Muwatta Imam Malik #1307
[1307] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، أَنَّ عُبَیْدَ اللّٰہِ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُتْبَۃَ بْنِ مَسْعُودٍ أَخْبَرَہُ : أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ مَسْعُودٍ ابْتَاعَ جَارِیَۃً مِنِ امْرَأَتِہِ زَیْنَبَ الثَّقَفِیَّۃِ، وَاشْتَرَطَتْ عَلَیْہِ أَ نَّکَ إِنْ بِعْتَہَا، فَہِیَ لِی بِالثَّمَنِ الَّذِی تَبِیعُہَا بِہِ، فَسَأَلَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مَسْعُودٍ عَنْ ذَلِکَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : لاَ تَقْرَبْہَا وَفِیہَا شَرْطٌ لأَحَدٍ۔
اردو ترجمہ · Urdu
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی حضرت زینب ثقفیہ رضی اللہ عنہا سے ایک لونڈی خریدی ، ان کی بیوی نے ان پر یہ شرط لگائی کہ اگر آپ نے اسے بیچا تو یہ میرے لیے ہو گی ، اسی قیمت کے ساتھ جس کے عوض آپ اسے بیچیں گے ، چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس کے متعلق حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انھوں نے فرمایا : اس کے قریب نہ جانا ( اس سے مباشرت نہ کرنا ) اس حال میں کہ اس میں کسی کی کوئی شرط ہو ۔