Muwatta Imam Malik #1306
[1306] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ، أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ بَاعَ غُلاَماً لَہُ بِثَمَانِ مِئَۃِ دِرْہَمٍ، وَبَاعَہُ بِالْبَرَائَ ۃِ، فَقَالَ الَّذِی ابْتَاعَہُ لِعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ : بِالْغُلاَمِ دَائٌ لَمْ تُسَمِّہِ لِی۔ فَاخْتَصَمَا إِلَی عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ۔ فَقَالَ الرَّجُلُ : بَاعَنِی عَبْداً وَبِہِ دَائٌ لَمْ یُسَمِّہِ لِی۔ وَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ : بِعْتُہُ بِالْبَرَائَ ۃِ۔ فَقَضَی عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، عَلَی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ أَنْ یَحْلِفَ لَہُ، لَقَدْ بَاعَہُ الْعَبْدَ وَمَا بِہِ دَائٌ یَعْلَمُہُ، فَأَبَی عَبْدُ اللّٰہِ أَنْ یَحْلِفَ، وَارْتَجَعَ الْعَبْدَ، فَصَحَّ عِنْدَہُ، فَبَاعَہُ عَبْدُ اللّٰہِ بَعْدَ ذَلِکَ بِأَلْفٍ وَخَمْسِ مِئَۃِ دِرْہَمٍ۔
اردو ترجمہ · Urdu
سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک ( ان کے والد ) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنا ایک غلام آٹھ سو درہم کے بدلے بیچا اور اسے براءت کی شرط پر فروخت کیا ( کہ ابھی اچھی طرح دیکھ لو ، بعد میں اس میں کسی عیب کے ظاہر ہو جانے کی صورت میں انھوں نے خود کو اس سے بری کر لیا اور کہہ دیا کہ سودا فسخ نہ ہو گا ، کچھ عرصہ بعد ) پھر وہ شخص جس نے اسے خریدا تھا ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہنے لگا کہ اس غلام میں ( پہلے سے ) ایک بیماری تھی جس کا آپ نے مجھ سے ذکر نہ کیا تھا ۔ چنانچہ وہ دونوں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس اپنا جھگڑا لائے ، وہ شخص ( ان سے ) کہنے لگا کہ انھوں نے مجھے ایک غلام بیچا تھا جس میں ایک بیماری تھی اور انھوں نے مجھے اس کا نہیں بتایا تھا ، اور حضرت عبداللہ ( بن عمر ) رضی اللہ عنہما نے عرض کیا کہ میں نے تو اسے براءت کی شرط پر بیچا تھا ، ( لیکن ) پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے متعلق یہ فیصلہ سنایا کہ وہ اس شخص کو یہ قسم دیں کہ یقیناً انھوں نے اسے یہ غلام اس حال میں بیچا تھا کہ اس میں کوئی ایسی بیماری نہ تھی جس کو وہ جانتے ہوں ، تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے قسم کھانے سے انکار کر دیا اور غلام واپس لے لیا ، پھر وہ غلام ان کے پاس صحت مند ہو گیا تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے پندرہ سو درہم کے عوض فروخت کر دیا ۔