Muwatta Imam Malik #1323
[1323] حَدَّثَنِی یَحْیَی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ أَ نَّہُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : التَّمْرُ بِالتَّمْرِ مِثْلاً بِمِثْلٍ ۔ فَقِیلَ لَہُ : إِنَّ عَامِلَکَ عَلَی خَیْبَرَ یَأْخُذُ الصَّاعَ بِالصَّاعَیْنِ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : ادْعُوہُ لِی ۔ فَدُعِیَ لَہُ، فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : أَتَأْخُذُ الصَّاعَ بِالصَّاعَیْنِ ؟۔ فَقَالَ، یَا رَسُولَ اللّٰہِ لاَ یَبِیعُونَنِی الْجَنِیبَ بِالْجَمْعِ صَاعاً بِصَاعٍ۔ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : بِعِ الْجَمْعَ بِالدَّرَاہِمِ، ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاہِمِ جَنِیباً۔
اردو ترجمہ · Urdu
عطاء بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کھجور ، کھجور کے بدلے برابر برابر ( بیچی جائے ) ۔‘‘ تو آپ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ خیبر پر مقرر آپ کا عامل ( زکاۃ اکٹھی کرنے والا شخص ) تو دو صاع ( گھٹیا کھجوروں ) کے عوض ایک صاع ( اعلیٰ کھجوریں ) لیتا ہے ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے میرے سامنے بلا لاؤ ۔‘‘ چنانچہ لوگ اسے آپ ﷺ کے لیے بلا لائے ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم دو صاع کے بدلے ایک صاع لیتے ہو ؟‘‘ اس نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! وہ مجھے جمع شدہ ( مکس یا دھڑے کے مال والی گھٹیا ) کھجور کے بدلے جنیب ( نامی اعلیٰ کھجور ) کو صاع کے بدلے صاع کے حساب سے نہیں بیچتے ، ( اسی لیے میں ان ملی جلی کھجوروں کے دو صاع کے عوض ایک صاع اعلیٰ کھجور لے لیتا ہوں ) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جمع شدہ ملی جلی کھجوروں کو درہموں کے عوض بیچا کرو ، پھر درہموں کے عوض جنیب ( نامی اعلیٰ کوالٹی کی ) کھجوریں خرید لیا کرو ۔‘‘