہ مسجد کے دروازے تک پہنچ گئے یا اس جانور کے پاس پہنچ گئے جس پر وہ سواری کا ارادہ رکھتے تھے ، پھر حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : دینار ، دینار کے بدلے اور درہم درہم کے بدلے ہو تو ان میں کوئی کمی بیشی درست نہیں ہے ، یہ ہمارے نبی ﷺ کی ہمیں وصیت ہے اور تمہیں بھی ہماری یہی وصیت ہے ۔

1333

Muwatta Imam Malik #1333

Sahih

[1333] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ، عَنْ جَدِّہِ مَالِکِ بْنِ أبِی عَامِرٍ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ قَالَ : قَالَ لِی رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : لَا تَبِیعُوا الدِّینَارَ بِالدِّینَارَیْنِ, وَلَا الدِّرْہَمَ بِالدِّرْہَمَیْنِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا تھا :’’ ایک دینار کو دو دیناروں کے بدلے نہ بیچو اور نہ ہی ایک درہم کو دو درہموں کے بدلے بیچو ۔‘‘

1334

Muwatta Imam Malik #1334

Sahih

[1334] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ: أَنَّ مُعَاوِیَۃَ بْنَ أبِی سُفْیَانَ بَاعَ سِقَایَۃً مِنْ ذَہَبٍ، أَوْ وَرِقٍ بِأَکْثَرَ مِنْ وَزْنِہَا، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَائِ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ یَنْہَی عَنْ مِثْلِ ہَذَا : إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ۔ فَقَالَ لَہُ مُعَاوِیَۃُ: مَا أَرَی بِمِثْلِ ہَذَا بَأْساً۔ فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَائِ : مَنْ یَعْذِرُنِی مِنْ مُعَاوِیَۃَ، أَنَا أُخْبِرُہُ عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ ، وَیُخْبِرُنِی عَنْ رَأْیِہِ، لَا أُسَاکِنُکَ بِأَرْضٍ أَنْتَ بِہَا، ثُمَّ قَدِمَ أَبُو الدَّرْدَائِ عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ, فَذَکَرَ ذَلِکَ لَہُ, فَکَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَی مُعَاوِیَۃَ أَنْ لَا تَبِیعَ ذَلِکَ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ، وَزْناً بِوَزْنٍ۔

اردو ترجمہ · Urdu

عطاء بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے سونے یا چاندی سے بنا ہوا ایک پینے کا برتن ، اس سے زائد وزن ( کے سونے یا چاندی ) کے عوض خریدا تو حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ ان سے کہنے لگے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا ، آپ ﷺ اس طرح کرنے سے منع فرما رہے تھے ، الا یہ کہ ( دونوں جانب کا سونا یا چاندی ) برابر برابر ہو ۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ان سے کہنے لگے کہ میں تو اس طرح کے تبادلے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتا ، تو حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ فرمانے لگے : کون ہے جو معاویہ کے معاملے میں مجھے معذور جانے ؟ ( یعنی اگر میں انھیں کچھ ملامت کروں تو وہ مجھے دفاع حدیث کی بنا پر مجرم نہ سمجھے یا کون ہے جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں میری مدد کرے ؟ ) میں انھیں رسول اللہ ﷺ سے ( سنی ہوئی ) حدیث کی خبر دے رہا ہوں اور وہ مجھے اپنی رائے سے بتا رہے ہیں ، میں آپ کے ساتھ اس زمین میں نہیں رہوں گا جہاں آپ ہوں گے ، پھر حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ ( ملک شام سے مدینہ منورہ میں ) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آ گئے اور ان کے سامنے اس کا تذکرہ کیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا کہ وہ اس طرح کی ( سونے یا چاندی کے باہمی تبادلے والی ) بیع نہ کیا کریں ، الا یہ کہ وہ وزن میں برابر برابر ہو ۔

