Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 33 · Chapter 403

خرید و فروخت کے مسائل کی کتاب

کھجوروں کی مکروہ ( ناجائز ) خرید و فروخت کا بیان

3 hadiths in this chapter

1323

Muwatta Imam Malik #1323

Sahih

[1323] حَدَّثَنِی یَحْیَی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ أَ نَّہُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : التَّمْرُ بِالتَّمْرِ مِثْلاً بِمِثْلٍ ۔ فَقِیلَ لَہُ : إِنَّ عَامِلَکَ عَلَی خَیْبَرَ یَأْخُذُ الصَّاعَ بِالصَّاعَیْنِ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : ادْعُوہُ لِی ۔ فَدُعِیَ لَہُ، فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : أَتَأْخُذُ الصَّاعَ بِالصَّاعَیْنِ ؟۔ فَقَالَ، یَا رَسُولَ اللّٰہِ لاَ یَبِیعُونَنِی الْجَنِیبَ بِالْجَمْعِ صَاعاً بِصَاعٍ۔ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : بِعِ الْجَمْعَ بِالدَّرَاہِمِ، ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاہِمِ جَنِیباً۔

اردو ترجمہ · Urdu

عطاء بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کھجور ، کھجور کے بدلے برابر برابر ( بیچی جائے ) ۔‘‘ تو آپ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ خیبر پر مقرر آپ کا عامل ( زکاۃ اکٹھی کرنے والا شخص ) تو دو صاع ( گھٹیا کھجوروں ) کے عوض ایک صاع ( اعلیٰ کھجوریں ) لیتا ہے ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے میرے سامنے بلا لاؤ ۔‘‘ چنانچہ لوگ اسے آپ ﷺ کے لیے بلا لائے ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم دو صاع کے بدلے ایک صاع لیتے ہو ؟‘‘ اس نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! وہ مجھے جمع شدہ ( مکس یا دھڑے کے مال والی گھٹیا ) کھجور کے بدلے جنیب ( نامی اعلیٰ کھجور ) کو صاع کے بدلے صاع کے حساب سے نہیں بیچتے ، ( اسی لیے میں ان ملی جلی کھجوروں کے دو صاع کے عوض ایک صاع اعلیٰ کھجور لے لیتا ہوں ) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جمع شدہ ملی جلی کھجوروں کو درہموں کے عوض بیچا کرو ، پھر درہموں کے عوض جنیب ( نامی اعلیٰ کوالٹی کی ) کھجوریں خرید لیا کرو ۔‘‘

1324

Muwatta Imam Malik #1324

Sahih

[1324] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِیدِ بْنِ سُہَیْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ، عَنْ أبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ، وَعَنْ أبِی ہُرَیْرَۃَ : أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ اسْتَعْمَلَ رَجُلاً عَلَی خَیْبَرَ، فَجَائَ ہُ بِتَمْرٍ جَنِیبٍ، فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : أَکُلُّ تَمْرِ خَیْبَرَ ہَکَذَا ؟۔ فَقَالَ : لاَ وَاللّٰہِ یَا رَسُولَ اللَّہِ، إِنَّا لَنَأْخُذُ الصَّاعَ مِنْ ہَذَا، بِالصَّاعَیْنِ وَالصَّاعَیْنِ بِالثَّلاَثَۃِ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : لاَ تَفْعَلْ، بِعِ الْجَمْعَ بِالدَّرَاہِمِ، ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاہِمِ جَنِیباً۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوسعید خدری اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ یقیناً رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص ( حضرت سواد بن غزیہ رضی اللہ عنہ ) کو خیبر پر عامل ( زکاۃ وصول کرنے والا ) بنا کر بھیجا ، سو وہ آپ ﷺ کے پاس جنیب ( عمدہ قسم کی ) کھجوریں لے کر آیا ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا خیبر کی تمام کھجوریں اسی طرح کی ہیں ؟‘‘ انھوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! نہیں ، ( بلکہ ) بلاشبہ ہم تو دو صاع ( گھٹیا کھجوروں ) کے عوض اس ( عمدہ کھجور ) کا ایک صاع اور تین کے بدلے دو صاع لیتے رہے ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ایسا نہ کرو ، ( بلکہ ) جمع شدہ ( ملی جلی اور ردی ) کھجوروں کو درہموں کے بدلے بیچ ڈالو ، پھر درہموں کے عوض جنیب کھجور خرید لیا کرو ۔‘‘

1325

Muwatta Imam Malik #1325

Sahih

[1325] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ یَزِیدَ، أَنَّ زَیْداً أَبَا عَیَّاشٍ أَخْبَرَہُ، أَ نَّہُ سَأَلَ سَعْدَ بْنَ أبِی وَقَّاصٍ عَنِ الْبَیْضَائِ بِالسُّلْتِ، فَقَالَ لَہُ سَعْدٌ : أَ یَّتُہُمَا أَفْضَلُ ؟ قَالَ : الْبَیْضَائُ۔ فَنَہَاہُ عَنْ ذَلِکَ۔ وَقَالَ سَعْدٌ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ یُسْأَلُ عَنِ اشْتِرَائِ التَّمْرِ بِالرُّطَبِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : أَیَنْقُصُ الرُّطَبُ إِذَا یَبِسَ ؟۔ فَقَالُوا : نَعَمْ۔ فَنَہَی عَنْ ذَلِکَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

زید ابو عیاش رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انھوں نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے ’’ سلت ‘‘ کے بدلے ’’ بیضاء ‘‘ خریدنے کے متعلق سوال کیا ، تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ ان میں سے افضل کون سی قسم ہے ؟ انھوں نے کہا کہ بیضاء ، تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے انھیں اس سے منع کر دیا اور ( پھر ) حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا ، آپ ﷺ سے تر کھجور کے بدلے خشک کھجور خریدنے کے متعلق سوال کیا جا رہا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا :’’ کیا یہ تر کھجور جب خشک ہوتی ہے تو وزن میں کم ہو جاتی ہے ؟‘‘ لوگوں نے عرض کیا کہ جی ہاں ، تو آپ ﷺ نے اس سے منع فرما دیا ۔