Muwatta Imam Malik #1318
[1318] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ أبِی الرِّجَالِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ, عَنْ أُمِّہِ عَمْرَۃَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَ نَّہُ سَمِعَہَا تَقُولُ : ابْتَاعَ رَجُلٌ ثَمَرَ حَائِطٍ فِی زَمَانِ رَسُولِ اللَّہِ ﷺ ، فَعَالَجَہُ وَقَامَ فِیہِ، حَتَّی تَبَیَّنَ لَہُ النُّقْصَانُ، فَسَأَلَ رَبَّ الْحَائِطِ أَنْ یَضَعَ لَہُ، أَوْ أَنْ یُقِیلَہُ، فَحَلَفَ أَنْ لاَ یَفْعَلَ، فَذَہَبَتْ أُمُّ الْمُشْتَرِی إِلَی رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ ، فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لَہُ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : تَأَلَّی أَنْ لاَ یَفْعَلَ خَیْراً۔ فَسَمِعَ بِذَلِکَ رَبُّ الْحَائِطِ، فَأَتَی رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ ہُوَ لَہُ۔
اردو ترجمہ · Urdu
عمرہ بنت عبدالرحمن رحمہ اللہ سے روایت ہے ، وہ فرماتی تھیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک باغ کا پھل خریدا ، پس وہ اس کی درستی میں مصروف رہا اور اس میں لگا رہا ، یہاں تک کہ ( ایک ایسی آفت آ گئی جس سے ) اس کو واضح نقصان نظر آنے لگا ، چنانچہ اس نے باغ کے مالک سے درخواست کی کہ وہ اس کے لیے ( کچھ قیمت ) معاف کر دے یا بیع ہی فسخ کر دے ، ( لیکن ) اس بائع نے قسم کھا لی کہ وہ ایسا نہیں کرے گا ، سو خریدار کی والدہ رسول اللہ ﷺ کے پاس چلی گئیں اور آپ ﷺ کے سامنے اس معاملے کا ذکر کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’ اس نے یہ قسم کھا لی ہے کہ وہ بھلائی کا کام نہیں کرے گا ۔‘‘ چنانچہ باغ کے مالک نے یہ بات سنی تو رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے اللہ کے رسول ! یہ ( دونوں کاموں میں سے ایک ) اس کے لیے ( مجھے قبول ) ہے ۔