1335

Muwatta Imam Malik #1335

Sahih

[1335] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ : لَا تَبِیعُوا الذَّہَبَ بِالذَّہَبِ، إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ، وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَہَا عَلَی بَعْضٍ، وَلَا تَبِیعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ، وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَہَا عَلَی بَعْضٍ، وَلَا تَبِیعُوا الْوَرِقَ بِالذَّہَبِ، أَحَدُہُمَا غَائِبٌ، وَالآخَرُ نَاجِزٌ، وَإِنِ اسْتَنْظَرَکَ إِلَی أَنْ یَلِجَ بَیْتَہُ فَلَا تُنْظِرْہُ، إنِّی أَخَافُ عَلَیْکُمُ الرَّمَائَ۔ وَالرَّمَائُ ہُوَ الرِّبَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بے شک حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : سونے کو سونے کے بدلے نہ بیچا کرو مگر برابر برابر ، اور ان میں سے کسی کو کسی پر مت بڑھاؤ ، اور چاندی کو چاندی کے بدلے مت بیچا کرو مگر برابر برابر ، اور ان ( دونوں جانب کی چاندی ) میں سے کسی کو کسی پر نہ بڑھاؤ ، اور نہ ہی تم چاندی کو سونے کے بدلے اس طرح بیچو کہ ان میں سے ایک چیز غائب ہو اور دوسری حاضر ہو ، اور اگر وہ ( تمھارے ساتھ اسی طرح کا سودا کرنے والا ) تم سے اپنے گھر میں داخل ہونے کی مہلت ہی مانگ لے ( مثلاً وہ کہے کہ میں اپنا سونا گھر سے ابھی پکڑ کر لاتا ہوں ) تو اسے مہلت نہ دو ، کیونکہ بلاشبہ میں تم پر ’’ رماء ‘‘ سے ڈرتا ہوں ، اور رماء سے مراد سود ہے ۔ ( یہ اتنی سی تاخیر بھی اس معاملے کو سود بنا دے گی ) ۔

1336

Muwatta Imam Malik #1336

Sahih

[1336] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ دِینَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ, أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ : لَا تَبِیعُوا الذَّہَبَ بِالذَّہَبِ : إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ، وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَہَا عَلَی بَعْضٍ، وَلَا تَبِیعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ، إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ، وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَہَا عَلَی بَعْضٍ، وَلَا تَبِیعُوا شَیْئاً مِنْہَا، غَائِباً بِنَاجِزٍ۔ وَإِنِ اسْتَنْظَرَکَ إِلَی أَنْ یَلِجَ بَیْتَہُ فَلَا تُنْظِرْہُ، إنِّی أَخَافُ عَلَیْکُمُ الرَّمَائَ۔ وَالرَّمَائُ ہُوَ الرِّبَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بے شک حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : سونے کو سونے کے بدلے نہ بیچو مگر برابر برابر ، اور اس میں سے کسی کو کسی پر نہ بڑھاؤ ، اور چاندی کے بدلے چاندی نہ بیچو مگر برابر برابر ، اور اس میں سے کسی کو کسی پر زیادہ نہ کرو ، اور ان میں سے کسی بھی غائب چیز کو حاضر کے بدلے نہ بیچو ( بلکہ نقد و نقد سودا کرو ) اور اگر وہ تجھ سے اپنے گھر میں داخل ہونے ہی کی مہلت مانگے تو بھی اسے مہلت نہ دینا ، کیونکہ میں تم پر ’’ رماء ‘‘ کے واقع ہو جانے سے ڈرتا ہوں اور رماء سے مراد سود ہے ۔

1337

Muwatta Imam Malik #1337

Zaeef

[1337] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَ نَّہُ قَالَ : قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : الدِّینَارُ بِالدِّینَارِ، وَالدِّرْہَمُ بِالدِّرْہَمِ، وَالصَّاعُ بِالصَّاعِ، وَلَا یُبَاعُ کَالِیٌٔ بِنَاجِزٍ۔

اردو ترجمہ · Urdu

قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ایک دینار ایک دینار ہی کے بدلے ہو گا ، ایک درہم ایک درہم کے بدلے اور ایک صاع ایک صاع کے بدلے ہو گا اور ( ان میں سے کسی ) مؤخر چیز کو کسی حاضر کے بدلے نہ بیچا جائے ۔

1338

Muwatta Imam Malik #1338

Sahih

[1338] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ أبِی الزِّنَادِ، أَنَّہُ سَمِعَ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ یَقُولُ : لَا رِباً إِلاَّ فِی ذَہَبٍ أَوْ فِضَّۃٍ، أَوْ مَا یُکَالُ أَوْ یُوزَنُ، بِمَا یُؤْکَلُ أَوْ یُشْرَبُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

ابوزناد سے روایت ہے کہ انھوں نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ( کمی بیشی اور ادھار والا ) سود تو صرف اور صرف سونے میں ہوتا ہے یا چاندی میں یا اس چیز میں جسے ماپا جائے یا تولا جائے ، ان اشیاء میں سے کہ جنھیں کھایا یا پیا جاتا ہے ۔

1339

Muwatta Imam Malik #1339

Sahih

[1339] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ : أَ نَّہُ سَمِعَ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ یَقُولُ : قَطْعُ الذَّہَبِ وَالْوَرِقِ مِنَ الْفَسَادِ فِی الأَرْضِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

یحیی بن سعید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انھوں نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : سونے اور چاندی ( کے سکوں ) کو توڑنا زمین میں فساد مچانے میں شامل ہے ۔